از ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی

یوم عرفہ جو ذی الحجہ کی نو تاریخ کا دن ہے ، اس کا وقوف ارکان حج میں بنیادی رکن کی حیثیت کا حامل ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر چھوٹ گیا تو اس کی تلافی نہیں ہو سکتی ،اس سال حج ہی چھوٹ گیا اور آئندہ سال اس کی قضا کرنی ہو گی۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کے وقوف کے بارے میں فرمایا:
’’الحَجُّ عَرَفَۃُ، فَمَنْ جَائَ لَیْلَۃَ جَمْعٍ قَبْل َطُلُوْعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ‘‘( جامع ترمذی :۸۸۹، بروایت عبد الرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ)۔
(حج تو وقوف عرفہ ہے ، لہذا جو مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے وہاں پہنچ گیا اس کاحج ہو گیا )۔
اس حدیث سے حج کے رکن رکین وقوف عرفہ کی اہمیت اور قدر و منزلت پورے طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ حاجی، میدان عرفات کے کسی بھی حصہ میں ، نویں ذی الحجہ کو زوال کے بعد سے دسویں ذی الحجہ کی فجر تک،گو ایک ہی لحظہ کے لئے ہو، وہاں پہنچ گیا، تو اس کا فرض ادا ہوگیا، اس نے گویا اس سال کا حج پالیا اور وہ حج سے محروم نہیں سمجھا جائے گا۔ وقوف کے علاوہ اور کوئی دوسرا رکن یا عمل ایسا نہیں ہے جس کا تدارک ممکن نہ ہو۔
لیکن وقوف عرفہ کی اصل روح یہ ہے کہ حاجی اللہ کے حکم کی تعمیل میں لبیک لبیک کہتا ہوا وہاں پہونچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کر تے ہوئے عاجزی وانکساری کی تصویر بن کر ، اللہ کے حضور میں اپنے گناہوں کی معافی چا ہے، ذکر ودعا میں مشغول ر ہے ، تلبیہ کی کثرت کے ذریعہ اللہ کی وحدانیت کے گن گا تا اور اس کی عظمت اپنے دل میں بٹھاتا رہے ۔
یہ بڑا ہی عظیم الشان، مسلمانوں کی بے نظیر اجتماعیت کا مظہراور رحمت الہی کی برسات کا دن ہے۔ سارے کے سارے حاجی، ایک دن میں ،ایک ہی جگہ، ایک لباس میں ملبوس، یکساں عمل میںمصروف کار نظر آتے ہیں۔ اس دن اللہ تعالی اپنے بندوں کے لئے سخاوت عام فرما دیتا ہے ، اپنے فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کر تا ہے اور کثرت سے لو گوں کو جہنم سے آزاد ی دیتا ہے۔رب کریم کی طرف سے فضل وکرم رحمت و مغفرت اور معافی و گلو خلاصی کا یہ عمومی منظر دیکھ کر ، شیطان اس دن جتنا پریشان و حواس باختہ، ذلیل و خوار اور حقیر و درماندہ نظر آتا ہے ،یوم بدر کے سوا،کسی اور دن نہیں دیکھا گیا(مؤطا امام مالک :۱۵۹۷)،ص۳؍ ۶۲۱، بہ تحقیق ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی)۔
میدان عرفات میں شان کریمی کے جلووں کا ذکر صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت میں ملاحظہ فرمائیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’مَامِنْ یَوْمٍ أَکْثَرَ مِنْ أَنْ یُعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ عَبْدًا مِّنَ النَّارِمِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَإِنَّہُ لَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ، فَیَقُوْلُ : مَا أَرَادَ ھٰؤُلَائِ ‘‘(مسلم :۱۳۴۸)۔
(عرفات سے زیادہ کسی اور دن اللہ تعالی اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کر تا اور وہ اس دن قریب ہو تا ہے اور فرشتو ں سے فخرکرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟)۔
دوسری حدیث میںنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إِنَّ اللّٰہَ یُبَاھِیْ بِأَھْلِ عَرَفَاتَ أَھْلَ السَّمَائِ فَیَقُوْلُ: انْظُرُوإِلٰی عِبَادِیْ، جَاؤُوْنِی شُعْثًا غُبْرًا‘‘(مستدرک حاکم )۔
( اللہ آسمان والوں کے سامنے اہل عرفات پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے بندوں کی طرف دیکھو، میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ،غبار آلود اور پراگندہ حال میرے پاس آگئے ہیں)۔
لہذا وہ لوگ جو اس دن کی فضیلت و عظمت سے غافل ہیں، عرفات کے اس میدان میں ان کو چاہئے کہ اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اس کے سامنے عاجزی و زاری کریں، اس کی بارگاہ میں جھکیں ،اس کی رحمت ومغفرت کی امید رکھیں، اس کے عذاب و ناراضگی سے ڈریںاور خالص توبہ کی تجدید کریں۔
اورجہاں تک اس دن کے بارے میںاحکام و ارشادات کا تعلق ہے، تو عرفہ کے دن آفتاب نکلنے کے بعد حجاج کرام منی سے عرفہ کی طرف جائیں گے اور مسنون ہے کہ زوال تک مقام نمرہ ہی میں ٹھہرے رہیں بشرطیکہ ایسا کرنا ممکن ہو ؛ تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی اقتداء ہو جائے ۔
آفتاب ڈھلنے کے بعد امام یا نائب امام لوگوں کوایسا مناسب حال خطبہ دے جس میں اس دن اور اس دن کے بعد والے دن کے لئے ان باتوں کاذکر ہو جو حاجی کے لئے مشروع ہیں۔خطیب لوگو ں کو تقوی اور توحید الہی اور اخلاص فی العمل کی تاکید کر ے، انہیں حرام باتوں سے ڈرائے ، کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کو مضبوط پکڑنے کی وصیت کرے اور کتاب اللہ کو اپنے تمام کاموں میں فیصلہ کن بنانے کی ترغیب دے؛ تاکہ تمام باتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء ہوسکے۔
خطبہ کے بعد سبھی لوگ ظہر و عصر اول وقت میں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے مطابق قصر اور جمع پڑھیں۔اس کی مخالفت سخت غلطی ہے؛اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ اور دوسروںکے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ،آپ نے منی ،عرفہ اور مزدلفہ میںقصر ہی نماز پڑھائی ۔
اس کے بعدغروب آفتاب تک کا وقت وقوف کے لئے خاص ہے ،حجاج میدان عرفات میں جہاں چاہیں وقوف کریں۔ بطن عرنہ کے علاوہ پورا عرفہ کھڑے ہونے کی جگہ ہے،لہذسوائے ا بطن عرنہ کے ،حدود عرفہ میں کہیں بھی وقوف کیا جاسکتا ہے۔ جو لوگ حدود عرفہ کے باہر پہاڑیوں پر چڑھ جاتے ہیں، اگر وہ مستقل وہیں ٹھہرے رہے اور تھوڑی دیر کے لئے بھی میدان عرفات میں نہ آئے تو ان کا حج نہیں ہوگا ۔
بآسانی اگر ممکن ہو تو جبل رحمت کے قریب’’ صخرات ‘‘ یعنی پہاڑیوں کے پاس ٹھہرے، ورنہ اژدھام و مشقت سے دوچار ہونے کی ضرورت نہیں ، جہاں چاہے وقوف کرلے۔ امکانی صورت میں اس طر ح قبلہ رو ہونامستحب ہے کہ’’ جبل رحمت‘‘بھی سامنے ہو ، اگر بیک وقت دونوںکے سامنے ہونا ممکن نہ ہو تو صرف قبلہ کی طرف رخ کرنے پر اکتفا کرے۔
اس وقوف میں حاجی کو چاہئے کہ قرآن پاک کی تلاوت، اللہ تعالی کا ذکر ، اس سے دعاء اور اس کے حضور میں آہ وزاری میں پوری جد وجہد کرے ۔دعاء کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھائے ،وقتا فوقتا لبیک پکارتا رہے اور اس دعا کا اہتمام زیادہ کرے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:’’سب سے اچھی دعا ء عرفہ کے دن کی دعاء ہے اور سب سے افضل ذکر جس کی میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے پابندی کی ہے وہ یہ ہے :
’’ لَاإِلہَ إلّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لا شریکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر‘‘(جامع ترمذی :۳۵۸۵، بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ)۔
(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کاکوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے ملک ہے، اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)۔
اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح ثابت ہے کہ چار کلمے اللہ کو سب سے زیادہ پیارے ہیں:
’’سُبْحَانَ اللّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَر‘‘(مسلم : ۲۶۹۵،، بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)
اس ذکرکو خشوع وخضوع قلب کے ساتھ بار بار دہرائے ۔ اسی طرح جو دوسرے اذکار وادعیہ جن کی ترغیب آئی ہے، ان کو بھی کثرت سے پڑھے، خاص طور پر مستند وجامع اذکار اور دعائو ں کو منتخب کرنا چاہئے جن میں سے چندچھوٹی چھوٹی مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ اللّٰہِ العَظِیْمِ ‘‘(مسلم :۲۶۹۴)۔
(پاک ہے اللہ اور اس کی حمد بیان کر تے ہیں، پاک ہے اللہ عظمت والا)
(۲)’’ لَاإِلہَ إلّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ‘‘( مستدرک از حاکم:( ۱۸۹۸)۔
(تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے ، بے شک میں ہی ظالم ہوں)۔
(۳) ’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ‘‘(بخاری :۲۹۹۲، ا ور مسلم :۲۷۰۴)۔
(اللہ کے بغیر کسی کو کوئی طاقت و قوت حاصل نہیں)۔
(۴)’’رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النِّارِ‘‘(بخاری :۴۵۲۲،ا ور مسلم :۲۶۹۰)۔
(اے ہمارے رب ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا کر او ر ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا)۔
(۵) ’’اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ اہْدِنِیْ وَ ارْزُقْنِیْ‘‘ (مسلم : ۲۶۹۷)،
(اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور مجھے ہدایت دے اور مجھے عافیت دے اور رزق دے )۔
(۶)’’اللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْئَلُکَ الْہُدَی وَ التُّقَی وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنَیِ‘‘(مسلم :۲۷۲۱)۔
(اے اللہ میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی ،اور استغنا کا طلب گار ہوں)۔
اس عظیم موقف میں حاجی کو چاہئے کہ ان اذکار وادعیہ اوران کے مفہوم کی دوسری دعائوں کا اہتمام کرے ۔ خود اپنی زبان میں اللہ سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگے اور اپنا مدعا اپنے رب کے سامنے رکھے۔ دعاؤںمیں آہ وزاری سے کام لے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجے۔ دعاؤں میں الحاح و تکرار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، آپ جب دعا مانگتے تھے تودعا کو تین تین بار دہراتے تھے ؛ لہذا کثرت سے ذکر و دعاء کی پابندی اور اس میں الحاح سے کام لے کر اورتمام گناہوں سے استغفار و توبہ کر کے شیطان کو مغموم کرنا چاہئے اورغروب آفتاب تک برابریہ سلسلہ جاری رکھنا چاہئے ۔
جب آفتاب غروب ہو جائے تو لوگ سکینت اور وقار کے ساتھ مزدلفہ کی طرف لوٹ آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کثرت سے لبیک پکاریں ۔ عرفات سے آفتاب غروب ہونے سے پہلے واپس آنا جائز نہیں ؛ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب غروب ہونے تک وہاں ٹھہرے اور آپ نے فرمایا :
’’لِتَاخُذُوْا مَنَاسِکَکُمْ‘‘(مسلم ( ۱۲۹۷)(مجھ سے اپنے حج کے مسائل سیکھ لو)۔
اس کی خلاف ورزی پر دم واجب ہو گا ۔
غیر حاجیوں کے لیے اس پرعظمت کی اہمیت سے مستفید ہونے کے لیے روزے کی ترغیب دیتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
’’صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہُ
وَالسَّنَۃَ الَّتِی بَعْدَھُ‘‘(مسلم : ۱۱۶۲، بروایت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ)۔
( عرفہ کے دن جو شخص روزہ رکھے تو مجھے اللہ تبارک و تعالی کی ذات سے امید ہے کہ اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف ہو جائیں گے)۔
بل کہ بعض علمائے متقدمین نے یوم عرفہ کے فضائل وبرکات اور رحمت ومغفرت کی جولانی کو حجاج کے علاوہ، تما م مسلمانوں کے لیے عام مانا ہے؛ اسی لیے ان سے وارد ہے کہ اس دن مساجدمیں جمع ہوکر ذکر ودعا میں مشغول ہوا کرتے تھے۔ ابن قدامہ نے ’ المغنی میں’ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور بعض تابعین سے یہ عمل نقل کیاہے۔
دعا گوہوںکہ الہ العالمین حجاج کے اعمال حج کو قبول فرمائے اور ان بندگان خاص میںبنائے جن کو عرفہ کے دن اس کی رحمت و مغفرت کی نعمت نصیب ہو ۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے