مشاعرہ میں ممتاز شاعر ڈاکٹر رفیق سوداگر صدر انجمن ترقی اردو ہند یادگیر کی چوتھی کتاب دوہوں کا مجموعہ ّسچائی کی دھوپ ّ کی تقریب رسم اجراء بھی عمل میں آئی۔
از: سید ساجد حیات یادگیر
انجمن ترقی اردو ہند یادگیر کے زیر اہتمام31 مئی 2025 سوداگر فنکشن ہال ملت نگر روبرو لمبنی پارک یادگیر میں ممتاز شاعر ڈاکٹر رفیق سوداگر صدر انجمن ترقی اردو ہند یادگیر کی چوتھی کتاب دوہوں کا مجموعہ ّسچائی کی دھوپ ّ کی تقریب رسم اجراء کے موقع پرکل ہند مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرے کی صدارت بزرگ شاعر ظہیر رانی بنور نے فرمائی، جبکہ عالمی شہرت یافتہ ناظم مشاعرہ و شاعر شفیق عابدی نے مشاعرے کی نظامت کی۔ ملک کے مختلف مقامات کے شعراء نے اپنا اپنا کلام پیش کیا، باذوق سامعین کی کثیر تعداد رات ڈھائی بجے مشاعرے کے اختتام تک مو جود رہی، اس کامیاب کل ہند مشاعرے کی جھلکیاں پیش ہے:
یادگیر کے کہنہ مشق شاعر مرحوم فضل افضل کےفرزند و نوجوان شاعر تجمل افضل کے کلام سے مشاعرے کا آغاز ہوا، ان کے اشعار یوں ہیں
زرہ سنئے یہاں دیکھئے بات تو کرئیے حضور۔
زیر زمین سب پریشاں ہے پھر یہ کیسا غرور۔
اس کے بعد علم و ادب کی سرزمین رنگم پیٹ(تماپور) کے جواں سال شاعر اوصاف مجاہد تماپوری مائیک پر آئے اور اپنا کلام سنایا، انکاکلام یہ ہے،
شعلہ عشق کو ہوا دی ہے۔
تم نے کس جرم کی سزا دی ہے۔
ہرمصیبت میں ہر مسرت میں۔
میرے دل نے تجھے صدا دی ہے
اس کےبعد ناظم مشاعرہ نے کنڑا میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے مقامی شاعرخادم اظہر یادگیری جنکا پہلا مجموعہ شریک سفر بہت جلد منظر عام پر آنے والا ہے کو دعوت دی، خادم اظہر یادگیری کے ان اشعار کو بے حد پسند کیا گیا
کب لکھیریں ستارے پڑتا ہوں۔
میں نظر سے نظارے پڑتا ہوں۔
آنکھ والوں کی رہمنائی ہے۔
وقت کے سب اشارے پڑتا ہوں۔
ان کے بعد درس وتدریس سے وابستہ جو ایک اچھے ناظم بھی ہیں بسواکلیان سے آئے ہوئے شاعر مسرور نظامی کو مائیک پر بلا یا گیا، انکے چند اشعار پیش ہیں،
رنگ خوشبودھنک چانداور چاندنی۔
استعارے سبھی تجھ پے وارے گئے۔
عشق مہرو وفا اور محبت جنوں۔
روگ دنیا سے جتنے تھے پیارے گئے۔
اس کے بعد رائچور سے آئے ہوئے بے باک صحافی، نیوز اینکر و طنز ومزاح شاعر عرفان رائچوری نے مائیک سنبھالا اور داد بٹوری۔
سنانے کو آئیوں میں یاراں کو سناتوں۔
پڑے لکھے نہی سنے تو گنواراں کو سناتوں۔
اگر بور ہوکر بھاگ جائے گنوار بھی۔
سناناہے مرا کام دیواراں کو سناتوں۔
اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے اس کل ہند مشاعرے کے نوشہ اور سچائی کی دھوپ کے تخلیق کار ممتاز شاعر و صدر انجمن تر قی اردو ہند یادگیر ڈاکٹر رفیق سوداگر کو دعوت دی، انکے اس کلام کو خوب سراہا گیا،
نیا فتنہ جگایا جا رہا ہے۔
غریبوں کو ستایا جا رہا ہے۔
عجب ہے وقت میری زندگی کا۔
مجھے مجھ سے ملایا جا رہا ہے۔
ان کے بعد روحانی علمی و ادبی سرزمین شہر گلبرگہ سے آئے ہوئے منفرد انداز کے شاعر نور الدین نور نے اپنا کلام پیش کیا، جس کے کچھ اشعار یوں ہیں،
عذاب اور آزمائش سے گذاری جا تی ہیں قومیں۔
کمال دست قدرت سے سنوارتی جاتی ہیں قومیں۔
جہاں پر راج کر تی ہیں سنبھل کر متحد ہو کر۔
زمیں پر منتشر ہو کر ہی ماری جاتی ہیں قومیں۔
ناظم مشاعرہ نے ممبئی سے آئے ہو ئے اس کل ہند مشاعرے کی واحد شاعرہ سہانہ ناز کو مائیک پر مدعو کیا، اور انکے ان اشعار کو پسند کیا گیا
اپنی تنہائیوں سے ڈرتی ہوں۔
غم کی پر چھائیوں سے ڈرتی ہوں۔
مجھ کو شہرت کا اشتیاق نہیں۔
تیری رسوائیوں سے ڈرتی ہوں۔
ان کے بعد ملک گیر شہرت یافتہ شاعر حامد بھساولی مہاراشٹرا نے مائیک سنبھالا اور خوب داد حاصل کی،انکے یہ اشعار محفل پر چھاگئے
حاسد لگے ہو ئے ہیں اسی ایک سراغ میں۔
آتا کہاں سے تیل ہے اس کے چراغ میں۔
دو چار شعر پر انہیں کچھ داد کیا ملی۔
وہ عیب ڈھونڈنے لگے غالب میں داغ میں۔
اس کے بعد مائیک پر طنز و مزاح کے معروف شاعر وحید پاشاہ قادری حیدرآباد مائیک پر آئے اور طنزیہ کلام سلولی سلولی سنا کر سامعین کو قہقہ لگانے پر مجبور کر دیا
اس کے بعد خوبصورت لب ولہجہ کے ممتاز شاعر سردار سلیم حیدرآباد کو مائیک پر بلایا گیا اور انہیں بار بار سنا گیا، ان کے کچھ بہترین اشعار یہ ہیں
آسماں چھونے کے جذبے کو سمجھ سکتا ہے۔
ایک پر ندہ ہی پر ندے کو سمجھ سکتا ہے۔
حسن والے ہی اگر اردو سے رہے نہ واقف۔
کون پھر عشق کے لہجے کو سمجھ سکتا ہے۔
سردار سلیم اپنی جگہ لینے سے پہلے ناظم مشاعرہ شفیق عابدی کو دعوت دی کہ وہ اپنا کلام سنائیں، اور شفیق عابدی کے سنائے ہو ئے اشعار کچھ اسطرح ہیں
جو نہ سمجھا اپنے ہی ایمان کو۔
کیوں برا کہتا ہے وہ شیطان کو۔
کانپتے ہے دیکھ کر زہریلے سانپ۔
جب انسان ڈستا ہے انسان کو۔
ان کے بعد تقریبا بیس سے زائد ممالک میں کلام سناچکے ممتاز و مترنم شاعر الطاف ضیاء مالیگاؤں مہاراشٹرا کو دعوت سخن دی گئی اور انہوں نے ترنم میں اپنا کلام سنایا،
بڑی مشکل سے میں رستہ ہوا تھا۔
یہ سکہ مرا ہی پھینکا ہوا تھا۔
تعاقب کر تے کر تے تھک گئے سب۔
میری آواز کا پیچھا ہوا تھا۔
اس کے بعد بزرگ شاعرنور آ فاقی محبوب نگر تلنگانہ مائیک پر آئے اور اپنا کلام سنا یا، انکے چند اشعار یہ ہیں،
احباب جو ہنس ہنس کے ملا کر تے ہیں۔
ان میں بھی ریا کار رہا کر تے ہیں۔
ہر بات نور زرہ سنبھل کر کہنا۔
سیل فون کے بھی کان ہوا کرتےہیں۔
ممبئی سے آئے ہوئے منفرانداز کے بہترین شاعرشمیم عباس نے اپنا کلام سنا یا اور انہیں خوب سنا گیا
دل میں جو ہے وہی زبان پہ ہے۔
اورکوئی ہم میں خاص بات نہیں۔
ایک تعلق سبھی سے ہے لیکن۔
سب سے جائز تعلقات نہیں۔
صدر مشاعرہ ظہیر رانی بنور کے کلام کے بعد اس کل ہند مشاعرے کا کامیاب اختتام عمل میں آیا
تیری جفا نہ تیری دشمنی سے ڈرتا ہوں۔
مگر یہ سچ ہے تیری دوستی سے ڈرتا ہوں۔
کہیں نہ چھوڑ دے مقتل پہ لاکہ تو مجھوکو۔
اے راہبر میں تیری رہبری سے ڈرتا ہوں۔
