لکھنؤ میں علاج کے دوران سندیپ یادو دم توڑ گئے؛ پولیس نے مقدمے میں قتل کی دفعات کا کیا اضافہ، ملزمان کی تلاش جاری
لوٹن، سدھارتھ نگر:ضلع سدھارتھ نگر کے تھانہ لوٹن کے تحت گرام دھرنیہوا کلہوا میں طویل عرصے سے جاری زمینی تنازع بالآخر ایک نوجوان کی موت پر ختم ہوا۔ کئی دنوں تک زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد زخمی نوجوان کی موت کی خبر جیسے ہی علاقے میں پہنچی، کہرام مچ گیا اور مقامی افراد نے پولیس انتظامیہ کے خلاف سخت احتجاج کیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، گرام گدہمروا کے رہائشی رام میلن کے خاندان اور دھرنیہوا کلہوا کے سندیپ یادو کے درمیان زمین کو لے کر پرانی دشمنی چلی آ رہی تھی۔ گزشتہ 24 اپریل کو یہ تنازع اس وقت خونی تصادم میں بدل گیا جب دونوں فریقین کے درمیان لاٹھی ڈنڈے چلے۔ اس حملے میں سندیپ یادو کے سر پر شدید چوٹیں آئیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر لکھنؤ کے ہائر سینٹر ریفر کیا گیا۔ جہاں بدھ کے روز وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
نوجوان کی موت سے مشتعل لواحقین اور سیکڑوں افراد نے سندیپ کی لاش کو لوٹن چوراہے پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور راستہ کو مکمل طور پر جام کر دیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور پولیس کی جانب سے برتی گئی مبینہ سستی کا ازالہ کیا جائے۔ احتجاج کے باعث گھنٹوں ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔
پولیس کی کارروائی اور سنگین
حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے موقع پر سی او (CO) صدر سمیت بھاری پولیس نفری اور پی اے سی (PAC) طلب کر لی گئی۔ پولیس حکام کی جانب سے متاثرہ خاندان کو انصاف کی یقین دہانی اور مقدمہ نمبر 34/2026 میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 105 (غیر ارادتاً قتل) کے اضافے کے بعد مظاہرین پرامن ہوئے۔
پولیس نے بابلو یادو کی تحریر پر رام میلن، رام اودھ، نوین، رام لکھن اور کھر کھر سمیت کئی افراد کو نامزد کیا ہے، جبکہ آڈیو ویڈیو شواہد کی بنیاد پر مزید کچھ افراد کو بھی تفتیش کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔ ایس پی سدھارتھ نگر کے مطابق، فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے پولیس فورس تعینات ہے۔
