محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک

۱۔ نیاپردہ :۔
’’پردہ فرسودہ لوگ کرتے ہیں۔ نیا زمانہ ہے اس میں نیاپردہ ہونا چاہیے۔ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ جو ان تقاضوں کوپورا نہیں کرتاوہ اس دور کی ترقیوں سے محروم رہ جاتاہے ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ پرد ہ کرنے کی وجہ سے قدامت پسندی نے جب مسلمان عورتوں کوگھیر لیا تو وہ ترقی نہیں کرسکیں ۔قدیم پردہ ترقی کادشمن ہے اور جدید پردہ ترقی کاراز دار۔ آج اسی پردے کی بدولت ہرطرف مسلم خواتین اورنوجوان لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں۔جدید پردہ وہ ہوتاہے جس کے تحت چہرہ کھلا رکھاجاتاہے اور کبھی کھیلوں کاسوٹ پہن کرکھیلنے کو جدید پردہ کہتے ہیں۔ اس جدید پردے کے ذریعہ مسلم لڑکیاں باکسنگ چمپئن بن رہی ہیں ، فٹبالر ، کرکٹر اور جانے کیاکیا بن رہی ہیں۔ یہی پردہ آج کی مسلم لڑکی چاہتی ہے ، وہ ترقی کی دلدادہ ہے ‘‘ماں حیران  تھی ۔ اس نے پوچھا’’ایمن، تم یہ کیاکہہ رہی ہو، اس طرح کہاتم نے کالج کے مقابلے میں ؟تمہارے لیکچررس نے تم پر غصہ نہیں کیا؟‘‘
ڈگری کے سال دوم میں زیرتعلیم ایمن نے ایک ادائے ناز سے کہا’’بالکل نہیں امی ، سبھی نے میری تعریف کی۔ پیٹھ تھپتھپائی ‘‘ ماں کی حیرانی میں اضافہ ہوا۔ ’’وہ کیوں ؟کیاتمہارا کالج بدل چکاہے ؟ہم نے توتمہیں پردہ میں رکھ کرپڑھانے والے کالج میں تمہارا داخلہ کرایاتھا‘‘ایمن نے ماں سے کہا’’ہمارا کالج وہی ہے جو پہلے تھا۔ میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ اپنے موبائل پر سوشیل میڈیا دیکھتی ہیں نا؟‘‘  ماں نے حیرانی سے کہا’’ہاں کیوں نہیں ، دیکھتی ہوں سوشیل میڈیا‘‘بیٹی نے کہا’’اس سوشیل میڈیاپر مسلمان عورتیں پردہ کرتی نظر آتی ہیں آپ کو ؟‘‘
ماں نے کچھ سوچ کر کہا’’نہیں ، اب تو مسلمان لڑکیاں بے پردہ گھوم رہی ہیں۔ کچھ لڑکیاں کالے برقعہ کے ساتھ نظر آتی ہیں لیکن چہرہ مہرا اور حرکات وسکنات اور Contentسے کہیں بھی نہیں لگتاکہ یہاں مسلمانوں کی نمائندگی کی جارہی ہو‘‘
ایمن نے پھرپوچھا’’امی ، سنا ہے کہ کل تک ہمارے شہر میں بڑے بڑے سنیماتھیٹر ہوتے تھے ، اب سب توڑے جاچکے ہیں ۔ ان کی جگہ ڈبہ تھیٹر آگئے ہیں جس میں سودوسو نشستیں ہوتی ہیں‘‘ماں نے کہا’’ہاں میں نے اپنے بچپن میں ایک سنیما تھیڑ میں جاکر بچوں کی سنیما دیکھی تھی۔ تب ہم خود بچے تھے ۔ اسکول سے لے جایاگیاتھا‘‘ایمن جوش سے بولی ’’امی کل کے وہ سنیما تھیٹر تو نہیں رہے ۔ لیکن موبائل کی بدولت گھر گھر ، بازار ِ بازار، دفتر دفتر بلکہ ہر ہاتھ اور ہتھیلی آج سنیما تھیٹر بن گئی ہے ۔ ویسے ہی یہ جدیدبے پردہ عورتیں مجھے ڈر ہے کہ ایک دن پردہ کے پورے نظام کوتہس نہس کردیں گی۔ اسلامی پردہ کے نام پر صرف اسکارف بچ جائے گا۔ تب آپ کیاکریں گی ؟‘‘
ماں نے کچھ نہیں کہا۔ ان کی پریشانی چہرے سے عیاں تھی۔ انھوں نے کہا’’میں ذرا وضو کرلیتی ہوں ‘‘ وہ وضو بنانے کے لئے جانے لگیں تو ایمن نے اپنی بانہیںماں کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا’’امی ، میں نے ایسا کچھ نہیں کیاجس سے آپ کو پشیمانی اٹھانی پڑے ۔ میں نے اپنی تقریر میں جدید پردہ کی دلدادہ مسلمان لڑکیوں پر شدید تنقید کی تھی جس کو کافی سراہاگیا۔ اور مجھے انعام کاحقدار قرار دیاگیاہے ‘‘
ماں بیٹی سے لپٹ گئیںاوران کی آنکھوں سے زاروقطار آنسوبہنے لگے۔ وہ کہہ رہی تھیں ’’ایمن ، تو نے تو مجھے ڈرا ہی دیاتھا، اکلوتی بیٹی اگر پردہ کے خلاف ہوجائے توماؤں کاجینا حرام ہوجاتاہے‘‘ اسی اثناء میں ایمن کے والد گھر میں داخل ہوئے تو ایمن نے والد سے پہلے خودا نہیں سلام کیا اور ماں کوچھوڑ کر اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
