تحریر: احمد رضا

مفکر اسلام مفتی سالم یمنی قاسمی نے حال ہی میں اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے پر چھڑی بحث پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کا ایک ایک نقطہِ ، لفظ اور جملہ سچا اور کلّی طور پر حقیقتوں پر مبنی ہے اللہ تعالیٰ کے وجود پر انگلیاں اٹھا نے والے بڑے ہی خسارہ میں ہیں! اللہ رب العزت کے وجود کے اہم موضوع پر ایک مرتبہ پھر ایک علمی، فکری اور منطقی Debate کیلئے تیار ہیں، جو بیک وقت دو ناستک شخصیات کے ساتھ منعقد کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر جاوید اختر جی اور دھروو راتھی  اور دیگر سے بھی شرکت کی درخواست کی جا چکی ہے، جبکہ پلیٹ فارم کی صوابدید پر کمل ہاسن یا دیگر مناسب ناستک شخصیات کو بھی مدعو کیا جا سکتا ہے!
    واضع رہے کہ یہ Debate عوام الناس، بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ایک غیر معمولی علمی و فکری موقع ہوگا، جس میں خدا کے وجود، ایمان اور الحاد سے متعلق دونوں نقطۂ نظر کو صاف، مدلل اور مہذب انداز میں سمجھنے کا موقع میسر آئے گا۔ مفتی سالم یمنی قاسمی: تعارف اور نمایاں خدمات ۔۔۔۔۔۔”مفتی سالم یمنی قاسمی ایک معروف اسلامی عالم، فکری رہنما اور سماجی مصلح ہیں ”  جنہوں نے اپنی زندگی علم، دعوت، انصاف اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ وہ پندرہ سال سے زائد عرصے سے ملک بھر میں انصاف، انسانی حقوق، اخلاقی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔بھارت کی 20 تا 22 ریاستوں میں انہوں نے نفرت، تعصب اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے مسلسل علمی و سماجی جدوجہد کی ہے۔ وہ قومی تحریک “انسانیت ابھیان” کے بانی ہیں، جس نے لاکھوں افراد کو انصاف، بھائی چارہ اور انسانیت کے بنیادی اقدار کی طرف راغب کیا ہے۔ مفتی صاحب اسلامی، اخلاقی، فکری اور سماجی موضوعات پر 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور سن 2001 میں دارالعلوم دیوبند سے منسلک شعبۂ مناظرہ کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔
ایمان، الحاد اور خدا کے وجود جیسے حساس موضوعات پر انہیں مضبوط عقلی، منطقی اور فلسفیانہ مہارت حاصل ہے، جو اس Debate کو علمی اور مؤثر بناتی ہے۔
مفتی سالم یمنی قاسمی نے اس موقع پر کہا:
“اگر یہ حضرات میرے اس پیغام کو قبول کرتے ہیں تو دنیا ایک مرتبہ پھر ﴿فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ﴾ کا وہ منظر دوبارہ دیکھے گی، اِن شاء اللہ۔”
Debate کی اہمیت اور عوامی فائدہ
یہ Debate عوام اور ناظرین کو دونوں فکری موقف کو غیر جانبدار، شائستہ اور مدلل انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا۔
خاص طور پر نوجوان نسل کو سادہ، منطقی اور معقول زبان میں فکری رہنمائی ملے گی۔
یہ مکالمہ سماجی ہم آہنگی، اخلاقی تعلیم اور فکری تنوع کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا، اور معاشرے میں مہذب مکالمے کی روایت کو مضبوط بنائے گا۔
مفتی صاحب کا موقف
مفتی سالم یمنی قاسمی واضح کرتے ہیں کہ یہ Debate کسی پر غلبہ حاصل کرنے یا جیتنے کے لیے نہیں، بلکہ
عوام کو فکری گمراہی، شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں سے بچانے
اور احترام، اخلاق اور دلیل کے دائرے میں حقائق پیش کرنے کے لیے ہے۔
انسانیت ابھیان کے اثرات
مفتی سالم یمنی قاسمی کی قیادت میں چلنے والی انسانیت ابھیان نے ملک بھر میں انصاف، بھائی چارہ، رواداری اور نفرت کے خاتمے کے جذبے کو فروغ دیا ہے۔ ان کے مدلل، ہمدردانہ اور متوازن انداز نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کیا ہے۔
اختتامی کلمات
مفتی سالم یمنی قاسمی اپنی تمام فکری، سماجی اور علمی سرگرمیاں اس نصب العین کے تحت انجام دے رہے ہیں:  “انصاف لاؤ، دیش بچاؤ، نفرت کی آگ سے بھارت بچاؤ” تاکہ ملک میں عدل، ہم آہنگی، بھائی چارہ اور انسانیت کو فروغ دیا جا سکے اور معاشرہ نفرت، تعصب اور فکری انتشار سے محفوظ رہے! رابطہ مفتی محمد سالم یمنی موبائل۔۔۔۔۔۔    ۔
9922227744                                                                   772088669