اعداد: محمد وسیم راعین عمری

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ» يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ»(صحیح البخاری : 969، سنن ابي داود:2438 واللفظ له ، سنن الترمذي: 757، ابن ماجه:1727)

حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ سبحانہ وتعالی کو نیک اعمال کرنا ذی الحجہ کے دس دنوں کے علاوہ کسی اور دن میں زیادہ پسند نہیں ہے "۔صحابہء کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم : اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں سوائے اس کے جو جان ومال کے ساتھ نکلے لیکن کسی کو لے کر واپس نہ لوٹے "۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فضل واحسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئےنیکیوں کی جانب سبقت کرنے اور نیکیوں سے اپنی جھولی بھرنے کے لئے خیر کے بہت سے موقعے اور نیکیوں کا موسم بہار دیا ہے، تاکہ بندہ زیادہ سے زیادہ نیک اعمال انجام دے اور اللہ کی قربت حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرے ۔

ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن اللہ تعالی کی طرف سے آفر کے دن ہیں جن سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کے لئے اس آفر کا اعلان چودہ سو سال پہلے سے ہی ہے، دنیا کا کوئی ایسا آفر نہیں ہے جس کا اس قدر پہلے اعلان کیا گیا ہو ۔ ہم دنیاوی آفروں کے انتظار میں ہوتے ہیں اور اس میں مختلف قسم کی خریداری کی پلاننگ کرتے ہیں تو ہمیں بدرجہ اولی آخرت کے آفر کا شدت سے انتظار ہونا چاہئے اور ان ایام میں نیکیاں کرکے ثواب لوٹ لینا چاہئے۔

ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی قرآن واحادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے جن میں سے چند یہ ہیں :

1- ان ایام میں عمل صالح کرنا ،اللہ تعالی کو بہت محبوب ہے :جیساکہ باب کی حدیث میں ہے۔

2-اللہ تعالی نے ان ایام کی قسم کھائی ہے : اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں : ( وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ) "قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی "۔(الفجر :۱-۲)

ان دس دنوں سے مراد ،ذی الحجہ کے دس دن ہیں ، اللہ سبحانہ و تعالی کا ان ایام کی قسم کھانا ان کی فضیلت اور بلند مقام پر دلالت کرتا ہے ۔

3- یہ وہی ایام معلومات ہیں جن میں اللہ عزوجل نے اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے :اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں : ” وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ ” "اور ان مقرر دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں "۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں ۔

4- یہ دنیا کے بہتر ین ایام ہیں :وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ – رضي الله عنهما – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم -: ” إِنَّ أَفْضَلَ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامُ الْعَشْرِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , وَلَا مِثْلُهُنَّ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ , قَالَ: ” وَلَا مِثْلُهُنَّ فِي سَبِيلِ اللهِ , إِلَّا مَنْ عَفَّرَ وَجَهَهُ فِي التُّرَابِ ” (مسند البزار:4763، صَحِيح الْجَامِع: 1133 ، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:1150)حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دنیا کے بہترین دنوں میں ذی الحجہ کے دس دن ہیں ” ۔ صحابہ نے سوال کیا اے اللہ کے رسول :اللہ کی راہ میں ان جیسے دن بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا:” اللہ کی راہ میں ان جیسے دن بھی نہیں سوائے اس آدمی کے جو اپنے چہرہ کو غبار آلو کرلے "۔ (یعنی شہید ہوجائے )۔

جن دنوں کی اس قدر فضیلت ہو تو ان میں نیک اعمال کے بجالانے میں کوتاہی کیسی!؟ ان فضائل کی وجہ سے سلف صالحین ان ایام میں عمل صالح کا خصوصی اہتمام کرتےتھے ۔

اگر کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ ان ایام کی آخر اتنی فضیلت کیوں ہے ؟تو اس کا جواب حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں :” عشرہ ذی الحجہ کے ممتاز ہونے کا سبب یہ ہے کہ ان ایام میں بہت ہی عظیم عبادتیں جمع ہوگئیں ہیں جو دوسرے دنوں میں نہیں ہیں جیسے نماز ،روزہ، صدقہ وخیرات اور حج "۔(فتح الباری:۲/۴۶۰)

مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ایام میں نیک کام کرنا اللہ تعالی کو محبوب ہے لہذا ان ایام میں کسی بھی نیک کام کی اہمیت زیادہ ہی ہے، لہذا خیر کے جتنے کام ہیں آپ ان کا اہتمام کر سکتے ہیں جیسے کہ تلاوت ،استغفار ، والدین سے حسن سلوک ،صلہ رحمی، امر بالمعروف ونہی عن المنکر ،زبان و شرمگاہ کی حفاظت، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک ،مہمانوں کی تکریم، راستے سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹانا ،مریض کی عیادت، مختلف قسم کے ذکر واذکار، کسی کو تکلیف دینے سے اجتناب وغیرہ ۔بالخصوص نماز باجماعت ،سنن ونوافل ،روزہ ،تکبیر وتہلیل و تحمید کا خصوصی اہتمام ہونا چاہئے کیونکہ احادیث میں ان اعمال کی تاکید آئی ہے۔ حضرات صحابہ میں سے ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان دنوں میں بازار کی طرف نکل جاتے اور تکبیر کا اہتمام کرتے ان کا دیکھا دیکھی لوگ بھی تکبیر کا اہتمام کرتے۔

ان دنوں سے کما حقہ مستفید ہونے کے لئے ہمیں ان دنوں کا استقبال سچی توبہ اور گناہوں سے بالکلیہ اجتناب سے کرنا چاہئے کیونکہ گناہ انسان کو اپنے رب کے فضل سے محروم کردیتاہے اور اس کے دل کو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔

اسی طرح ان ایام کو غنیمت جاننے اور عمل صالح سے معمور کرنے کا پختہ عزم ہو لہذا ہم ان ایام کو غنیمت جانیں ،موقع سے فائدہ اٹھائیں ،حتی المقدور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں ،کسی بھی کار خیر کو معمولی نہ سمجھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان ایام کے گزرنےکے بعد کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے اس لئے کہ گیا ہوا وقت ہاتھ نہیں آتا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں نیکیوں کے فصل بہار کو غنیمت جاننے اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے