نوراللہ خان

دراصل تقسیم کے بعد ہندوستان میں مکاتب کی ضرورت پڑی اور چونکہ نظام بدلا تھا اس لئے دینیات کی بقا اور بچوں کی بنیادی دینی تعلیم ایک مسئلہ کی طرح سامنے کھڑی مصیبت تھی۔ قاضی عدیل عباسی نے اترپردیش مشرق اور دیگر علاقوں میں دیگر علماء نے بڑے پیمانے پر مکاتب کا قیام کیا۔

مگر حالات بدلے، نئے اسکول نئے سلیبس کے ساتھ آئے۔ سن ۲۰۰۰ کے بعد موبائل اور پھر انٹرنیٹ اور اب اے آئی نے پورا ماحول بدل دیا مگر ۹۹٪ مکاتب کا حال وہی ہے نہ ہی بدلنے کا احساس وہاں کے اراکین کے اندر جاگ سکا ہے۔ خود مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والے علماء تک کو ہر چیز مداخلت محسوس ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ مکاتب کمزور ہو گئے ، ہزاروں کی تعداد میں بند ہو گئے اور جو باقی ہیں وہاں حالات ناگفتہ بہ ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہونا چاہئے؟

دراصل مکاتب کا مقصد قیام اگر سامنے ہوتو مسائل نہیں آئیں گے بلکہ لوگ بہتر حل تلاش کرسکتے ہیں مگر ہمارے یہاں جذباتی باتوں پر عمل زیادہ ہے اس لئے دین کے نام پر بھی کھلواڑ بہت ہے۔ بات تلخ ہے مگر حقیقت سے بھری ہوئی ہے اور یہ افسانہ نہیں زمینی سچائی ہے۔

۱- مکاتب جہاں دس بیس پچاس بچے ہیں اور صرف ایک مدرس رکھکر خانہ پُری کا ماحول بناکر ناظم اور صدر بنکر دھونس جماتے ہوئے اپنے بچوں کو اسکول میں اچھی تعلیم دینے کا ماحول ہے ایسے ارکان مکاتب اور ایسے نظماء اور صدرو کو سمجھنا چاہئے کہ مکتب کا قیام اور اسکی ضرورت صرف یہ ہے کہ بچے دینی باتیں، دعائیں، اذکار اور ناظرہ قرآن اور اردو سیکھ سکیں۔ اس لئے ایسے مکاتب جہاں اکیلے کوئی مدرس ہو اور درجہ پنجم تک کی سند دیتےہیں وہاں کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ باقی مضامین سے کھلواڑ ایک گناہ ہے۔ اور عجیب معاملہ ہے ۔ کسی کی جہالت ولاعلمی کا فائدہ اٹھاکر اسکے بچوں کو مستقبل کا مزدور نہ بنائیں کیونکہ اب بچوں کا PEN No اور اسکول کا UDISE Code آگیا ہے اور اس کے بغیر وہ بچہ کہاں داخلہ پائے گا۔ اس کا خیال رکھیں۔

۲- اس لئے چار چھ مدرس ہوں اور مکتب منظور شدہ ہو ، مدرسہ بورڈ یا اسٹیٹ سرکار سے کوئی سند ہو یا کوئی اور شکل ہو جہاں سرپرستوں کے بابت کوئی ایشو کا معاملہ نہ ہو اور معیار بھی قائم تو درست ہے ورنہ شہروں کی طرح آپ بھی جز وقتی مکتب چلائیں اور اس کیلئے ایک دو گھنٹے کافی ہیں۔

۳- جہاں مکتب کی عمارت نہ ہو وہاں اپنی مسجد کا استعمال کریں اور امام رکھیں اس سے دونوں کام ہوں گے۔

۴- جزوقتی مکاتب سے سارے بچے مفت سرکاری پرائمری/ پرائیویٹ نارمل اسکول یا اچھے مہنگے اسکولز میں حسب استطاعت تعلیم پائیں گے اور تینوں طرح کی آمدنی والے گھرانے پڑھائی کریں گے اور شام میں پورے گاؤں ومحلے کے سارے بچے و بچیاں دینی تعلیم سے بھی بہرہ ور ہوں گے۔

نوٹ: اللہ کے واسطے دس بیس بچوں کے نام پچاس لاکھ کی ایک بیگھہ زمین پھر چندہ پھر نظامت کے جھگڑے اور گندی سیاست اور نتیجتا نہ مدرس کی مناسب تنخواہ نہ بچوں کی تعلیم ہو یہ نا مناسب ہے۔ وقت اور پیسے کا ضیاع غلط ہے ہمیں نتائج پر توجہ دینا چاہئے۔

پوری دنیا میں مسلمان بچوں کو اب جزوقتی مکاتب کے ذریعے دینی تعلیم اپنی مساجد میں دیتے ہیں اور مروجہ مکاتب سے اچھا تلفظ اور اچھی تجوید بچے سیکھتے ہیں اور وہی مسجد کا امام دونوں کام کرتے ہیں۔

بات تلخ ہے ۔۔۔۔مگر لاکھوں مسلم بچے کمزور معیار تعلیم کے سبب تعلیم چھوڑکر مزدور بنتے ہیں اس لئے یا تو اچھے معیاری مکاتب چلائیں یا پھر دو گھنٹے والا شام میں مکتب چلائیں۔ اللہ کے واسطے قوم کی تعلیم سے کھلواڑ بہت نامناسب ہے۔ اس کو سمجھیں۔

ہندی، انگریزی، جغرافیہ اور سوشل سائنس یہ سب تو کسی بھی زبان میں پڑھا سکتے ہیں۔ کئی جگہ میں نے دیکھا ہے کہ گیارہ اور پندرہ بچے ہیں اور سال میں تین مدرس بدلتے ہیں۔ چار پہیا سے چلنے والے مسلمان فیس کے بجائے صرف چندہ سے مکتب چلانا چاہتے ہیں۔

بعض جگہ تو اب بھی کچھ بے چارے نو بجے سے چار بجے تک کی تعلیم کا نظم کئے ہوئے ہیں اور ان معصوم بچوں کو تعلیم کے نام پر بے وقوف بناتے ہیں اور مدرس بھی پریشان ہوتے ہیں۔

اور یاد رکھئے صرف اسکولوں کا سیلاب اور مغرب کی سازش کہکر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یا تو معیار ونصاب درست کیجئے یا پھر جزوقتی مکتب چلائیے تاکہ اس وقت جو بچے مکتب سے دور ہیں ان کو بھی شام میں دینیات کی کلاس مل سکے اور جو بچے ایک حافظ جی سے سارے مضامین درجہ پنجم تک پڑھ رہے ہیں ان کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ اور وہ اس مذاق سے بچ سکیں۔

مسلم بچے ترک تعلیم میں آگے ہیں اس کے پیچھے ایک بڑا سبب معیار کی کمی ہے ۔ مکتب کے بعد وہ درجہ ششم یا جونئر کی کلاس چھ میں داخلہ لیتے ہیں۔ اس وقت ہندی میڈیم اسکول ہی ہم سے بہت زیادہ معیاری ہیں اور انگلش میڈیم کا نصاب تو بہت معیاری ہے جسکی وجہ سے یہ بچے دسویں تک پہونچتے پہونچتے نوے فیصد چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے یکطرفہ نہ سوچیں بلکہ حالات سے سیکھیں ۔ شہروں میں یہ تناسب کم ہے اور شہروں میں غربت اور گھر کا ماحول ذمے دار ہے۔

ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ عمومی باتیں کرکے دین اور دنیا کی باتیں کی جاتی ہیں اس سے کنفیوزن ہوتا ہے۔ پہلے دین پھر دنیا یہ جذباتی بات ہے۔

ایک بچے کی عمر ہوتی ہے۔ اس لئے سب کچھ شروع سے ہونا چاہئے۔ گیارہ سے بارہ سال کی عمر میں ایک بچہ درجہ پنجم یا کلاس ۵ مکمل کرتا ہے۔

دنیا کی تعلیم بارہ سال بعد کیسے شروع کریں گے۔ آپ کو تو ان اسکولوں میں ہی جانا ہے جہاں پہلے سے پڑھے ہوئے بچے ہوں گے اور یہیں سے تعلیم سے دوری کا مرحلہ آتا ہے۔

ازراہ کرم مکتب مزید قائم کریں لیکن معیاری ومنظم اور منظور شدہ ہو ، اور کم سے کم پانچ مدرسین ہوں یا پھر مسجد میں منتقل کردیں ۔

لیکن صرف عم پارہ اور ایک دو کتابیں اردو کی پڑھاکر پورا دن والا مکتب یہ ملت کو برباد کرے گا۔ اسکو فروغ نہ دیں ۔

اچھی تعلیم وہنر سے ہی بچے کامیاب ہوں گے ورنہ کمزور ، غریب اور مفلس مسلمان مجبوری میں نہ ضمیر بچا سکتا ہے نہ اپنا ایمان ۔

اسلام نے قوی مومن کی تعریف کی ہے اور دین کے نام پر بھی نامناسب عمل سے روکا ہے۔ مجھے نوجوان بچوں کا فون آتاہے کہ دسویں نہیں ہے ۔۔۔فلاں چیز کرنا ہے ہم قاصر ہیں۔ اور یہ سب وہی ہیں جو وسائل کے باوجود برائے نام تعلیم والے مکاتب میں تھے یا والدین غفلت کا شکار تھے۔

اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کہاں سے ناکامی ہورہی ہے اور زوال کے اسباب کیا ہیں؟

دراصل جذبات اور لاعلمی میں کچھ روایتی چیزیں نقصان کرجاتی ہیں۔ ہمیں اب فیس کا بھی نظم کرنا چاہئے تاکہ غیر مستقل وغیر مستحکم مالی نظام “ رمضانی چندہ” پر مکمل انحصار نہ رہے۔ کیونکہ چندہ کبھی کم کبھی زیادہ ہوتا ہے اس سے بڑے مسائل ہوتے ہیں اور بعض دفعہ مدرسین کو مالی بحران کے سبب نکال دیا جاتا ہے۔

جو چند بچے ہماری بدنظمی اور غیر معیاری تدریس سے برباد ہوں گے وہ بھی ملت کے بچے ہیں اور جو مکاتب کے معیار سے نالاں ہوکر بھاگ کر دینیات سے محروم ہیں وہ بھی قوم کے بچے ہیں اور دونوں کا نقصان مستقبل کیلئے ایک وبا ہے جسکا حل متوازن طریق کار سے ممکن ہے۔

 اللہ ہمیں حالات کی نزاکت اور دین ودنیا کی تفریق کو صحیح فکر کے ساتھ سمجھنے کا موقع دے ۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے