زین العابدین خان ممبرا ممبئی

یہ بہت ہی کڑوا سچ ہے کہ آج کل کے نکاح کی تقریب بالکل ہی بےحیائی کا مرکز بن گیا ہے ۔جو عورت ہفتوں ہفتوں ,مہینوں مہینوں اپنے شوہر کے لیے زینت اختیار نہیں کرتی۔میک اپ وغیرہ سے دور رہتی ہے وہی عورت کسی کے شادی میں اس قدر سج دھج کے جاتی ہے کہ معلوم پڑتا ہے اسی کا نکاح ہورہا ہے ۔

اور تو اور اب یہ رواج بھی ہوگیا ہے ایک دوسرے سے مقابلہ چل رہا ہے حسد چل رہا ہے ایک دوسرے کو پیچھے کرنے کا ٹرینڈ چل گیا ہے کہ ہمسایہ کے شادی میں جتنی گاڑی بک ہوئی تھی ہمیں اس سے زیادہ بک کرنا ہے, پڑوسی کے گھرجتنے باراتی آئے تھے ہمیں اس سے زیادہ بلانا ہے, سامنے والے کےکا شادی ہال کیسا تھا جتنے کرایہ پر بک کیا تھا ہمیں اس سے زیادہ اچھا اور مہنگا بک کرنا ہے,سامنے والا کھانے میں کیا کیا آئٹم رکھا تھا ہمیں اس سے زیادہ آئٹم اور اس سے اچھا کھانا رکھنا ہے

لیکن افسوس صد افسوس اگر مقابلہ نہیں ہوتا ہے تو مہر کا نہیں ہوتا ہے ,مقابلہ نہیں ہوتا ہے تو بہن بیٹیوں کےحقوق کا نہیں ہوتا ہے ,مقابلہ نہیں ہوتا ہے تو خوشیوں میں اپنوں کو , غریبوں مسکینوں کو شامل کرنے کا نہیں ہوتا ہے,مقابلہ نہیں ہوتا ہے سادگی کا نہیں ہوتا ہے ۔۔۔عورتوں کا مقابلہ مہنگے سے مہنگے کپڑوں کا ,زیور کا ,میکپ کا چلتا ہے۔ اور شادی ہال میں بے پردگی ایسے دیکھنے کو ملتا ہے گویا مذہب اسلام میں پردہ نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے مگر شادی کے بعد عام دنوں میں وہی خواتین ایسے پردہ کرتی ہیں لگتا ہے کہ معاشرے میں ان سے بڑا باپردہ ہی کوئی نہیں ہے ۔۔ نکاح کی اصل روح معاشرے سے بلکل ختم ہورہی ہے اس میں عام اور خاص سبھی شامل ہیں الا ماشاء اللہ ۔۔ اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ اور خوشی اور غمی میں دینداری کو برتنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے