ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ڈائریکٹر مرکز تعلیم القرآن۔دہلی
عید الاضحی کی سب سے اہم عبادت قربانی ہے ۔اللہ کا شکر ہے کہ مسلمان اس موقع پر بڑے پیمانے پر قربانی کرتے ہیں۔قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے۔ قربانی کسی بھی قوم کو زندہ رکھنے میں معان ہوتی ہے ۔قربانی کے جہاں بے شمارمادی فائدے ہیں وہیں روحانی فائدے بھی بے شمار ہیں۔ مگر ہماری کوتاہ نظر روحانی فائدوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔ ساری دنیا میں بڑے پیمانے پرقربانی دینے کے باوجود بھی قربانی کا وہ جذبہ ہمارے اندر پیدا نہیں ہوتا جس کے لیے قربانی پیش کی جاتی ہے۔ دور جاہلیت میں لوگ قربانی کرکے اس کا خون اور گوشت اپنے معبودوں پر چڑھاتے تھے اور کعبے کی دیواروں پر لگاتے تھے ۔آج بھی بعض قومیں ایسا کرتی ہیں۔ اس تعلق سے اللہ نے کہا کہ ہمیں تمہارے خون اور گوشت کی حاجت نہیں ہے اور نہ یہ چیزیں ہم تک پہنچتی ہیں، بلکہ ہمیں مطلوب یہ ہے کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔ اسلام میں عبادات کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے ۔
قربانی جیسی عظیم عبادت کی ادائیگی میں چند اہم امور کا خیال رکھنا ضروری ہے، اور ان کے ساتھ مسنون دعاؤں کو شامل کر لیا جائے تو اس کی روح اور بھی نکھر جاتی ہے۔
قربانی کس پر واجب ہے
احناف کے نزدیک قربانی واجب ہے، اور یہ ہر اس مسلمان، عاقل، بالغ اور مقیم (یعنی مسافر نہ ہو) پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو۔ صاحبِ نصاب سے مراد یہ ہے کہ اس کے پاس بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال ہو جو زکوٰۃ کے نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اس پر سال گزرنا ضروری نہیں اگر ایام قربانی میں بقدر نصاب مال آجائے تو قربانی واجب ہوجائے گی۔ ایسے شخص پر عید الاضحیٰ کے ایام میں قربانی کرنا واجب ہے، اور بلا عذر ترک کرنے پر گناہ ہوگا۔احناف درج ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہیں:
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ:
مَنْ کَانَ لَہُ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا(سنن ابن ماجہ)
’’جس شخص کو وسعت (استطاعت) ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔‘‘
فقہائِ احناف اس حدیث سے قربانی کے واجب ہونے پر استدلال کرتے ہیں، کیونکہ اس میں ترکِ قربانی پر سخت وعید آئی ہے۔ البتہ جمہور محدثین کے نزدیک اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے۔
امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک قربانی واجب نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ یعنی یہ ایک نہایت اہم اور تاکید شدہ سنت ہے، جسے کرنے پر بہت اجر ہے اور بلا وجہ چھوڑنا مناسب نہیں، لیکن ترک کرنے والا گناہ گار نہیں ہوتا۔ ان حضرات کے نزدیک ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کو قربانی کرنی چاہیے، مگر اسے فرض یا واجب کا درجہ نہیں دیا جاتا۔جمہور فقہاء کی دلیل یہ حدیثیں ہیں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ:أَقَامَ النَّبِیُّ ﷺ بِالْمَدِینَۃِ عَشْرَ سِنِینَ یُضَحِّی (بخاری)
‘‘حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور (ہر سال) قربانی کرتے رہے۔’’
عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ، وَأَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یُضَحِّیَ، فَلَا یَمَسَّ مِنْ شَعَرِہِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِہِ شَیْئًا (مسلم)
’’جب (ذوالحجہ کے) دس دن شروع ہو جائیں اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے۔‘‘
مذکورہ حدیث میں نبی کریم ؐ نے’’جو قربانی کا ارادہ کرے‘‘فرمایا ہے، یعنی قربانی کو لازم یا فرض کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ اختیار اور ارادہ کے ساتھ جوڑا ہے۔ جمہور فقہاء اسی سے استدلال کرتے ہیں کہ قربانی واجب نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے کیونکہ اگر یہ فرض ہوتی تو ہر صاحبِ استطاعت کے لیے اس کا حکم قطعی انداز میں دیا جاتا، نہ کہ ارادے کے ساتھ معلق کیا جاتا۔
رہایہ مسئلہ کہ ایک گھر یا خاندان کی طرف سے ایک قربانی کافی ہے یا ہر صاحبِ نصاب فرد پر الگ قربانی لازم ہے۔ ذیل میں اسے دلائل کے ساتھ واضح کیا جا رہا ہے:
فقہِ حنفی کے نزدیک گھر کے ہر اس فرد پر قربانی واجب ہے جو عاقل، بالغ، مقیم اور صاحبِ نصاب ہو، خواہ وہ ایک ہی خاندان میں کیوں نہ رہتے ہوں۔ اس بنا پر اگر ایک گھر میں تین یا چار افراد صاحبِ نصاب ہیں تو ہر ایک پر الگ قربانی کرنا ضروری ہوگا، ایک قربانی سب کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔
اس کی دلیل میں وہ ابن ماجہ کی وہی حدیث پیش کرتے ہیں جس کہا گیا ہے کہ ’’جس کو وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے‘‘۔ احناف کے نزدیک اس حکم میں فرداً فرداً ہر مستطیع شخص شامل ہے، اس لیے ایک کی قربانی دوسرے کی طرف سے ادا نہیں ہوگی ۔
امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک اگر گھر کا سربراہ ایک قربانی کر دے اور اس میں اپنے اہلِ خانہ کو بھی شامل کر لے یعنی سب کی طرف سے نیت کرلے تو یہ قربانی گھر کے سب افراد کی طرف سے کافی ہو جاتی ہے، اگرچہ گھر کے دیگر افراد صاحبِ استطاعت ہوں۔اس کی دلیل وہ حضرت ابوایوب انصاریؓ کی حدیث سے لیتے ہیں کہ:
’’نبی کریم ؐکے زمانے میں ایک آدمی ایک بکری اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربان کرتا تھا‘‘(ترمذی)۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ سے بھی منقول ہے کہ آپ ؐ ایک قربانی اپنی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف سے کیا کرتے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک قربانی میں متعدد افراد کی نیت شامل کی جا سکتی ہے۔
نیت کی درستگی
قربانی قبول ہونے کی بنیاد نیت پرہے، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ دل میں یہ پختہ ارادہ کرے کہ وہ یہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے انجام دے رہا ہے۔ اگر نیت میں اخلاص ہوگا تو معمولی عمل بھی بڑی عبادت بن جائے گا، اور اگر اس میں ریا و نمودشامل ہو تو قربانی ہی کیا ہر نیک عمل ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لیے قربانی سے پہلے اپنے دل کو ہر قسم کے دکھاوے سے پاک کرنا ضروری ہے۔نیت دل سے کرنا ہی کافی ہے ۔اگر کوئی گوشت کھانے کی نیت سے قربانی کرے گا تو قربانی نہ ہوگی ۔
جانور کا درست انتخاب
قربانی کے لیے ایسا جانور منتخب کیا جائے جو شریعت کے مطابق ہو، اس کی عمر پوری ہو اور وہ عیب سے پاک ہو۔ جانور فربہ ہو ،دیکھنے میں بھی خوبصورت ہو۔بیمار، لنگڑا یا انتہائی کمزور جانور قربانی کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔دنبہ کی عمر چھ ماہ ،بکرے کی عمر ایک سال اور بڑے جانور یعنی بھینس کی عمر دو سال جبکہ اونٹ کی عمر پانچ سال ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہترین چیز پیش کرے، کیونکہ اللہ پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی پسند فرماتا ہے۔
وقت کی پابندی
قربانی کا وقت نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے اور 12ذوالحجہ کی عصر تک رہتا ہے، اس سے پہلے یا بعد میں کی گئی ذبح قربانی شمار نہیں ہوتا، الا یہ کہ کوئی ایسی آبادی میں رہتا ہو جس میں یا اس کے قرب و جوار میں نماز عید نہ ہوتی ہو، ایسی بستی کے لوگ بعد نماز فجر قربانی کرسکتے ہیں۔ اہل حدیث مسلک میں 13ذی الحج کو بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔ حدیث میں قربانی کے تین دن بتائے گئے ہیں، فقہاء عید کے دن کو ملا کر تین دن شمار کرتے ہیں، جب کہ اہل حدیث علماء عید کے کو دن کو منہا کرکے تین دن شمار کرتے ہیں۔
ذبح کا صحیح طریقہ اور دعا
ذبح کے وقت تیز چھری استعمال کی جائے تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو، اور اسے قبلہ رخ لٹا کر اللہ کا نام لیا جائے۔ اس موقع پر یہ مسنون دعا پڑھی جائے:
اِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، لَا شَرِیکَ لَہُ وَبِذَٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ، اللَّہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ، بِسْمِ اللَّہِ اللَّہُ أَکْبَرُ
’’میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔ اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘یہ دعا قرآنِ مجید کی سورہ الانعام سے ماخوذ ہے اوربِسْمِ اللّٰہِ، اللّٰہُ أَکْبَر‘‘کہنا احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔
صفائی اور احتیاط
قربانی کے بعد صفائی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔اگر گھر کچا ہوتو گڑھا کھود لیا جائے اور خون اس میں دفن کردیا جائے ،اگر فرش پکا ہو تو خوب پانی بہایا جائے تا کہ خون نالیوں میں نہ جمے ۔ اسی طرح دیگرآلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے تاکہ ماحول آلودہ نہ ہو اور دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ اسلام طہارت اور پاکیزگی کو بہت اہمیت دیتا ہے، اس لیے یہ بھی عبادت کا حصہ ہے۔
گوشت کی تقسیم
قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے۔ایک حصہ اپنے لیے، ایک رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور ایک حصہ غریبوں کے لیے۔ اس سے معاشرے میں محبت، ہمدردی اور اخوت کو فروغ ملتا ہے اور خوشی سب کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔البتہ مذکورہ تین حصے کرنا لازمی نہیں ہیں ۔اگر گھر کی ضرورت زیادہ ہو تو خود بھی سارا گوشت استعمال کیا جاسکتا ہے ۔لیکن یہ مناسب نہیں کہ محلہ میں لوگ بغیر گوشت کے رہیں اور ہمارے فریج میں گوشت اسٹور کرلیا گیا ہو۔
قصائی کی اجرت
بہتر ہے کہ اپنی قربانی کا جانور خود ذبح کیا جائے۔ اگر قصائی سے یہ خدمت لی جائے توقصائی کو اس کی اجرت گوشت کی شکل میں نہیں دینی چاہیے بلکہ الگ سے معاوضہ دیا جائے۔
غیر مسلم کو قربانی کا گوشت
غیرمسلم احباب کو قربانی کا گوشت دینا جائز ہے ۔اگر وہ آپ کے گھر بلا تکلف آکر کھاسکتے ہوں تو انھیں پکا کر کھلانا مستحسن ہے ۔
قربانی کے بعد کی دعا
قربانی مکمل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرنا نہایت اہم ہے۔ اس موقع پر یہ دعا پڑھی جائے:
اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی (یا مِنَّا) کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیلِکَ حضرت ابراہیمؑ وَحَبِیبِکَ حضرت محمد ﷺ
’’اے اللہ! میری (یا ہماری) اس قربانی کو قبول فرما، جس طرح تو نے اپنے خلیل حضرت ابراہیمؑ اور اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کی قربانی کو قبول فرمایا تھا۔‘‘ دعا آپ اپنی زبان میں بھی کرسکتے ہیں ۔
شکر اور عاجزی
آخر میں بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے یہ عظیم عبادت ادا کرنے کی توفیق دی۔ ساتھ ہی دل میں عاجزی پیدا کرے اور یہ احساس رکھے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا اور قبولیت میں ہے۔ قربانی کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کر دے اور اپنی زندگی کو اس کی اطاعت کے مطابق ڈھال لے۔
پس اللہ کے حضور اخلاص کے ساتھ قربانی پیش کیجیے ۔اپنی تمنائوں ،آرزوئوں اور خواہشات کو اللہ کے تابع کردیجیے ۔ہر اس عمل سے پر ہیز کیجیے جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہو۔حسب استطاعت قربانی کیجیے ۔قربانی کے گوشت کو محرومین تک پہنچائیے ۔اللہ سے اجر کی امید رکھیے ۔اللہ تعالیٰ ہمارے اندر وہی جذبہ پیدا فرمائے جو اس قربانی سے اس کو مطلوب ہے ۔
