مولانا سراج احمد قاسمی 

مینیجر عطاء ایجوکیشنل ٹرسٹ مہراج گنج

 

سمجھ میں نہیں آتا کہاں سے شروع کروں بطور قاید ملت ہندیہ بیرسٹر اسد الدین اویسی کی پارلیمانی سیاست کو بیان کروں،یا عوامی تحریک کے لیڈر کے طور پر ان کے تقریروں میں موجود اس درد وکرب اور امید وحسرت پر روشنی ڈالوں جو بھارت کے مسلمانوں کا مقدر بن چکا ہے ۔یا پھر حیدرآباد کے اس ایجوکیشنیسٹ کا تذکرہ کروں جس نے عصری علوم کے درسگاہوں کی تعمیر میں ایک انوکھی داستان رقم کر دی ہے ۔

آئیے چلئے پہلے حیدرآباد چلتے ہیں ۔

اویسی برادران نے بھارت کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزروی یعنی عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کی کمی کا ادراک کرکے اس طرف قدم بڑھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے حیدر آباد و اطراف میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کردی ۔

بیرسٹر اسد الدین اویسی کی تعلیمی خدمات ان کے خاندان کے قائم کردہ دارالسلام ایجوکیشنل ٹرسٹ (DET) کے ذریعے نمایاں طور پر جاری ہیں۔ اس ٹرسٹ کا مقصد خاص طور پر حیدرآباد، دکن میں اقلیتی اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہے۔

ان کی تعلیمی خدمات کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

 1- دارالسلام ایجوکیشنل ٹرسٹ (DET) یہ ٹرسٹ 1974 میں اسد الدین اویسی کے والد مرحوم الحاج سلطان صلاح الدین اویسی کی سرپرستی میں قائم کیا گیا تھا۔ اب بیرسٹر اسد الدین اویسی اس ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں اور ان کے بھائی اکبر الدین اویسی دکن گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔

   ٹرسٹ کا مقصد سوسائٹی کی بہتری کے لیے طب، انجینئرنگ، اور بزنس مینجمنٹ جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے علم کی تلاش میں تخلیقی ذہنوں کو پروان چڑھانا ہے۔

 دارالسلام ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیرِ انتظام ادارے

   اس ٹرسٹ کے تحت کئی اہم ادارے چل رہے ہیں، جن میں کچھ یہ ہیں ۔

   1۔ دکن کالج آف میڈیکل سائنسز (Deccan College of Medical Sciences)

   2- دکن کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (Deccan College of Engineering & Technology)

   3- دکن اسکول آف مینجمنٹ (Deccan School of Management)

   4- دکن اسکول آف فارمیسی (Deccan School of Pharmacy)

   5-اویسی اسکول آف نرسنگ (Owaisi School of Nursing)

 سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ (Salar-E-Millat Educational Trust)

   یہ ٹرسٹ اسد الدین اویسی کے بھائی اکبر الدین اویسی نے اپنے والد کی یاد میں قائم کیا، جس کا مقصد تعلیم اور روزگار کے مواقع پر مضبوط توجہ کے ساتھ کمیونٹی کے لیے بہتر مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔

   اس ٹرسٹ کے تحت

1-اویسی اسکول آف ایکسی لینس (Owaisi School of Excellence) اور اویسی جونیئر کالج چلائے جا رہے ہیں، جو غریب طلباء کو کارپوریٹ طرز کی مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں

جس طرح اویسی صاحب نے اپنے سیاسی شعور کو پروان چڑھایا اور آج وہ ملک ہندوستان کے گنے چنے سیاسی چہروں میں سے ایک ہیں ۔پارلیمانی سیاست میں قانون کی سمجھ اور مدلل طرز تخاطب نے ان کو اپنے ہم عصر سیاست دانوں میں نمایاں مقام دلایا ہے ۔پارلیمنٹ میں ان کی تقریر کے سبھی شیدائی ہیں کیا حزب اقتدار کیا حزب اختلاف ۔الغرض پارلیمانی سیاست میں مسلمانوں کے لیے اویسی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔مسلمانوں کے لیے اسد الدین اویسی کی خدمات کو پارلیمانی، تعلیمی اور سماجی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ خود کو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے خود اعتمادی اور خود مختاری کی آواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اویسی پارلیمنٹ کے اندر مسلمانوں کے آئینی اور سیاسی حقوق کے دفاع میں سب سے نمایاں آوازوں میں سے ایک ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے مسائل کو طاقتور انداز میں اٹھاتے ہیں، خاص طور پر ان معاملات پر جہاں سیکولرازم کے دعویدار لب کھولنے سے بچتے ہیں ۔لیکن اویسی کو جب بھی محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی پالیسیاں اقلیتوں کے خلاف امتیازی ہیں۔ جیسے شہریت (ترمیمی) قانون (CAA)، وقف سے متعلق بل، اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون (1991 Places of Worship Act) پر مسلمانوں کے تحفظات کو مضبوط دلائل اور قانونی نکات کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

 وہ پارلیمنٹ میں ہجومی تشدد (Mob Lynching)، امتیازی سلوک، اور پولیس کی زیادتیوں پر آواز اٹھاتے ہیں اور یہ اعداد و شمار پیش کرتے ہیں کہ مسلمان سماجی اور معاشی طور پر دیگر طبقات کے مقابلے میں کس طرح پسماندہ ہیں۔ اویسی کی سیاست کا ایک بنیادی مقصد مسلمانوں کو سیاسی طور پر بیدار اور خود مختار بنانا ہے، تاکہ وہ روایتی طور پر دوسری پارٹیوں کے لیے "ووٹ بینک” بنے رہنے کے بجائے، اپنے سیاسی حقوق اور قیادت کے لیے خود کھڑے ہو سکیں۔

اویسی کا مرکزی اور بنیادی پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اب "خوف اور احسان مندی” کی سیاست سے باہر نکلنا چاہیے۔

 وہ مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو موجودہ سیاسی ماحول میں خوفزدہ ہونے یا اپنی آواز دبانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا نعرہ ہے کہ مسلمانوں کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اپنے آئینی حقوق کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔

 وہ اس سوچ کو فروغ دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان جماعتوں پر انحصار ختم کر دینا چاہیے جو صرف بی جے پی کے خوف کو بیچ کر ان کے ووٹ حاصل کرتی ہیں اویسی کا کہنا ہے کہ مسلمان اپنا قائد (لیڈر) اور نمائندہ خود منتخب کریں تاکہ وہ اپنے مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کروا سکیں۔

 روایتی جماعتیں اویسی پر "ووٹ کٹوا” ہونے کا الزام لگاتی ہیں، لیکن اویسی کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ووٹ کو تقسیم نہیں بلکہ اسے اختیار (Agency) دے رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنا ووٹ کسی مضبوط مسلم قیادت کو نہ دیں تو انہیں اب تک روایتی سیاسی پارٹیوں سے سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر کیا ملا ہے؟

  حیدرآباد سے باہر نکل کر، مہاراشٹر اور بہار جیسی ریاستوں میں AIMIM کا انتخابات لڑنا مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اس سے ملک بھر کے مسلمانوں میں یہ پیغام جاتا ہے کہ ان کے پاس روایتی آپشنز کے علاوہ بھی ایک سیاسی متبادل موجود ہے۔

اویسی خود کو ایک آئینی ماہر اور بے باک پارلیمانی رکن کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس سے مسلمان نوجوانوں میں سیاسی بیداری بڑھتی ہے۔

 مسلمانوں کے مسائل پر جذباتی باتوں کے بجائے، آئین ہند اور اعداد و شمار (Data) کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ عمل مسلم نوجوانوں کو سیاسی عمل کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اویسی کی مسلمانوں کے لیے سیاسی بیداری کی خدمات کو "خود کفالت کی تحریک” کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ ان کی سیاسی تقدیر اب صرف دوسری پارٹیوں کے "خوف کا استحصال” پر نہیں، بلکہ ان کی اپنی تنظیم اور قوت فیصلہ پر منحصر ہے۔

اویسی کے بہار میں سیاسی طور پر فعال ہونے سے پہلے خاص طور پر 2020 کے اسمبلی انتخابات سے قبل بہار کے مسلمانوں کا سیاسی منظر نامہ روایتی طور پر سیکولر جماعتوں کے گرد گھومتا تھا۔

بہار کے مسلمانوں کی اکثریت کا ووٹ تقریباً مکمل طور پر راشٹریہ جنتا دل (RJD) اور جنتا دل یونائیٹڈ (JDU) جیسی جماعتوں کے مہا گٹھ بندھن یا سیکولر اتحادوں کو جاتا تھا۔مسلمانوں کا یہ ووٹ بنیادی طور پر بی جے پی (BJP) اور دائیں بازو کی جماعتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کی حکمت عملی پر مبنی تھا۔ یہ ووٹ اکثر بڑے خطرے کے خوف (Fascism کا خوف) سے دیا جاتا تھا، نہ کہ اس اعتماد سے کہ یہ جماعتیں مسلمانوں کے سماجی اور معاشی مسائل کو حل کریں گی۔

 کئی مبصرین کے مطابق، سیکولر جماعتیں اس خوش فہمی میں رہتی تھیں کہ "مسلمان کہیں نہیں جائیں گے”، جس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کی معاشی یا تعلیمی ترقی پر زیادہ توجہ نہیں دیتی تھیں۔ مسلمانوں کو اکثر نمائندگی تو ملتی تھی، لیکن حقیقی قیادت اور پالیسی سازی میں ان کا کردار محدود تھا۔ بہار میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی سیمانچل (Seemanchal) کے علاقوں (کشن گنج، کٹیہار، ارریہ، پورنیہ) میں ہے۔ روایتی سیاسی جماعتوں میں ان علاقوں کے مسلمانوں کو اکثر بڑے اور مؤثر عہدے نہیں ملتے تھے، جس سے مقامی مسلم آبادی میں محرومی کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔RJD کی سیاست میں مسلم ووٹ کو لالو پرساد یادو کے وقت سے یادو ووٹ بینک کے ساتھ جوڑ کر (MY فارمولہ) دیکھا جاتا تھا، جس میں مسلمانوں کا اپنا الگ سیاسی وجود یا آواز کمزور پڑ جاتی تھی۔ اویسی کے داخلے سے پہلے بہار کو ایک ایسے صوبے کے طور پر دیکھا جاتا تھا جہاں نسبتاً طویل عرصے سے کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا تھا۔ مسلمانوں کی بڑی سیاسی ترجیح فرقہ وارانہ امن و امان کو برقرار رکھنا تھی، اور اسی لیے وہ نتیش کمار یا لالو یادو جیسے لیڈروں پر بھروسہ کرتے تھے، جنہیں وہ BJP کے اثر کو روکنے والا سمجھتے تھے۔

  اس دور کی سیاست میں جذباتی اور امن و امان کے مسائل غالب تھے، جبکہ تعلیم، روزگار، اور بنیادی ڈھانچے جیسے ترقیاتی کاموں میں مسلمانوں کی پسماندگی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی تھی۔

اویسی کے آنے سے پہلے بہار کے مسلمان سیاسی طور پر مجبور اور غیر مطمئن تھے: وہ ووٹ تو سیکولر جماعتوں کو دیتے تھے تاکہ BJP کو روکا جا سکے، لیکن انہیں اس ووٹ کے بدلے حقیقی سیاسی حصہ داری، معاشی ترقی اور مضبوط قیادت حاصل نہیں ہو رہی تھی۔ اویسی نے اسی عدم اطمینان اور محرومی کے احساس کو محسوس کیا اور اسے ایک متبادل سیاسی شکل دینے کی کوشش کی۔بہار میں اویسی کی آمد کا نتیجہ ہے کہ اب مسلمانوں کے بنیادی مسائل علاقے میں سیاست کا محور بنے ہوئے ہیں ۔نتیش کمار جو لمبے عرصے تک بی جی پی کی گود میں کھیلتے رہے ہیں اس الیکشن میں گری راج سنگھ اور یوگی آدتیہ ناتھ کے چناوی بھاشن پر اعتراض جتا رہے ہیں ۔

اویسی کے بہار میں آنے سے سب سے زیادہ تکلیف ان سیاسی جماعتوں کو ہے جو سیکولرزم کا چولا اوڑھ کر مسلمانوں کے دم پر حکمرانی کرتی تھیں اور مسلمانوں کو اپنے حقوق کی بھیک مانگنے پر مجبور سمجھتی تھیں ۔دوسری طرف ان مذہبی پنڈتوں اور مٹھادیشھوں کے پیٹ میں بھی گیس بن رہی ہے جو مسلمانوں کے تحفظ ،امن وامان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نام پر ملائی کھاتی رہی ہیں ۔

اویسی صاحب کا بہار کے الیکشن میں صاف ستھرا ایجنڈا ہے ۔اویسی اور ان کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کا بنیادی ہدف مسلمانوں کو ایک ووٹ بینک کے بجائے ایک سیاسی قوت کے طور پر سامنے لانا ہے۔

اویسی کا سب سے بڑا ایجنڈا یہ ثابت کرنا ہے کہ بہار کی سیکولر جماعتیں بھی مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق حصہ نہیں دے رہی ہیں۔

  وہ مسلسل یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ جب مسلمان ریاست کی آبادی کا تقریباً 17-18 فیصد ہیں، تو پھر ان کا وزارتوں، اعلیٰ عہدوں اور پارٹی قیادت میں مناسب حصہ کیوں نہیں ہے؟جب 3 فیصد یا 14 فیصد آبادی والی برادریوں کو نائب وزیر اعلیٰ جیسے عہدے مل سکتے ہیں، تو 17 فیصد آبادی والا مسلمان وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بن سکتا؟ روایتی سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو صرف "غلام” یا "چٹائی بچھانے والے” کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔

مجلس کی تمام تر توجہ بہار کے سیمانچل علاقے (کشن گنج، کٹیہار، ارریہ، پورنیہ) پر مرکوز ہے، جو کہ مسلمان اکثریتی، لیکن سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں میں سے ہے۔ اویسی کا مؤقف ہے کہ انہوں نے حیدرآباد سے آ کر اس علاقے کی "انصاف کی جنگ” میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کو کئی دہائیوں سے حکمران جماعتوں (NDA اور مہاگٹھ بندھن دونوں) نے نظر انداز کیا ہے۔

 مجلس کا ایجنڈا ہے کہ سڑک، تعلیم، طبی سہولیات اور روزگار کے مواقع پر توجہ دی جائے اور فرقہ وارانہ امن کے خوف کو ترقیاتی ضروریات کی تکمیل کا متبادل نہ بنایا جائے۔

  مجلس مسلمانوں کو یہ احساس دلانا چاہتی ہے کہ وہ "بی جے پی کے خوف” پر انحصار کرنے کے بجائے، اپنی طاقت خود پیدا کریں۔ اویسی کہتے ہیں کہ جب مسلمان اپنی آواز خود نہیں اٹھائیں گے تو کوئی اور ان کے لیے نہیں لڑے گا۔اپنے ایجنڈے کو محض مسلمانوں تک محدود نہ رکھنے کے لیے، AIMIM بہار میں دلِت، او بی سی (OBC)، اور انتہائی پسماندہ طبقات کے دیگر رہنماؤں اور پارٹیوں کے ساتھ اتحاد بنا کر خود کو ایک "سماجی انصاف” کی پارٹی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں مسلمان صرف ایک حصہ ہوں گے۔

اویسی کا بہار میں سیاسی ایجنڈا صرف نشستیں جیتنا نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کے سیاسی بیانیے کو تبدیل کرنا ہے، انہیں خوف سے نکال کر، ان کی سیاسی حصہ داری پر سوال اٹھانے اور انہیں ان کی پسماندگی کے خلاف آواز اٹھانے کا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

بیرسٹر اسدالدین اویسی بہار کے مسلمانوں، دلتوں، پچھڑوں سے کہتے ہیں:

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے