ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیئرمین ملت اکیڈمی، بجنور

اسلام نے آس پاس رہنے والے انسانوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کی بہت تاکید کی ہے۔ جب پڑوسیوں کے درمیان خوشگوار تعلقات ہوں تو وہ دکھ درد میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اگر تعلقات خراب ہوں تو انسان مصیبت کے وقت خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس لیے اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہمدردی، محبت، خیرخواہی اور خدمت کا معاملہ کرے تاکہ محلہ اور سماج کا ماحول پرسکون اور اطمینان بخش رہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ سماج میں لوگ ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ اگر یہ تعاون ختم ہوجائے تو معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے۔ اللہ کے رسول ﷺ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:۔’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں یا جسے اللہ اور رسول کی محبت کا دعویٰ ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کا حق ادا کرے۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔’’اللہ کے نزدیک سب سے بہتر انسان وہ ہے جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو۔‘‘(سنن ترمذی)آنحضورﷺپڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بڑی تاکید کرتے تھے۔ خود بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے اور صحابہؓ کو بھی ابھارتے تھے۔ اس لیے کہ حضرت جبرئیل ؑ بھی مسلسل آنحضور ﷺ کو پڑوسیوںکے ساتھ اچھا برتائو کرنے کی تاکید کرتے رہتے تھے۔ آنحضور ﷺنے ارشادفرمایا:۔’’جبرئیل پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کرتے رہے کہ مجھے خیال ہوا کہیں اسے وراثت میں بھی شریک نہ کر دیا جائے۔‘‘(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
پڑوسی چاہے رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار یا کچھ دیر کے لیے آپ کے ساتھ رہا ہو ہر ایک آپ کے حسنِ سلوک کا مستحق ہے۔ اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھئے۔ اس کے غم کو اپنا غم سمجھئے۔ اس کے دکھ درد میںکام آئیے۔ اس کی مصیبتوں کو دور کرنے کی کوشش کیجئے۔ اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے تو اس کی خلاصی کے لیے کوشش کیجئے۔ اس کی خوشی پرفرحت ومسرت کا اظہار کیجئے۔ اس کے بگڑے کاموں کو بنانے میں اس کی مدد کیجئے۔قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا:۔والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب(النسا ء : 36)’’اور قریب کے پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور پہلو میں رہنے والے ہم نشین کے ساتھ بھی احسان کرو۔‘‘
پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوسکتا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بارگاہِ الٰہی میں سب سے پہلے جو مدعی اور مدعا علیہ پیش ہوں گے وہ دوپڑوسی ہوں گے۔(مسند احمد)
دوسری حدیث میں پڑوسی کی گواہی کو ہی انسان کے اچھے یا برے ہونے کا معیار قرار دیا گیا ہے۔حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :۔’’جب تم اپنے پڑوسی کی زبان سے اپنے بارے میں اچھا سنو تو سمجھ لو کہ تم اچھا کر رہے ہو، اور جب اپنے پڑوسی کو اپنے بارے میں برا کہتے سنو تو سمجھ لو کہ تم برا کر رہے ہو۔‘‘(سنن ابن ماجہ)
اگر آدمی پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کرسکتا تو خدا کے نزدیک اس کا ایمان کامل اور قابلِ اعتبار نہیں۔ایمان کے قابل اور معتبر ہونے کے لیے پڑوسی کے ساتھ نیکی کا برتائو کرنا ضروری ہے ۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:۔وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ قِیْلَ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ الَّذِیْ لَایَأمَنْ جَارُہٗ بِوَائِقَہٗ(متفق علیہ)
’’خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں،پوچھا گیا کون یا رسول اللہ؟آپ ؐ نے فرمایا:۔’’ جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ رہے۔‘‘(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
اپنے پڑوسی کی ضرورتوںکو اپنی ضرورتوں پر ترجیح دیجئے۔ جو چیز اپنے لیے پسند کرتے ہیں اس کے لیے بھی پسند کیجئے۔ جس طرح اپنے لیے دولت، عزت ووقار کی تمنا کرتے ہیں اس کے لیے بھی تمنا کیجئے کیونکہ اسلام نے پڑوسی کے ساتھ ایسے ہی سلوک کی تاکید کی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے پڑوسی کے لیے وہی نہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:۔’’وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح)
جس طرح آپ کے پڑوس میں رہنے والا آپ کا پڑوسی ہے اسی طرح اگر آپ تاجر ہیں تو آپ کے ساتھ تجارت کرنے والا، آپ اگرملازم ہیں تو آپ کے ساتھ ملازمت کرنے والا، آپ اگر پڑھتے ہیں تو آپ کے ساتھ پڑھنے والا، یہاں تک کہ آپ کے ساتھ سفر کرنے والا بھی آپ کا پڑوسی ہے۔ ان تمام پڑوسیوںکے حقوق ادا کیجئے۔
پڑوسیوں کو تحفے تحائف بھیجتے رہئے اس سے محبت بڑھتی ہے اور تعلق میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے۔ آنحضور ﷺنے ارشاد فرمایا:تَھَادُّوْا تَحَابُّوْا (موطا امام مالک)اورتم آپس میں تحفہ دیا کرو اس سے باہم محبت بڑھتی ہے۔
گھر میں تیار کی گئیں چیزیں تحفہ میں بھیجئے۔ شادی، عقیقہ وغیرہ کی تقریبات میں شرکت کیجئے۔ ہوسکے تو کچھ تحفے تحائف پیش کیجئے۔کسی تحفہ کو حقیر یا معمولی نہ سمجھئے۔ اگرپڑوسی بیمارہوجائے تو اس کی عیادت وتیمارداری کیجئے۔ اگر خدانخواستہ کوئی پریشانی والی بات پیش آجائے تو تعزیت ودلجوئی کیجئے۔ اگر فقر وفاقہ میں مبتلا ہو تو اس کی ضروریات پوری کیجئے۔ حضرت ابوذؓ رسے آپ ﷺ نے فرمایا:۔’’جب شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لو اور پڑوسیوں کا خیال رکھو‘‘(صحیح مسلم)تحفے میں معمولی چیز کو بھی حقیر نہ سمجھا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔’’مسلمانوں کی عورتوں میں سے کوئی عورت اپنی پڑوسن کے تحفے کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘(صحیح بخاری)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے گھر ایک بکری ذبح ہوئی تو انہوں نے پوچھا پڑوسی کو گوشت پہنچا دیا؟ گھر والوں نے کہا پڑوسی تو یہودی ہے۔ انہوں نے فرمایا :۔’’پہلے اسی کے گھر بھیجو۔‘‘
نبی اکرم و کی ہدایت ہے کہ پڑوسیوں میں ترجیح بھی رکھی جائے۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا :۔’’میرے دو پڑوسی ہیں کچھ بھیجنا چاہوں تو کس کے پاس بھیجوں؟ ‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:۔’’جس کا دروازہ تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہو‘‘(ترمذی)
اچھا پڑوسی اللہ کی بڑی نعمت ہے اگر اللہ آپ کو اچھا پڑوسی دے تو اس پر اللہ کا شکرادا کیجئے۔ اگر آپ کوکہیں منتقل ہو نا ہویا کہیں گھر بنانا ہوتو پڑوسی کا جائزہ ضرور لیجئے اور اچھے پڑوس کا انتخاب کیجئے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے۔(الجار قبل الدار) (گھر سے پہلے پڑوسی کودیکھ لو)
اگر خدا نخواستہ آپ کا پڑوسی اچھا نہیں ہے یا اس کا رویہ آپ کے ساتھ تکلیف دہ ہے تو آپ اس کی اصلاح کی کوشش کیجئے۔جواب میں اس کے ساتھ برا رویہ نہ اپنائیے۔
آنحضورؐنے ارشاد فرمایا:
مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِفلَاَ یُؤْذِ جَارَہٗ (متفق علیہ)
’’جوخدا اورآخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے۔‘‘
آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:۔
’’وہ شخص مؤمن نہیں جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔‘‘
برُے پڑوس کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیے۔ اس کی برائی کے جواب میں اس کے ساتھ برائی کا برتائو نہ کیجئے بلکہ اچھے برتائو سے اس کو متاثر کرنے کی کوشش کیجئے۔ یقین رکھئے کہ ایک نہ ایک دن اس کی اصلاح ضرور ہوجائے گی۔ اس کا ضمیر اسے ملامت کرے گا اور وہ آپ کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے گا۔ اس کا برا رویہ اچھے رویہ میں بدل جائے گا۔
قرآن میں ارشاد فرمایا گیا:
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٗ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(حم السجدہ)
’’نیکی اور برائی برابرنہیں ہوسکتی۔ تم برائی کا جواب بہترطریقے سے دوتوتم دیکھوگے کہ جس شخص کو تم سے دشمنی ہے وہ جگری دوست بن گیا ہے۔‘‘
اس سلسلہ میں حدیث کا ایک واقعہ ہماری اچھی رہنمائی کرتاہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک بارایک صحابیؓ نے آکر شکایت کی کہ یا رسول اللہ!میرا پڑوسی مجھے ایذاپہنچاتا ہے۔آپؐ نے فرمایا: ’’جائو صبر کرو۔‘‘وہ پھر آئے اور اپنے پڑوسی کی شکایت کی۔ آپؐنے فرمایا:’’تم گھر سے اپنا سامان نکال کر منتقل ہونے کی فضا بنائو۔‘‘ انہوںنے جاکر منتقل ہونے کے لیے گھر کا اثاثہ باہر راستہ میں ڈالنا شروع کیا۔ آنے جانے والوں نے وجہ پوچھی تو انہوںنے صورتِ حال بتائی۔ لوگوں نے پڑوسی کو برا بھلا کہا اور سمجھایا۔ پڑوسی کو اپنے کیے پرندامت ہوئی وہ ان کو راضی کرکے گھر لایااور وعدہ کیا کہ آئندہ ایذا نہ پہنچائے گا۔
حضرت حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک یہ نہیں کہ اسے ایذا نہ پہنچائو بلکہ حسنِ سلوک یہ ہے کہ اس کی ایذا رسانی کو برداشت کیا جائے۔
ایک بار پیارے نبیؐ کے سامنے تذکرہ کیا گیا کہ دوعورتیں ہیں، ان میں سے ایک راتوں کو نمازیں پڑھتی ،دنوں کو روزے رکھتی اور خوب صدقہ وخیرات کرتی ہے مگر اپنی زبان سے پڑوسیوں کو ستاتی ہے۔آپؐ نے فرمایا:’’ اس میں کوئی نیکی نہیں۔ اس کو دوزخ کی سزا ملے گی۔‘‘ دوسری عورت کے بارے میں صحابہؓ نے عرض کیا:’’ وہ صرف فرض نماز پڑھتی، فرض روزے رکھتی اور معمولی صدقہ کرتی ہے مگر اپنے پڑوسیوں کو خوش رکھتی ہے۔‘‘ آپ ؐ نے فرمایا:’’وہ جنتی ہے۔‘‘
مؤمن کو ہرگناہ سے کوسوںدور رہنا چاہیے مگر پڑوسی کے ساتھ تو گناہ کی بات سوچی بھی نہیں جاسکتی۔ اس کے ساتھ گناہ کا ارتکاب دس گنا بڑھ جاتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا:’’ زنا حرام ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کو حرام کیا ہے لیکن اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرنا دس بدکاریوں سے بڑھ کر ہے۔ چوری حرام ہے ، اللہ اور رسول ﷺ نے اس کو حرام کیا مگرپڑوسی کے گھر میں چوری کرنا دس جگہ چوری کرنے سے بدتر ہے۔‘‘(بخاری)
مختصر یہ کہ بلا تفریق مذہب و ملت تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے، ان کی ہر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کیجئے۔ان کے ہر دکھ درد میں کام آئیے، ان کی خوشی کے موقع پر اپنی خوشی کا بھی اظہار کیجئے، انہیں حسب موقع گھر بلائیے اور ان کے گھرپر بھی جائیے، ان کی خوشی اور غم کی تقریبات میں شرکت کیجئے اور اپنے یہاں بھی خوشی کی تقریبات میں شرکت کی دعوت دیجئے، ان سے اپنے تعلقات محض رسمی نا بنائیں بلکہ مخلصانہ اورجذباتی بنانے کی کوشش کیجئے۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ اسلام میں پڑوسی کا تصور بہت وسیع ہے۔ آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’چالیس گھروں تک پڑوس رہتا ہے ۔‘‘ امام زہریؓکہتے ہیں کہ پڑوس میںدائیں بائیں او ر آگے پیچھے کے چالیس چالیس گھر شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے