مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 
آج پوری دنیا میں ظلم وستم کی جو گرم بازاری ہے وہ نئی نہیں ہے ، ہر دور میں یہ گرم بازاری رہی ہے اور اس قدر رہی ہے کہہ انبیائے کرام اور مصلحین کو قتل کرنے تک سے لوگ باز نہیں آئے، ہر دور میں ظلم کے خلاف کچھ لوگوں کے کھڑے ہونے کی روایت بھی قدیم ہے، مکی  دور میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جو ظلم ڈھائے گئے اس کا ایک طویل سلسلہ ہے، کعبۃ اللہ میں طواف سے روکنا، جسم اطہر پر پتھر برسانا ، خون میں لہو لہان کرنا اور شعب ابی طالب میں قید کرنا یہ سب کفار مکہ کے ذریعہ کئے گئے ظلم و ستم کے جلی عنوان ہیں۔
ظلم عدل کی ضد ہے ظلم کے معنی زیادتی اور بے جگہ چیزوں کے رکھنے کے ہیں، انصاف کے خلاف کئے جانے والے سارے کام ظلم کے دائرے میں آتے ہیں، ظالم کا ساتھ دینا اور ظلم پر خاموش رہنا بھی بعض اعتبار سے ظلم ہی ہے۔
اللہ رب العزت کی ذات وصفات میں کسی کو شریک کرنا یہ سب سے بڑا ظلم ہے، اسے اللہ نے ظلم عظیم قرار دیا ہے ان الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ مغفرت کی گنجائش ایسے لوگوں کے لئے نہیں ہے ، ارشاد فرمایا ” إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَالِكَ لِمَنْ يَشَاءُ اللہ تعالی اس کی مغفرت نہیں کرتا جس نے اس کے ساتھ شرک کیا، اس کے علاوہ جتنے گناہ ہیں اللہ چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا ، قرآن کریم میں اللہ رب العزت پر افتراء اور جھوٹ کا تذکرہ بار بار آیا ہے اور اسے بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے ، ہر دور میں انبیائے کرام نے اس ظلم کو دور کرنے کے لیے آوازیں بلند کیں ، اس ظلم کے ختم کرنے کا جو نبوی طریقہ ہے وہ دعوت کے میدان میں سرگرم عمل ہونا ہے، ہماری جد و جہد کے بہت سے مراکز ہیں لیکن دعوت دین کا کام جس بڑے پیمانے پر ہمیں کرنا چاہیے تھا ہم نہیں کر سکے اور دھیرے دھیرے اس سے غافل ہو کر رہ گئے ہیں، ہمیں ہر وقت یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہاں کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے، ایک طبقہ نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور وہ امت اجابت کے زمرے میں داخل ہو گئی ، دوسرے نے قبول نہیں کیا ، یہ امت دعوت ہے اور ان تک اللہ کا کلمہ پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے، دعوت کے کاموں کے لئے جو اصول وضوابط قرآن وحدیث میں مذکور ہیں، ان کی رعایت بھی ضروری ہے اسوۂ نبوی کے مطابق دعوت کا کام نہیں کیا گیا تو روئے زمین سے اس بڑے ظلم کا خاتمہ نہ ہو سکے گا۔
ظلم کی دوسری قسم گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنی ذات پر ظلم کرنا ہے ظلم کی اس قسم کو آپ حقوق اللہ میں کمی کوتاہی سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں ، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ” وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ، جس نے اللہ کے حدود کو توڑا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مساجد میں جانے سے روکنا، اللہ کی آیات کو جھٹلانا اسی قبیل سے  ظلم ہے ، اس ظلم کو دور کرنے کا نبوی طریقہ یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا جائے اور معصیت کے ارتکاب سے پورے طور پر اجتناب کیا جائے ، اس سلسلے میں سیرت اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے اور ان کے اسوۃ کے مطابق زندگی گزارنا ہی اصل ہے، اس ظلم کو دور کرنے کے لیے انسان کو تزکیہ نفس پر توجہ کی ضرورت ہے، جس قدر تزکیہ ہو گا اسی قدر اس دوسرے قسم کے ظلم سے بچنا ممکن ہو سکے گا، بلکہ جب تزکیہ کامل ہوگا تو گناہوں کی طرف طبیعت مائل ہی نہیں ہوگی ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے قَدْ أَفَلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دسها بیشک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو پاک کر لیا اور بیشک وہ غارت ہوا جس نے اس کو آلودہ کر لیا۔ ظلم کی تیسری قسم حقوق العباد میں کمی کوتاہی ہے ، کسی کا مال ہڑپ کر لینا کسی کو ستانا، مزدور کو وقت پر اجرت نہ دینا، قرض کی ادائیگی میں وسعت کے باوجود ٹال مٹول کرنا اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں کو غلام بنانا، گواہی سے انکار کرنا اور حقیقت واقعہ سے واقفیت کے باوجود اسے چھپا لینا، ان سب کا تعلق تیسری قسم کے ظلم سے ہے، یہ معاملہ بڑا سنگین ہے، مسلم شریف میں ایک روایت ” باب تحریم الظلم "کے ذیل میں درج ہے، اس میں فرمایا گیا کہ قیامت کے دن امت کا مفلس ترین وہ انسان ہو گا جس نے حقوق اللہ میں کوتاہی نہیں کی ہوگی لیکن حقوق العباد میں ظلم کو راہ دیا ہوگا، اس دن اس کے سارے نیک اعمال کا ثواب مظلوموں کے کھاتے میں چلا جائے گا اور نیکی برباد گناہ لازم آئے گا ظلم کے اس سلسلے کو ختم کرنے کے لیے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی جامع حدیث بخاری شریف میں آئی ہے” انصر اخاک ظَالِماً أَوْ مَظْلُوماً “ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، اس حدیث میں ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کے لئے کہا گیا ہے ، ظالم کی مدد تو یہ ہے کہ اس کی کلائی پکڑ لی جائے کہ وہ ظلم سے باز آ جائے ، موجودہ دور میں اس سے مراد وہ تمام جائز طریقے ہیں ، جن کا سہارا لے کر ظلم سے روکا جا سکتا ہو، مظلوم کی مدد یہ ہے کہ اس پر ظلم نہ ہونے دیا جائے اور ہر ممکن طور پر اس کی حمایت اور دفاع میں آگے آیا جائے تا کہ ظالم کی ہمت اور کمر ٹوٹ جائے ۔
مکی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ظلم کے خلاف صبر و برداشت کا تھا، یہ صبر وبر داشت غیر معمولی ہوا کرتا تھا، ان ممالک میں جہاں مسلمان مکی  دور سے گزر رہے ہوں ظلم کے دفاع کا یہ بھی ایک طریقہ ہے، ایک طریقہ ہم خیال لوگوں کو ساتھ لے کر ظلم کے خلاف محاذ بنانے کا ہے، قبل نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے معاہدہ میں شریک ہوئے تھے جو ایک صاحب کے مالی حقوق دلانے کے لئے ہوا تھا، یہ مکہ کے چند نوجوانوں کی تحریک تھی، جس نے بہت سارے ظلم کوختم کرنے کا کام کیا تھا، یہ معاہدہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ اونٹنی سے زیادہ پسند تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج بھی اگر کوئی اس قسم کے معاہدہ کے لیے ہمیں بلائے گا تو میں حاضر ہوں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کے دفاع اور مظلوموں کی حمایت کا نبوی طریقہ یہ بھی ہے کہ کمزور اقوام و ملل مل کر ظلم کے دفاع کے لیے متحدہ اور مشترکہ ایجنڈے پر اٹھ کھڑے ہوں تا کہ وہ ظالم طاقتوں کا مقابلہ کرسکیں ۔
مظلوموں کی حمایت کا دوسرا طریقہ میثاق مدینہ ہے، جو ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بقائے باہم کے اصولوں پر کیا تھا، یہ میثاق بھی ظلم کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے، اس قسم کا کوئی معاہدہ جو آج کے جمہوری دور میں بقائے باہم کے اصولوں پر مبنی ہو ظلم کے دفاع کیلئے نبوی طریقہ کار کے عین مطابق ہے۔
ظلم کی دفاع کے طریقے زمان و مکان کے اعتبار سے بدل سکتے ہیں، ہندوستان میں سی اے اے این آرسی اور این پی آر کے حوالے سے شہریوں کو پریشان کرنا، بنیادی حقوق سے محروم رکھنا یا محروم کرنے کی کوشش کرنا بھی ظلم کے دائرے میں آتا ہے ، اس کے دفاع کے لئے ہندوستان میں احتجاج مظاہرے اور دھرنوں کا طویل اورتاریخی سلسلہ شروع ہوا تھا اور ملک کی بڑی آبادی احتجاج کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی، یہ احتجاج اور مظاہرے عالمی طور پر نا انصافیوں کو ختم کرنے میں مؤثر رول ادا کرتے ہیں اور حکمراں جماعت اس زبان کو سنتی اورسمجھتی ہے، اس لئے ظلم کی دفاع میں پوری دنیا میں اس کو مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، البتہ اسلام مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے دفاع کیلئے کس بھی ایسے کام کو پسند نہیں کرتا جس سے اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا لازم آتا ہو، ارشاد خداوندی ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ اس ممانعت کا حاصل یہ ہے خود سوزی اور اس طرح کے دوسرے کام جس سے اپنی اور غیر متعلق لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہونچے اس کی حمایت نہیں کی جانی چاہئے، اسلام میں ظلم کے دفاع کے لیے بھی حدود و قیود مقرر ہیں اور ہم اس کی خلاف ورزی کر کے ظلم کے دفاع کا کام نہیں کر سکتے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ظلم کی الگ الگ قسموں کے دفاع کے لئے اسوہ رسول اکرم میں الگ الگ نمونے موجود ہیں ان کو برت کر ہم اس دنیا کو ظلم وستم سے پاک کر سکتے ہیں، اس معاملہ میں شرک سے پاک سماج کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، رب مانی کا مزاج بنتا ہے تو من مانی ختم ہوتی ہے، اور انسان خدائی احکام اور نبوی ہدایات کا خوگر ہو کر ہرقسم کے ظلم کا خاتمہ کر سکتا ہے، قانون الٰہی کی پابندی اور منکرات سے اجتناب ظلم کے دفاع میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے