گلبرگہ یونیورسٹی کی حالَتِ زار پر پروفیسر بسواراج کمنور کا کلیان کرناٹک کے قائدین پر سوالیہ نشان 

کلبرگی 13 / اگسٹ  (ڈاکٹر ماجد داغی): ممتاز ماہرِ معاشیات پروفیسر بسواراج کمنور ریٹائرڈ پرنسپل، کلبرگی گلبرگہ یونیورسٹی کی انتہائی تشویشناک صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ گلبرگہ یونیورسٹی کلبرگی جو علاقہ کلیان کرناٹک میں اپنے نظامِ اعلی تعلیم کے لئے جانی جاتی تھی ، یہاں اب تعلیمی ماحول انتہائی شرمناک حد تک متاثر ہوا ہے کیونکہ اساتذہ کے سینکڑوں عہدے خالی پڑے ہیں، وائس چانسلر کا عہدہ خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس علاقہ کو آرٹیکل 371 (جے) کے تحت خصوصی مراعات حاصل ہیں تاہم اس کے عمل آوری کے ایک دہے بعد بھی آرٹیکل 371 (جے) یونیورسٹی کی بہتری کے لئے مفید ثابت نہ ہوسکا ۔ مستقل وائس چانسلر کا عہدہ خالی ہوئے چار ماہ ہوچکے ہیں۔ ایسا یقین کیا جاسکتا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس چند دنوں میں خالی ہو جائے گا۔
              پروفیسر بسواراج کمنور نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 1995 سے تقرری کے عمل کے تحت 260 اساتذہ اور ایک گائیڈ اور تقریباً 500 ریسرچ اسٹوڈنٹس تھے۔ اب ان کی رہنمائی کے لیے کوئی استاد نہیں ہے۔ 20-25 برسوں سے سینکڑوں اساتذہ ریٹائر ہوچکے ہیں اور اب بھی ہو رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو چند دنوں میں یونیورسٹی کیمپس خالی ہوجائے گا۔ اساتذہ کی 248 منظور شدہ جائیدادوں میں سے 200 سے زائد جائیدادیں مخلوعہ ہیں،  پروفیسرز کے 36 میں سے 34 عہدے، ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے 67 میں سے 60 عہدے اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے 145 میں سے 107 عہدے خالی ہیں۔ اسٹاف کی کمی کی وجہ سے یونیورسٹی کو سنگین مسائل کا سامنا ہے اور یونیورسٹی خالی پڑی ہے۔ انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس صورتِ حال اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح حکومتوں نے اب تک پسماندہ علاقوں کو نظر انداز کیا ہے۔ سرچ کمیٹی نے وائس چانسلر کی تقرری کے لئے ریاستی حکومت کو تین ناموں کی سفارش کی ہے۔ میسور یونیورسٹی کے موجودہ پروفیسر پروفیسر یلپا نیوڈی کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے، جن کا تعلق یادگیر ضلع کے گرمٹکال سے ہے۔ حکومت نے جانچ پڑتال کی ہے اور اس خصوص میں عزت مآب گورنر ریاست کرناٹک کو ایک تجویز بھی دی گئی ہے، جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں۔ دو مہینے بعد بھی راج بھون سے کوئی جواب جاری نہیں آیا ۔ مہمان اساتذہ کو یہ ذمہ داری کب تک دی جائے گی۔ جو ان کے لیے بے حد دشوار ہے، اساتذہ کی کمی سے تحقیقی سرگرمیوں پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ لہٰذا حکومت کو اس معاملے میں پہل کرنی چاہیے اور آرٹیکل 371(جے) کے تحت خالی عہدوں کو پر کرکے علاقہ کلیان کرناٹک کی تعلیمی ترقی کے لئے تعاون کرنا چاہئے۔
              دیگر تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں 108، بیدر پی جی سینٹر میں 49 اور الند پی جی سینٹر میں 15 گیسٹ لیکچررز خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان مہمان اساتذہ کی مدت ختم ہوچکی ہے اور  تقرری کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔ تعلیمی سال 15 دن میں شروع ہوگا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے ابھی تک ان اساتذہ کی تقرری کے لئے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔ ریاستی کانگریس حکومت کو یونیورسٹی کی زمینی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔  یونیورسٹی کے 38 شعبوں میں سے 15 سے زیادہ میں ایک بھی مستقل ٹیچر نہیں ہے۔ شعبہ لائبریری سائنس، جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن، سائیکولوجی، زولوجی، مائیکروبائیولوجی، ایم بی اے، امبیڈکر اسٹڈیز، ویژول آرٹس، میوزک، تاریخ، سماجیات، ایم ایس ڈبلیو، خواتین کے مطالعہ، معاشیات، سیاسیات، مراٹھی، سنسکرت اور ایم بی اے شعبوں میں ایک بھی مستقل فیکلٹی نہیں ہے۔ اپلائیڈ الیکٹرانکس، کمپیوٹر سائنس، ماحولیاتی سائنس، مادی سائنس، شماریات، قانون، کنڑ، تعلیم وغیرہ کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے