✍️ڈاکٹر شارب مورانوی بارہ بنکی!
ماضی قریب تک ہماری زندگیاں سادہ اور ہماری عبادتیں خلوص سے بھرپور ہوا کرتی تھیں۔ عبادت اور عزاداری دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔ نیت صرف رضائے الٰہی ہوا کرتی تھی۔ آج کل صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ ہمارا مذہبی کیلنڈر گویا "موسمی کاروبار” کا کیلنڈر بن کر رہ گیا ہے۔
پہلے محرم الحرام میں دو ماہ آٹھ دن کی عزاداری ہوتی تھی، پھر رمضان المبارک کی عبادتیں ہوتی تھیں۔ رجب و شعبان کے بعد شہادتوں و ولادتوں کے ایام، چہاردہ معصومین، جناب زینب، حضرت عباس علیہم السلام کے ایام، پھر محلے داروں اور رشتہ داروں کے چہلم اور برسی. یہ سلسلہ ایسا چل پڑا ہے کہ سال کے بارہ مہینے بارہ "موقعے” بن کر رہ گئے ہیں۔ اب اس پر "ایام فاطمیہ” کے نام سے ایک اور پورا مہینہ بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ان تمام تاریخوں کی شرعی حیثیت یکساں اور مسلمہ ہے؟ یا پھر یہ ایک طرح کا "مذہبی سیزن” ہے جسے ہر نئے مولوی صاحب اپنی دال روٹی کے لیے ایک نیا "مصنوعی تہوار” ایجاد کر کے اور طویل کرتے جا رہے ہیں؟ کیا ہماری جہالت اور کورانہ تقلید کی وجہ سے ہم اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو بغیر کسی سوال کے قبول کرتے جا رہے ہیں؟
پہلے ہماری عزاداری بے ساختہ، ڈھونگ سے پاک اور خلوص سے لبریز ہوتی تھی۔ آج کل صورت حال یہ ہے کہ بعض مولوی حضرات نے اس میں اپنے ذوق کے مطابق "نمک مرچ” کا چھڑکاؤ کر دیا ہے۔ ہر کوئی اپنے ذوق کے مطابق عزاداری کا "ٹیسٹ” تلاش کرنے لگا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مولا (ع) کس قسم کی عزاداری پسند فرماتے ہیں؟ ہمارا اپنا پسندیدہ ذوق کس حد تک معیار ہو سکتا ہے؟
یہ المیہ صرف عزاداری تک محدود نہیں۔ آج ہر معاملہ ایمانی کم اور "معاشی” زیادہ بن گیا ہے۔ روحانیت مسجد میں کم اور انتظامی میٹنگوں میں نظر آتی ہے۔ مجلس کے لیے پہلے چندہ ہوتا ہے، پھر میٹنگ ہوتی ہے۔ چندہ تو سب کا ہوتا ہے مگر چہرہ صرف اپنا دکھایا جاتا ہے۔ نمود و نمائش اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگ چندہ صرف اس لیے دیتے ہیں تاکہ وہ کسی کمیٹی میں اپنا مقام بنا سکیں۔
حالانکہ ہمارے بزرگوں کا دور اس سے یکسر مختلف تھا۔ وہاں دین، تاریخوں اور دنوں سے نہیں بلکہ دلوں سے چلایا جاتا تھا۔ نیت کی صداقت سب سے بڑی پونجی تھی۔ آج ہماری بے چارگی دیکھیے کہ بعض مولوی صاحبان کی داڑھی تو سنت رسول (ص) سے چلتی نظر آتی ہے، مگر ان کا مذہبی کیلنڈر مکمل طور پر بازار کے تقاضوں کے مطابق چلتا ہے۔ ہر نئی تاریخ کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی نیا "سیزن لانچ” ہو رہا ہو، نہ کہ کوئی نیا موقع عبادت۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دین و مذہب کی اصل روح کی طرف لوٹیں۔ رسومات کی کثرت نہیں، اعمال کی ہے خلوص جسکا اصل معیار ہے۔ ہمیں اپنے بزرگوں کے اس طریقہ کار کو اپنانا ہوگا جہاں دین، دلوں سے چلایا جاتا تھا، نہ کہ صرف دنوں اور تاریخوں سے۔ اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
