قاری اسماعیل بسم اللہ گجراتی، باعمل خوش الحال ریئس القراء، صاحب صدق و صفا، مرد مجاہد ، مرد آہن انسان تھے، خوش اخلاق و خوش مزاج متواضع، مردم شناس و مردم ساز شخصیت کے مالک تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو گوناگوں صلاحیتوں سے نوازا تھا، اس مرد مجاہد سے میری پہلی ملاقات صوفی باغ مدرسہ صورت میں اس وقت ہوئی جب یہ اس خزاں رسیدہ مدرسہ کے مہتمم بنائے گئے تھے مگر اس مرد مجاہد نے چند ہی سالوں میں اس خزاں رسیدہ مدرسہ کو جہاں بہار سے آراستہ کر دیاوہیں اس شخص نے اہل سورت کا دل جیت لیاجس کا نتیجہ یہ نکلاکہ طلبہ داخلہ کے لئے لائن لگانے لگے اور یہ مدرسہ تنگ پڑ گیا جو اس مرد مجاہد کی پرواز کیلئے ناکافی تھااسلئے بزرگوں کے مشورہ سے کشادہ زمین لینے کی بات ہونے لگی اور چند برسوں میں بعض اکابر کی دعائوں سے حضرت قاری صاحب نے سورت سے باہر اپنے گائوں کے نزدیک ’’تفلیتہ ـ‘‘ جیسے کورہ گائوں میں ایک پلاٹ خریدنے میں کامیاب ہوگئے اور اس پر تعمیرات کا سلسلہ شروع ہواجس پر جامعۃالقرات کی بنیاد ڈالی گئی اور چند ہی سالوں میں دارالقرآن، دارالتعلیم، دارالحدیث، شاندار کشادہ مسجد بن کر تیار ہوگئی، اس کی ترقی پر جہاں اکابر کی توجہ اور دعائوں کا اثر تھا وہیں حضرت قاری صاحب کی نیم شبی کا بھی دخل ہے، میرا سفرتفلیہ کا قاری صاحب کے اشارہ پر ہواجب وہ ابتدائی مرحلہ میں تھااور دوسرا اپنے عزیزم قاری محمد فیصل کے داخلہ کیلئے تھا اس وقت جامعۃالقرات کی اہمیت کا مجھے علم ہوا کہ پورے ہندوستان میں ایسا دارالعلوم نہیں ہے جہاں طلبہ عالم اور مفتی کے ساتھ قرات و حفظ کی تعلیم بھی حاصل کرلیتے ہوں یہ صرف اسی جامعہ کا امتیازہے کہ بیک وقت ایک طالب علم یہاں سے عالم یا مفتی کی سند لیتا ہے تو اس کو قرات سبعہ و عشرہ کی بھی سند ملتی ہے ۔
چراغ بزم افسردہ دیار شوق ویرانی
زباں پر آہ و نالہ ہے جگر میں سوز ہجراں ہے
قاری صاحب کی ایک دوسری خصوصیت جو سورت سے جاری ہے کہ ایک ہی نشست میں پورا قرآن سن کر حفظ کی سند سے نوازتے ہیں یہ خصوصیت یہاں بھی جاری ہے، اس فقیر کی نظر میں یہ دو اسے امتیازات ہیں جو صرف اس جامعہ کو حاصل ہیں، پھر اس کے بعد برابر آمد ورفت ہوتی رہی قاری صاحب کافی تواضع و خاکساری کے ساتھ ضیافت کا غیر معمولی انتظام فرماتے رہے۔
تیسرا سفر غالبا بائی روڈ دوست و احباب سے ملاقا ت کیلئے مولانا عمر صاحب ندوی فتح گڑھی اور ان کے صاحبزادہ سعیدبھائی کے ہمراہ ہوئی اس وقت قاری صاحب خوش ہوئے اور والہانہ استقبال کیا جسکا ا ثر اب تک محسوس کر رہاہوں۔
حضرت قاری صاحب کے سانحہ ارتحال کی خبر مرحوم کے شاگرد عزیزم قاری محمد فیصل جو اس وقت افریقہ میں درس و تدریس سے منسلک ہیں کے ذریعہ ہوئی، سن کر بہت تکلیف ہوئی’’ اناللہ و انا الیہ راجعون‘‘ للہ مااخذ و للہ ما اعطیٰ و عندہ کل شئی بمقدار، اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور دینی و ملی کاموں کو ذخیرئہ آخرت بنائے عزیزم مفتی عبدالرحمان بسم اللہ دیگر صاحبزدگان اورانکی بیٹی نیز متعلقین کو صبر جمیل کی توفیق عطافرمائے۔
اقبال سہیل نے یہ شعراعظم گڑھ کے متعلق فرمایا ہے ـ ’’ جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیر تاباں ہوتا ہے‘‘، میں مجبور ہوں یہ شعر آج سر زمیں گجرات کونظر کرنے کیلئے کہ یہ نیر تاباں کا مرکز ہے۔
یہ حادثہ فاجعہ ۲۵ صفرالمظفر۱۹۴۷ھ بمطابق ۲۰ اگست ۲۰۲۵ء بروز بدھ پیش آیا اور آپ کی پیدائش ۱۴ اگست ۱۹۶۲ء دہابیل آبائی وطن میں ہوئی اس اعتبار سے حضرت نے کم عمر پائی لیکن اس کم عمری میں اللہ تعالیٰ نے کارہائے نمایاں انجام دینے کی توفیق عطافرمائی۔
جہاں ایک طرف آپ نے مدرسہ صوفی باغ سورت میں روح پھونک دی وہیں آپ نے تفلیتہ میں دارالقرات ، دارالقرآن، دارالحدیث، دارالاقامہ،مہمان خانہ، عظیم الشان جامع مسجد قائم کرکے ایک عظیم الشان خدمت انجام دیا تو دوسری طرف انگلش میڈیم اسکول اور ہاسپٹل قائم کرکے خدمت خلق کا پیغام دیا۔
قاری صاحب ہم سے رخصت ہوکر کاروان رفتہ میں شامل ہوگئے جس کی وجہ سے نجانے کتنے ادارے سنسان، کتنے میکدے ویران اور کتنے خم و ساغر بادہ خوشی سے خالی ہوگئے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
حجاز منزل، کسیا کشی نگر
