حضرت منصور شاہ ولی گروپ آف اسکولز بیڑ کے زیرِ اہتمام اساتذہ کا خصوصی پروگرام ایم ایس انگلش میڈیم اسکول فلک نما بیڑ میں نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس نشست میں تعلیمی معیار، اساتذہ کی ذمہ داریاں، اور عصرِ حاضر کے علمی و فکری تقاضوں پر نہایت سنجیدہ اور بصیرت افروز گفتگو ہوئی۔
افتتاحی کلمات
پروگرام کا آغاز ایم ایس انگلش میڈیم اسکول بیڑ کے پرنسپل رئیس احمد خان صاحب کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے دو روزہ جائزہ و تجزیہ کے لئے آنے والی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اجلاس کے مقاصد کو نہایت جامع انداز میں واضح کیا۔
قرآنی رہنمائی اور اساتذہ کا مقام
اس کے بعد جائزہ ٹیم کے رکن عبدالصمد صاحب نے خطاب کیا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اساتذہ کے مقام و مرتبہ اور ان کی عظیم ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔ ان کے بیان نے شرکاء کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ استاد محض ایک پیشہ ور فرد نہیں بلکہ نسلوں کے معمار اور سماج کی فکری و اخلاقی بنیادوں کے نگہبان ہیں۔
تعلیمی تجزیہ اور والدین کا کردار
ٹیم کے ایک اور رکن محمد ہارون صاحب نے تین اسکولوں کے دو روزہ جائزہ رپورٹ کا مختصر خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مزید بہتری کی ترغیب دیتے ہوئے والدین و سرپرستوں کے فعال تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق کسی بھی ادارے کی کامیابی کے لئے گھر اور اسکول کے باہمی ربط کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
صدرِ ادارہ کا جامع خطاب
ایم ایس ادارہ جات کے صدر محمد ابراہیم انوری صاحب نے اپنی بصیرت افروز گفتگو میں کہا کہ ’’زندگی کے ساتھ تعلیمی ضرورت بھی لگی ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے 1948 سے جاری ملکی تعلیمی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس امر پر روشنی ڈالی کہ ہمارا ہدف اپنے تعلیمی معیار کو عالمی معیار کے برابر لانا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی ہمت افزائی کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ روشن مستقبل کی تعمیر انہی کے ذریعے ممکن ہے۔
اختتامی کلمات
نشست کے اختتام پر ڈائریکٹر، اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، محمد عبداللہ جاوید صاحب نے دو روزہ سروے کا خلاصہ پیش کیا۔ انہوں نے موجودہ نسل کی تعلیمی اور نفسیاتی ضروریات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آج کے طلبہ میں توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے، لہٰذا تدریس کو زیادہ بامقصد اور متنوع بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ میں تنقیدی و تخلیقی سوچ کو فروغ دیا جائے تاکہ وہ کوانٹم سائنس اور عصرِ حاضر کی سائنسی ترقیات کا سامنا کرنے کے قابل بن سکیں۔
انہوں نے اساتذہ کو چار بنیادی نکات کی طرف متوجہ کیا:
1. تدریسی عمل میں مختلف سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔
2. ہر اساتذہ کی انفرادی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔
3. اساتذہ باہمی طور پر سیکھنے اور سکھانے کا ماحول پیدا کریں، ورنہ طلبہ میں بھی یہ جذبہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔
4. اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہمیشہ دلوں میں زندہ رکھا جائے، کیونکہ یہ ذمہ داری محض ملازمت نہیں بلکہ ایک دینی امانت ہے۔
اختتامی کلمات کے بعد اساتذہ نے نہایت دلچسپی کے ساتھ سوالات کئے جن کا تسلی بخش جواب دیا گیا۔
پروگرام میں بیڑ اور اطراف کے علاقہ کے ایم ایس اسکول وڈونی، ایم ایس اسکول شاہونگر اور ایم ایس انگلش میڈیم اسکول فلک نما کے پرنسپلز، اساتذہ کرام کے علاوہ محمد اسلم انوری صاحب نے بھی شرکت کی۔
یہ نشست اس بات کی غماز تھی کہ ادارہ نہ صرف اپنے تعلیمی معیار کے تسلسل کے لئے سنجیدہ ہے بلکہ اس کے اساتذہ اور منتظمین نئی نسل کی علمی و فکری تربیت کو ایک مقدس ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے