سید مقصود

صدر راشٹریہ مسلم مورچہ، دہلی ۔ حال مقیم ظہیرآباد۔ تلنگانہ

دریائے بھیما کے کنارے کورے گاؤں جو پونہ سے کوئی 23کیلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ِ یکم جنوری 1818؁ء کو ندی تٹ پر ایک جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں کام آنے والوں کاخون سمندر میںمل کر بیکراں ہوگیا۔ 217سال بعد بھی اس کو یاد کیاجارہاہے۔ یکم جنوری کو دیش کے کونے کونے سے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اور ان بہادروں کوخراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے پیشوائی کو ختم کرکے شودروں کوآزادی دلوائی۔ وہاں پر نصب ایک 70فٹ اونچا مینار جس کو وجے استھمب (مینارِ جیت ) کرانتی استھمب (مینارانقلاب ) ویر استھمب (مینارِ آزادی) کے مختلف نام سے یاد کیاجاتاہے۔ ہم معلوم کرنے کی کوشش کریں گے جیت کس کی ہوئی ۔ کس کے خلاف جنگ لڑی گئی۔ کیوں لڑی گئی۔ انقلاب کس قسم کاآیا۔ بہادر کون تھے۔ آزادی کس کوملی وغیرہ وغیرہ ۔
تاریخی پس منظر :۔ شیواجی کافی جدوجہد کے بعد 1674؁ء میں اپنی تاجپوشی کرواکر چھترپتی شیواجی بن گئے۔ صرف 6؍سال راج کرنے کے بعد 1680؁ء میں ایک خاموش سازش کے تحت انھیں ہمیشہ کے لئے خاموش کردیاگیا۔ اس کے بعد ان کے بیٹے سمبھاجی نے ان کی گدی سنبھالی ۔ 1688؁ء میں ان کاقتل ہوگیا۔
اس کے بعد پیشواؤں نے اپنا اثرورسوخ بڑی آہستگی سے قائم کرلیا۔ اور یہ ریاست کے پیشوا بن گئے۔ شیواجی کی دوبیویوں کے درمیان اختلافات پید اکرکے ایک بیوی کی اولاد کو ستارا اور دوسری بیوی کی اولاد کوکولہاپور بھیج دیاگیا اور اس طرح پونہ اصل طاقت کا مرکز بن گیا۔ پیشواؤں نے پورے دیش میں اپنی سلطنت قایم کی ۔ لیکن 1761؁ء کی پانی پت کی جنگ کے بعد وہ کمزور ہوگئے۔ 1713؁ء سے شروع ہوئی پیشوائی یکم جنوری 1818؁ء کو ختم ہوگئی۔
پیشواؤں کے زمانے کے سیاسی ومذہبی حالات کاسرسری جائزہ :۔پوراسماج منو کے غیرانسانی قانون کے چنگل میں جکڑ اہواتھا۔ ورن ویوستھاقائم کردی گئی تھی۔ کاشت کاروں پر ظلم کی انتہا ، محصول کی رقم نہ دینے پر ان کے بچوں کو ابلے ہوئے تیل میں ڈالنے کے واقعات ، گرم توؤں پر کھڑا کرنا، ان کی پشت پر بھاری پتھر رکھنا، ناک میں جلتی مرچ کا دھواں دینا، کن پٹی میں بندوق کی گولی داغنا، معمولی معمولی قصوروں پر دی جانے والی سزائیں عام تھیں۔ پونہ کی سڑکوں پر، اتی شودروں کو چلنے کی اجازت نہ تھی۔ مذہبی حالت اور بھی دِگرگوں تھی۔ دوسرے پیشوا باجی راؤ ہمیشہ عورتوں میں گھر ارہتا۔ اسے کرشنا اور شنکر کااوتار سمجھاجانے لگا۔ (شکتی پیٹھ بنائی گئی )۔برہنہ ہوکر دیوی دیوتاؤں کی پوجاکاطریقہ رائج کیاگیا۔ (بحوالہ ء سید شاہ غازی الدین ایڈوکیٹ کی کتاب ’’مہاتما جیوتی باپھلے ۔ حیات اور کارنامے ، صفحہ 28اور 29)
بھیما کورے گاؤں کی جنگ کے ہیرو سدناگ :۔ بھارت میں اسلام کے داخلے سے پہلے آریاؤںا ور غیرآریاؤں کے بیچ جو کشمکش ہوئی، آخری دم تک ایک قبیلہ جو ناگ ومشی کے نام سے جانا جاتاہے ، وہی لڑتارہا۔ باباصاحب امبیڈکر بھی اپنے آپ کوناگ ومشی ہی کہتے تھے۔شیواجی نے جب اپنی حکومت قائم کی ، شودر سماج کے18 لوگوں کو اہم عہدے دئے اورجاگیریں دیں ۔ سدناگ اول کو بھی راجا شیواجی کے دور میںفوجی خدمت کا عہدہ دیاگیا۔ شیواجی مہاراج کے فرزند سمبھاجی نے 1749؁ء میں ستار اریاست کے تعلقہ تارا گاؤں ، گڑمبی میں 983ایکڑ زمین فوجی خدمت کے بدلے انعام میں دی۔ پروفیسر جادوناتھ سرکار کے مطابق اس جاگیر کی سند ان کے وارثوں کے پاس موجودہے۔ سدناگ دوم نے بھیماکورے گاؤں کی جنگ میں اپنے باپ داد ا سے بہادری اور جنگجوانہ کردار ورثہ میںملاتھا ، اس کے جوہر یکم جنوری 1818؁ء کو کورے گاؤں کے میدان میں دکھائے ۔ واقعہ یہ ہے کہ سدناگ دوم کو جب معلوم ہوا، انگریز پونہ پر قبضہ کرنے کی سوچ رہے ہیں، اس وقت پیشواباجی راؤ دوم سے ملے اور انگریزوں کے خلاف لڑنے کی پیش کش کی۔ اس شرط پر کہ اتی شودروں پر پیشواؤں کی حکومت میں جو مارشل لالگایا گیاہے ، اس کو برخواست کیاجائے ۔ مگر پیشوا نے سدناگ دوم کے منہ پرہی کہا’’تم شودر ہو، اور شودر ہی رہوگے ‘‘اس جواب پر سدناگ دوم کو ایک ہی راستہ نظر آیا۔ اور وہ پیشواؤں کے خلاف انگریزوں سے مل گئے۔ ایسی ہی پیشکش جب انگریزوں سے کی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے BOMBAY NATUE INFENTRY کے منتخب 500مہاروں کولیا۔ جس میں 334انگریز، کچھ مسلمان ، لنگایت اور مراٹھوں کو شامل کیا۔ اس طرح 834انگریزفوج میں شامل کئے گئے۔ 250گھوڑا سوار، کئی توپیں، اور اس فوج کی قیادت کررہے تھے کیپٹن Stuntu، توپ خانہ جنرل چیف آف Shifshut Gn Pnipth Surgan اس کے علاوہ جرنل Pattinsonکررہے تھے ۔ دوسری طرف یہ جملہ فوجی طاقت تھی انگریزفوج کی۔
دوسری طرف پیشواؤں کی کافی بڑی فوج تھی۔ جملہ 28ہزار فوجی تھے۔ ، 20ہزار گھوڑا سوا، 8ہزار پیدل جس پر مراٹھا ، گوسائی اور عرب شامل تھے۔ جس کی قیادت برہمن سردار بابوگوکلے اور ان کی مدد کے لئے دیسائی ، ڈانگلے تھے۔ بابوگوکلے نے 600کی ایک بٹالین انگریزوں پر حملے کے لئے تیار کی۔ یہ جنگ صرف ایک دن ایک رات (24گھنٹے) لڑی گئی۔ جب پیشوا کی فوج نے دیکھا ، ان کے سردار بابوگوکلے میدان جنگ میں کام آگئے ہیں، فوج کی ہمت ٹوٹ گئی۔ اور وہ فرار ہونے کی سوچ ہی رہے تھے ، انگریزوں کی مدد کے لئے اسی وقت ایک تازہ دم فوج جرنل Smathکی قیادت میں آپہنچی۔ پیشواؤں کی فوج کو اب میدان ِ جنگ چھوڑنے میں ہی عافیت نظر آئی ۔ ایک بے دلی سے لڑرہاتھا، دوسرا بے جگری سے ۔ ایسی جنگ کا یہی حشر ہوناتھا۔ پیشوا اپنی فوج لے کرناسک کی طرف چلے ۔ پھر سے پلٹ کر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے۔ جب اس کی اطلاع پونہ کے شنی وار واڑہ جو پیشواؤں کی طاقت کامرکزتھا، وہاں موجود (ناتو پیشوانے) اپنا جھنڈا اپنے ہی ہاتھوں سے اتار کریونین جیکب لہرادیا۔ جس کے صلے میں ان کوزندگی بھر سالانہ 8؍لاکھ روپئے پنشن ملتارہا۔
بھیما کورے گاؤں کی جنگ بہوجنوں اور برہمنوں کے درمیان ہوئی تھی۔ مینارِ آزادی پر میدان ِ جنگ میں کام آنے والے بہادروں کے 49نام درج ہیں۔ ان میں 22 ناگ ومشی ، جیسے کھنڈ ناگ ، یگ ناگ، رتھ ناگ وغیرہ ۔ اسی طرح شیخ احمد ، کرسن ، ابدال کرسان ، سپاہی کوٹے خان ، کے نام درج ہیں۔ مراٹھا ، لنگایت ، مسلمان ،اور مانگ سبھی لوگ ان شہیدوں میں شامل ہیں۔ (بحوالہ ء یکم جنوری 1818؁ ۔ آزادی کاغدر۔ پروفیسر ولاس کرات کی کتاب ۔ صفحہ نمبر 23) یہ جنگ بہوجنوںاور برہمنوں کے درمیان ہوئی مگر ہمارا قومی میڈیا انگریزوں اور برہمنوں کے درمیان ہوئی جنگ کے روپ میں اس کو پیش کرتاہے۔ اور جنتاپارٹی کی حکومت میں اس کو بھارتیوں کے لئے غلامی کاتلک کہہ کر اس کومٹانے کی سازش کی گئی تھی مگر بہوجنوں کے شدید احتجاج پر اس کو منسوخ کردیاگیا۔ اس طرح پیشواؤں کی پیشوائی میں شودروں ، اتی شودروں ، کسان مراٹھوں ، جو ظلم ہورہاتھا ، منوکاقانون لاگوتھا، اس سے چھٹکارا ملا۔ اسی لئے آج بھی بہوجن پیشوائی کوختم کرنے کے لئے ہمارے پرکھوں نے جو ہمت ، دکھائی اور قربانی دی فخریہ طورپر اس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ باباصاحب امبیڈکر اور کانشی رام اکثر یکم جنوری کو کورے گاؤں جایاکرتے تھے۔
کورے گاؤں کی جنگ کے اثرات :۔ جب پیشواؤں کاراج ختم ہوا، تو یہاں انگریزوں کاراج قائم ہوا۔ جس کی وجہ سے پونہ میں مہاتما جیوتی راؤ پھلے جیسے شودروں کی تحریکات کے باواآدم پیداہوئے۔ شودروں کو تعلیم ، نوکریاں ، فوج میں بھرتی کے موقع ملے اور وہ ترقی کی راہ پر گامز ن ہوئے ۔ کیوں کہ برہمنوں کے راج میں شودروں پر تعلیم حاصل کرنے ، ہتھیار چھونے ، تجارت کرنے ، زمین اور جائیدا رکھنے پر قانوناً پابندی تھی۔ پابندی یہ ختم ہوگئی اور یہ کسی حدتک آزاد ہوگئے۔ یہ تھی بھیما کورے گاؤں کی جنگ کا نتیجہ ۔ اور اس سے پریرنا لینے کے لئے ہرسال وہاں ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں۔آج بھی جمع ہورہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے