ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی، بھارت
ما سوا تیرے مری جان و جگر شام کے بعد
مجھ کو کچھ بھی نہیں آتا ہے نظر شام کے بعد
میرے کمرے میں بھی اگتا ہے قمر شام کے بعد
اور شانے پہ مرے رکھتا ہے سر شام کے بعد
گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ جکڑ لیتے ہیں
بحرِ جذبات کے پر پیچ بھنور شام کے بعد
سارا دن دوڑتا رہتا ہوں برائے روزی
میری تخئیل کا ہوتا ہے سفر شام کے بعد
جس طرف پڑتا ہے اس حور و پری وش کا گھر
کس لئے جاتے ہو تم روز ادھر شام کے بعد
فکرِ فردا مری نیندوں کو اڑا دیتی ہے
روز ہو جاتی ہے میری تو سحر شام کے بعد
اہلِ فن دیکھ کے جن کو دھنیں سر کو اپنے
اس میں آ جاتے ہیں کچھ ایسے ہنر شام کے بعد
ان سے جھگڑا تو مرا صبح پہر میں تھا ہوا
نبض ہے میری مگر زیر و زبر شام کے بعد
اپنے من چاہے کسی یار کی قربت کے طفیل
زندگی اصل میں ہوتی ہے بسر شام کے بعد
جھانکنے آتا ہے جب چاند سے رخ والا وہ
جگمگا اٹھتے ہیں سب روزنِ در شام کے بعد
Post Views: 391
Share this post:

