بنگلورو۔ 19؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): کہا جاتا ہے کہ دھرمستھلا میں لڑکیوں کی عصمت دری اورانھیں قتل کیا گیا، اور یہ ملک کا سب سے سنگین معاملہ ہے۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر جناب طاہر حسین ایڈوکیٹ نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت کو اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور ایس آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیے، تاکہ مناسب تحقیقات کے بعد سچائی سامنے لائی جاسکے۔ اگرچہ کہ ایک گمنام شخص نے ثبوت کے ساتھ شکایت درج کروائی ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دھرمستھلا میں سینکڑوں لڑکیوں کی لاشیں دفن کی گئی ہیں، حکومت تحقیقات کرنے سے کترا رہی ہے۔ حالانکہ جس شخص کو کارروائیوں کا ایک اہم گواہ سمجھا جاتا ہے اس نے ذاتی طور پرخود حاضر ہوکرڈی کے کے ایس پی کے سامنے شکایت درج کرائی ہے۔ کیا ریاستی وزیر داخلہ کی اب تک کی خاموشی دھرمستھلا کے بااثر لوگوں کو بچانے کی علامت ہے؟ فیس بک پوسٹوں کے معاملے میں راتوں رات گھروں میں گھس کر گرفتاریاں کرنے میں محکمہ پولیس کی سرگرمی سب پر عیاں ہے اور دھرمستھلا کے سلسلہ وار قتل کے واقعات میں اس کی بے عملی سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیا بااثر افراد کی ایماء پر ہونے والی ہلاکتوں اور مصائب کے لیے عام لوگوں کو انصاف سے محروم کیا جا رہا ہے؟ طاہر حسین ایڈوکیٹ نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کرے۔حکومت کے اس اقدام نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کو جلد از جلد ایس آئی ٹی کے حوالے کیا جانا چاہئے اور مجرموں کوفوری سزا ملنی چاہئے۔