۲۔ ’’احتیاط کریں مہم‘‘ :۔
شہر میں ’’مسلمان مرد احتیاط کریں‘‘ مہم شروع کی گئی تھی۔جس کے نکات درج ذیل تھے۔
۱۔ کوئی مسلمان اپنی بیوی ، بہنوںاور بیٹیوں کے علاوہ دوسری خواتین کے ساتھ نظر نہ آئے ۔۲۔ غیرعورتوں کے ساتھ کھڑا ہونے یاان سے رابطہ رکھنے کو اسلام منع کرتاہے ، اس کاخیال رکھاجائے ۔۳۔ جو پروگرام خواتین یا طالبات کے ہوں،ان پروگراموں میں مردحضرات شریک نہ ہوں ۔۴۔ مردوخواتین کے مخلوط پروگرام ہرگز ہرگز نہ ہوں ۔۵۔غیر مردوخواتین کی مخلوط محافل کی تصاویر اور ان کے ویڈیوز عام نہ کئے جائیں ، اس عمل سے بے حیائی کے پھیلنے کاصد فیصد امکان ہوتاہے۔اوریہ آخر ت میں باعث رسوائی ہوگا۔  ۶۔ خواتین کو خواتین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے اور مردحضرات ونوجوان لڑکے مردوں میں کام کریں۔۷۔مسلمان عورت اورمسلمان مرد کادائرہ کار علیحدہ رکھاجائے ، اسی کی تاکید اسلام کرتاہے۔
  چند نیک دل نوجوانوں نے یہ مہم شروع کی تھی۔ ان کاخیال تھاکہ جہیز مخالف ابھیان سے بڑھ کر’’مسلمان مرد احتیاط کریں ‘‘ مہم ضروری ہے۔اس مہم کو شروع ہوئے دوتین ہفتے گزرے تھے کہ اس مہم پر سخت اعتراضات شروع ہوگئے۔ اس مہم پر اعتراض کرنے والوں میں پرائیویٹ اسکولوں کے مسلم مالکان پیش پیش تھے۔ سیاست دانوں نے تو صاف صاف کہہ دیاتھاکہ سیاسی اسٹیج کسی بازار سے کم نہیں ہوتا۔ یہاں عورت، مرد ، لڑکا لڑکی ، چھکا وکا ، بوڑھا بوڑھی سب چلتاہے۔ ہم کسی کو بھی علیحدہ نہیں کرسکتے۔ ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور مخلوط پروگراموں کی تصاویر یا ویڈیوز بالکل عام ہوسکتے ہیں۔ ملک کادستورکسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں کرتا۔
نیک دل نوجوانوں نے سیاست دانوں کوتو نظر انداز کردیا لیکن خانگی اسکول والوں کی مخالفت کے سامنے ڈٹ گئے۔ نتیجہ یہ ہواکہ خانگی اسکولوں کی طاقتور رجسٹرڈ تنظیم نے ’’مسلمان مرداحتیاط کریں ‘‘ مہم کے بانی نوجوانوں کے خلاف قریبی پولیس اسٹیشن میں FIRکردیا۔اس FIRکے پیش نظر پولیس نے 10نوجوانوں کو گرفتا رکرلیا۔ مزید کی گرفتاری متوقع تھی۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی لوگوں کااندازہ تھاکہ ’’مسلمان مرد احتیاط کریں ‘‘ مہم اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔
دوسری طرف خانگی اسکولوں میں خصوصاً لڑکیوں کے مسلم مینجمنٹ والے اسکولوںمیں مرد مہمان بن کرجاتے ہیں۔ کسی Poem، یاکسی گیت پرمسلم لڑکیاں اور مسلم لڑکے مل جل کر ڈانس کرتے ہیں۔ اسے جائز ڈانس کہاجاتاہے ۔ مذاق مذاق میں’’ حلال ڈانس‘‘ بھی کہہ دیتے ہیں اورقہقہہ لگاتے ہیں۔ جب بھی ایسے ڈانس ہوتے ہیںمہمان مرد خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ کسی اور اسکول میںموصوف کی بیٹی بھی کسی اور مہمان کے سامنے ڈانس کررہی ہوگی کیوں کہ سارے اسکول آج کل ڈانس ہی کی تعلیم دے رہے ہیں۔
بہرحال مہم پر روک لگ چکی ہے۔ کوئی ایسا بھی نظر نہیں آتاجو ’’مسلمان مرداحتیاط کریں ‘‘  مہم کی ضرورت کا اظہار کررہاہو۔شہر کے علمائے کرام بھی خاموش ہیں۔لیکن سنا ہے کہ علمائے کرام نوجوانوں کی مہم کو ضروری سمجھتے ہیں۔ کاش کہ نوجوان اٹھیں اور ’’مسلمان مرداحتیاط کریں ‘‘ مہم پھر سے شروع ہوجائے۔
 ۳۔ منافق سے ملاقات  
شاید دس بارہ سال بعد اس نے سورہ بقرہ پڑھاتھا۔ ترجمہ پڑھنا شروع کیاتھاکہ اس کو لگا سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں جن منافقین کاذکر ہورہاہے ، ان میں ،میں بھی شامل ہوں۔کیوں کہ مجھے بھی ’’حق کے لئے تکلیف اٹھانااور مصیبت برداشت کرنا نہیں آتا‘‘ اس نے قرآن بند کیا۔ وہاں سے اٹھ کر چل دِیا۔ اپنی منافقانہ بدنصیبی پر اس کی آنکھوں میں آنسوتھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے