افتخاراحمدقادری

 جمہوریت کے میدان میں جب عوام اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں تو وہ دراصل اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بہار میں بھی اس وقت یہی منظر ہے۔ انتخابی مہم کی گہماگہمی، امیدواروں کی جوڑ توڑ، نعروں کی گونج اور گلی محلوں تک پھیلی سیاسی سرگرمیوں نے فضا میں ایک خاص رنگ بھردیا ہے۔ مگر اسی جمہوری جشن کے بیچ اچانک کچھ ایسے سلسلہ وار واقعات رونما ہوئے جنہوں نے پورے ملک میں اضطراب پیدا کردیا ہے۔ عوام کے دلوں میں یہ سوال سر اٹھا رہا ہے کہ آخر انتخابات کے دوران ہی ملک کے مختلف حصوں میں دھماکوں اور سازشوں کا یہ طوفان کیوں اٹھ کھڑا ہوا؟
 چھ نومبر کو پہلے مرحلے کی پولنگ بخیر و خوبی مکمل ہوئی۔ عوام کی شرکت نے اس بات کا ثبوت دیا کہ جمہوریت پر ان کا اعتماد زندہ ہے۔ مگر پولنگ کے بعد ہی حالات کا رخ کچھ بدلتا محسوس ہونے لگا۔ خبروں کی فضا میں ایک عجیب سا دباؤ چھا گیا۔ کہیں ووٹ چوری کے الزامات گونجنے لگے، کہیں مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع آنے لگی اور پھر چند دنوں کے اندر اندر ملک کی تین ریاستوں سے ایسی خبریں آئیں جنہوں نے امن و امان کے سارے پیمانے ہلا دیے۔ گجرات اے ٹی ایس نے تین ایسے افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جو مبینہ طور پر ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ دوسری طرف اترپردیش کے فیروز آباد میں بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد پکڑا گیا۔ ایسا مواد جو اگر بروقت نہ ملتا تو نہ جانے کتنی قیمتی جانیں ضائع ہوتیں۔ لیکن سب سے چونکا دینے والا واقعہ پیر کی شام دہلی میں پیش آیا جہاں لال قلعہ کے قریب ایک کار میں زوردار دھماکہ ہوا۔ لمحوں میں خوف کی فضا پھیل گئی، آس پاس کھڑی کئی گاڑیاں جل گئیں اور انسانی لاشیں سڑک پر بکھر گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا علاقہ لرز گیا، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور درجنوں لوگ زخمی ہوگئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ 13 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب ایک ہی وقت کے اندر کیوں ہوا؟ کیا یہ محض حادثاتی تسلسل ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہری منصوبہ بندی پوشیدہ ہے؟ کیا یہ واقعات بہار الیکشن کے ماحول کو متاثر کرنے یا عوامی توجہ ہٹانے کی ایک منظم کوشش ہیں؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں تحقیقاتی ایجنسیوں کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور دیانتداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
   ابتدائی رپورٹوں کے مطابق دہلی دھماکے کو کار میں لگے سی این جی سلنڈر کے پھٹنے سے جوڑا جا رہا ہے۔ لیکن جو تباہی ہوئی اس کی شدت دیکھ کر ماہرین بھی حیران ہیں کہ کیا واقعی ایک سلنڈر اتنی طاقتور تباہی مچا سکتا ہے؟ فورنسک ٹیمیں جائے حادثہ کا باریکی سے معائنہ کر رہی ہیں اور ماہرین دھماکے کی نوعیت، جھلسنے کے زاویے اور اثرات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اگر یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ تخریبی کارروائی ثابت ہوئی تو پھر یہ واقعہ محض ایک دھماکہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔ اگر گجرات اے ٹی ایس نے دہشت گردانہ منصوبے کے تانے بانے پکڑ لیے اور فیروز آباد میں دھماکہ خیز مادے برآمد ہوگئے تو دہلی میں ایسا خوفناک دھماکہ آخر کس طرح ہوا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی نیا گروہ پسِ پردہ کام کر رہا ہو یا کسی سیاسی مفاد کے تحت فضا کو خوفناک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہو؟ یہ سوالات بہت اہم ہیں اور ان کے جوابات محض قیاس آرائیوں سے نہیں بلکہ ٹھوس شواہد سے ملنے چاہئیں۔ لہٰذا! مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو چاہیے کہ اس پورے سلسلہ وار واقعات کی اعلیٰ سطحی، آزاد اور شفاف تحقیقات کروائیں۔ اس بات کی گارنٹی دی جائے کہ کسی بے قصور کو گرفتار نہ کیا جائے مگر جو واقعی ملوث ہو اسے کسی قیمت پر چھوڑا نہ جائے۔ ملک کی عوام اس وقت دہلی دھماکے پر غم و غصے میں ہیں۔ 13 خاندانوں کے گھر اجڑ گئے، درجنوں زخمی ہسپتالوں میں کراہ رہے ہیں اور پورا ملک اس وحشیانہ حرکت کی مذمت کر رہا ہے۔ ایسے سفاک عناصر کے لیے کسی رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے خلاف فوری مقدمہ چلایا جائے، خصوصی عدالت بنائی جائے اور جلد از جلد فیصلہ سنایا جائے تاکہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے۔ ساتھ ہی اگر کسی سیاسی سازش کی بو آتی ہے، اگر کسی طبقے نے اپنے مفاد کی خاطر انسانی جانوں کو قربان کیا ہے تو پھر اسے بھی بے نقاب کرنا حکومت اور میڈیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ملک کا امن کسی کے مفاد یا ووٹ کی سیاست سے بڑا ہے۔ یہ وقت عوام کے جاگنے کا بھی ہے۔ ہر شہری کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ اگر کوئی مشکوک شخص، کوئی غیر مانوس حرکت یا کوئی بے سبب سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر انتظامیہ کو اطلاع دینا ہر شہری کا فرض ہے۔ کیونکہ جب عوام اور حکومت دونوں ایک صفحے پر آجائیں تو کوئی تخریب کار ملک کے امن کو برباد نہیں کر سکتا۔ پولیس کو بھی آنکھ بند کر کے کارروائی نہیں کرنی چاہئے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نہ بے قصور کو پکڑا جائے نہ مجرم کو چھوڑا جائے۔ تحقیق کی گہرائی، شفافیت اور سچائی ہی وہ بنیاد ہے جس سے عوام کا یقین بحال ہو سکتا ہے۔
  لال قلعہ کے قریب جو دھماکہ ہوا وہ قوم کے دل میں ایک زخم لگا گیا۔ مگر ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر یہ ثابت کرنا ہے کہ ہندوستان کا امن، محبت اور بھائی چارہ چند بم دھماکوں سے کمزور نہیں ہو سکتا۔ ہم سب کو ایک ساتھ یہ عزم کرنا ہوگا کہ سیاست انسانی جانوں پر نہیں کھیلی جائے گی، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے اور ملک کے دشمنوں کو قانون کے کٹہرے تک پہنچا کر ہی دم لیا جائے گا۔ یہی اس قوم کی اصل طاقت ہے، یہی جمہوریت کی روح ہے اور یہی ان 13 مظلوم جانوں کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا جن کی موت نے ہمیں ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ حکومت اور تفتیشی اداروں پر اس وقت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ الجھاؤ، افواہوں اور سیاسی شور شرابے سے بالاتر ہوکر مکمل آزاد اور شفاف تحقیقات کروائیں۔ ہر شخص کا خون انصاف کا متقاضی ہے اور ہر زخمی کو مکمل طبی امداد ملنی چاہیے۔ صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی ہر قدم اٹھایا جائے تاکہ کسی کو ناجائز طور پر موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔ تحقیقات میں شفافیت ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور یہی اعتماد جمہوریت کی نبض کو مضبوط رکھے گا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس وقت انتہائی نازک ہے۔ خبریں دیتے وقت احتیاط ذمہ داری اور ہمدردی کا خاص خیال رکھا جائے۔ قیاس آرائیاں، نامانوس الزامات اور بے بنیاد خبریں عوام میں پھیلنے والے خوف کو بڑھا دیتی ہیں۔ لہٰذا! صحافتی ضوابط اور اخلاقیات کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر خبر کی تصدیق پیش کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔ سچی ذمہ دار اور ہمدردانہ صحافت ہی آج قوم کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ عوامی رد عمل میں بھی ضبط اور شعور ضروری ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ کسی بھی معاملے میں محض غصے یا انتقام کے جذبات پر مبنی ردِ عمل سے پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔ اگر کوئی مشتبہ حرکت یا شخص نظر آئے تو فوری طور پر مقامی انتظامیہ یا پولیس کو اطلاع دیں مگر افواہوں یا ذاتی بیانات کی بنیاد پر کسی کو نشانہ نہ بنائیں۔ قانون کو اپنا راستہ چلنے دیں اور اپنے عمل سے بیداری و ہمدردی کا پیغام پھیلائیں۔ ہمیں متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہونا ہوگا۔ اس واقعے سے سبق لینے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حفاظتی انتظامات کی کمزوریوں، نگرانی کے طریقہ کار، ایمرجنسی رسپانس اور فوری طبی سہولتوں کے نظام کا بھرپور جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگر کہیں کوئی خامی نظر آئے تو اس کی اصلاح تیزی سے عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی تباہ کاری کے امکانات کم سے کم ہوں۔ اسی طرح کمیونٹی پولیسنگ، دہشت گردی کے خلاف پیشگی معلومات کے تبادلے اور حساس مقامات کی نگرانی میں اضافے جیسے عملی اقدامات فوری طور پر زیرِ غور آنے چاہئیں۔ قانونی کارروائی میں بھی شتابی اور احتیاط دونوں کی ضرورت ہے۔ مشتبہ عناصر کے خلاف مضبوط شواہد کے ساتھ مقدمات درج کیے جائیں اور خصوصی عدالتوں کے قیام یا تیز حرکیت فرضی کارروائیوں کے بجائے قانونی طریقہ کار کے تحت کیے جائیں تاکہ انصاف جلدی اور منصفانہ طور پر ہو اور کسی بھی قسم کی جانبداری کا شبہ باقی نہ رہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر انسانی جان کی حرمت کو مقدم رکھیں۔ دہشت گردی اور تشدد ہر اس اصول کے خلاف ہے جو ایک پرامن، ترقی یافتہ اور بامعنی معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے سماج کی تشکیل کے لیے کام کرنا ہوگا جہاں اختلاف رائے اظہار کی جگہ رکھتا ہو مگر انسانیت اور جانوں کی حرمت غیر مشروط طور پر مقدم ہو۔ جن تیرہ بے گناہ جانوں کا ہم نے پرخچے اُڑتا ہوا دکھ دیکھا وہ صرف اعداد نہیں بلکہ ہر ایک کے پیچھے ایک کہانی، ایک گھر، ایک زندگی اور خواب تھے۔ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس ملک کے امن، بھائی چارے اور شرافت کی پاسداری کریں گے اور کسی بھی ایسی سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ جو ہماری قوم کو تقسیم کرنے یا خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کرے۔ یہی اصل خراجِ عقیدت ہے، یہی عملی عقیدہ ہے اور یہی وعدہ ہونا چاہیے۔ انصاف ہوگا، ذمہ داری نبھائی جائے گی اور ہم متحد رہ کر دوبارہ اپنے ملک کو امن و آشتی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے