محمد یوسف کنی بنگلور
بالکل ہمارے سامنے، صرف دس فٹ کے فاصلے پر ایک فیملی برسوں سے رہتی تھی۔ کبھی کبھار لفٹ میں ان پڑوسیوں سے ملاقات ہوجاتی — دراز قد، سفید بال، نم آنکھیں اور ہاتھ میں تھامی ہوئی لاٹھی ان کی پہچان تھی۔
ان کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا۔ میں نے کبھی یہ زحمت نہیں کی کہ ان کا حال پوچھ لوں۔ کبھی ان کے گھر سے برتن گرنے کی آواز آتی، کبھی ایک صاحب ہاتھ میں بیگ لئے ان کی بیل بجاتے نظر آتے۔ اسی طرح تقریباً دس سال گزرتے چلے گئے۔
عصر کی نماز کے بعد امام صاحب نے ایک معذور نوجوان اشفاق کے انتقال کا اعلان کیا اور دعا کروائی۔ گھر پہنچا تو دیکھا کہ بلڈنگ کے سامنے چند لوگ غسل اور کفن کا انتظام کر رہے تھے۔ میں حیران تھا—ہماری ہی بلڈنگ میں کس کا انتقال ہوگیا؟
چوتھی منزل پر آیا تو سامنے والے فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا، اندر سے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں گم صُم گھر میں داخل ہوا اور اہلیہ سے پوچھا:
“سامنے والے گھر کا دروازہ کھلا ہے، رونے کی آوازیں آ رہی ہیں—اور باہر جنازے کا انتظام؟”
اہلیہ قریب آئیں اور آہستہ سے بولیں:
’’مجھے بھی آج ہی پتہ چلا کہ دونوں میاں بیوی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ ان کے تین بیٹے اسی شہر میں اپنی فیملیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ صرف ایک معذور بیٹا رہتا تھا… اور آج وہ چل بسا۔‘‘
میں نے پوچھا: “تم اس بوڑھی ماں سے تعزیت کے لیے گئیں؟”
اہلیہ نے شرمندگی سے کہا:
’’ہم ایک ہی بلڈنگ، ایک ہی منزل میں رہتے ہوئے بھی کبھی وقت نہ نکال سکے۔ آج ان کے دروازے تک جانا بھی شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔‘‘
وہ بولیں: ’’آپ تو ضرور گئے ہوں گے بوڑھے باپ کو دلاسا دینے؟‘‘
میں نے کہا: ‘‘نہیں… میں بھی اُسی شرمندگی کا شکار ہوں۔‘‘
شرف الدین صاحب ایک شریف اور نیک دل سرکاری ملازم تھے۔ بچوں کو اچھی تعلیم دی، اچھی جگہ شادیاں کیں، اور تینوں نے اسی شہر میں اپنے اپنے گھر بسالئے۔ بیٹی امریکہ میں رہتی ہے—انتقال کی خبر سن کر وہیں سے ویڈیو کال کے ذریعے آخری دیدار کیا۔ ان کے دوسرے بیٹے اپنی اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہوکر جب گھر پہنچے، تب تک جنازہ اٹھایا جانا تھا
اس بوڑھے میاں بیوی کے ساتھ صرف ایک معذور بیٹا رہتا تھا، جو تیس برس کی عمر میں آج دنیا سے رخصت ہوگیا۔ ہمیں اکثر اس کے ہاتھ سے برتن گرنے کی آواز سنائی دیتی تھی، اور جب کبھی فیملی ڈاکٹر آتے تو بیل بجتی تھی۔
لیکن ہم… ہم دس سال تک پڑوسی ہو کر بھی ایک بار بھی ان کے دروازے پر نہ جا سکے۔ ہماری بے خبری کا یہ حال تھا کہ رات کے سناٹے میں بھی برتن گرنے کی آواز آتی مگر دل میں یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ جا کر پوچھیں—“سب خیریت ہے؟”
مغرب کے بعد جب معذور نوجوان کا جنازہ اٹھا تو بوڑھے ماں باپ کے لبوں پر درد بھری آواز تھی:
“بیٹا، تم معذور تھے… مگر ہمارے جینے کا سہارا تھے۔ تمہیں دیکھ کر زندگی کی امید بندھی رہتی تھی۔ ہم سوچتے تھے کہ شاید ہمارے اچھے ہمسائے ہوں گے… مگر معلوم ہوا کہ لوگ ہمسایہ کے حقوق سے ناواقف ہیں۔”
شرف الدین صاحب لاٹھی تھامے آہستہ آہستہ جنازے کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے بس اتنا کہہ رہے تھے:
“کاش… کوئی ہمسایہ کے حقوق پر مہم چلا دے۔”
ادھر جنازہ اٹھ رہا تھا—ادھر میری آنکھیں پہلی بار کھل رہی تھیں۔
