کوانٹم سائنس اکیسویں صدی کی بنیاد ہے، تلاش و جستجو کا سفر جاری رکھنا، سیکھنا اور انسانیت کی خدمت کے لئے علم کا صحت مند استعمال ضروری۔
بین الاقوامی سال کوانٹم سائنس و ٹیکنالوجی 2025 کے موقع پر کرناٹکا فزکس ایسوسی ایشن اور اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے گلبرگہ کے تین اسکولوں (انٹرنیشنل پبلک اسکول، ڈالفن اسکول اور ایم اے ایم انٹرنیشنل پبلک اسکول) میں تین روزہ بیداری پروگرام منعقد کیا گیا۔اس میں 270 طلبہ (نویں اور دسویں جماعت) اور 53 اساتذہ (سائنس، ریاضی، کمپیوٹر، ای وی ایس) نے شرکت کی۔ تین ممتاز ماہرینِ طبیعیات‘ڈاکٹر ایس ایم کھینید‘ ڈاکٹر ایم ایس جوگد اور ڈاکٹر ایس سوماسیکرا نے لیکچرز اور مظاہروں کے ذریعے کوانٹم سائنس کے بنیادی تصورات کو آسان انداز میں سمجھایا۔اسکول میں منعقدہ اجلاسوں کے خلاصہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے:
محمد عبد اللہ جاوید صاحب نے افتتاحی کلمات کے ذریعہ واضح کیا کہ کوانٹم سائنس محض سائنس دانوں کے لئے مخصوص علم نہیں بلکہ یہ آج اور آنے والی صدیوں کی انسانی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جس طرح برقی رو نے 19ویں صدی کو اور کمپیوٹر نے 20ویں صدی کی دنیا کو نئی شکل دی‘ اسی طرح 21ویں صدی کی اصل بنیاد کوانٹم سائنس اور ٹیکنالوجی پر استوار ہوگی۔ اس لئے ضروری ہے کہ طلبہ میں تحقیق و جستجو کے جذبہ کو بیدار کیا جائے اور انہیں سوال کرنے اور حقیقت تک رسائی کرنے کی کوشش کو عادت بنانی چاہئے۔اور علمی مکالمے کا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ وہ مستقبل کے اس نئے علمی سفر میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔
کوانٹم سائنس سے متعلق یہ منفرد پروگرام تین تجربہ کار اور ماہرطبعیات ڈاکٹر ایم ایس جوگاڈ‘ ڈاکٹر ایس سوماشیکرا اور ڈاکر ایس ایم کھینڈ کی زیر نگرانی منعقد ہوئے۔ان کے رہنمایانہ خطابات اور تبادلہ خیال کا خلاصہ ذیل میں درج ہے۔
- سب سے پہلےکوانٹم کی تعریف بیان کی گئی کہ یہ توانائی کے سب سے چھوٹے ناقابل تقسیم ذرات ہیں جنہیں Quanta کہا جاتا ہے۔ کوانٹم سائنس ان ذرات کے رویوں اور قوانین کا مطالعہ کرتی ہے اور یہی قوانین انسانی فہم کو بالکل نئی جہتیں عطا کرتے ہیں۔
- ان قوانین میں ایک Wave–Particle Dualityشامل ہے جس کے مطابق مادہ اور روشنی بیک وقت موج (wave)اور ذرہ (particle)‘دونوں خصوصیات رکھتے ہیں۔اس حقیقت سے کائنات میں پیش آنے والے واقعات کو سمجھنا ممکن ہوسکتا ہے۔
- اسی طرح Superposition وہ اصول ہے جس میں ایک ذرہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے۔
- جبکہ کوانٹم الجھاؤ (quantum entanglement)اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہاگر دو ذرات آپس میں جُڑ جائیں تو وہ فاصلے کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں‘ ایک کی حرکت دوسرے پر فوراً اثر انداز ہوجاتی ہے‘ چاہے ان کے درمیان ایک کائنات جتنا یا اس سے زیادہ کا فاصلہ ہی کیوں نہ ہو۔
- Tunnelling کا اصول یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ ذرات بعض اوقات ایسی رکاوٹوں کو بھی عبور کر لیتے ہیں جنہیں کلاسیکی طبیعیات ناممکن قرار دیتی ہے۔جیسے ایک ننھے ذرے کا دیوار چیر کا اس پار جانا۔
ان ماہرین نے واضح کیا کہ کوانٹم سائنس کے یہ اصول صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی زندگی پر بھی یہ براہ راست اثراندازہوتے ہیں۔ان اصولوں کے بدولت مستقبل میں حیرت انگیز انکشافات اور ترقیاں ممکن ہیں۔
- بطور خاص طب میں MRI‘نینو روبوٹک سرجری ‘ دوا کی ٹھیک ٹھیک ترسیل کے ذریعہ پیچیدہ سے پیچیدہ بیماریوں کا آسان علاج ممکن ہوگا۔
- جبکہ توانائی میں سپر کنڈکٹرز اور نیوکلئیر انرجی ‘بجلی کے نظام کو زیادہ طاقتور اور کم خرچ بنا دیں گے۔
- ٹیکنالوجی میں سیمی کنڈکٹرز‘ لیزرز اور کوانٹم کمپیوٹنگ ‘انسانی ضرورتوں کی تکمیل کے علاوہ بڑے سے بڑا اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلہ کا حل‘جس کے لئے کلاسیکی کمپوٹروں کو ہزاروں سال درکارہوسکتے ہیں‘ ان کی بدولت محض چند سکینڈوں میں ممکن ہوسکتا ہے ۔
کوانٹم سائنس کی اس غیر معمولی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر ان ماہرین نے Quantum Divide کے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر صرف چند ممالک اس سائنس پر قابو پائیں تو باقی دنیا پسماندگی کا شکار ہو سکتی ہے۔ لہذا انہوں نے نوجوانوں کو مستقبل کی کوانٹم صدی کے لئے تیار ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔اور یہ پیغام دیا کہ نوجوان صرف گاہک (Consumers) بن کر نہ رہیں بلکہ جدت وندت اور تحقیق و جستجو کو اپنی پہچان بنائیں تاکہ اس میدان میں تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے انسانیت کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔طلبہ کی سائنسی تربیت کے لئے انہوں نے تین مرحلہ جاتی طریقہ کار تجویز کیا: پہلے سننا ‘ پڑھنا اور سمجھنا‘دوسرا غور و فکر کرنا اور آخر میں اس علم کا عملی اطلاق کرنا۔
پروگرام کے دوران اساتذہ کے ساتھ ایک انٹریکٹو سیشن بھی منعقد ہوا جس میں موبائل فونز اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسے ChatGPT کے صحت مند اور درست استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان ماہرین نے واضح کیا کہ اساتذہ کا کردار کسی بھی جدید ٹیکنالوجی سے کم نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ اصل رہنمائی اور تربیت وہی فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کا مشترکہ پیغام یہ تھا کہ تدریس میں محبت‘ ہمدردی ‘ مسلسل سیکھنے کا جذبہ اور فطری ذہانت کو بروئے کار لانے کے لئے جدت و ندرت کلیدی رول ادا کرتا ہے۔
