محمد قاسم ٹانڈؔوی

قدیم مساجد و مدارس، صدیوں پرانے بزرگوں کے مزارات و درگاہیں، اور برسوں سے آباد چلی آ رہی اقلیتی و اکثریتی طبقوں سے آباد بستیاں اور وہاں کی تعمیر شدہ دکانوں میں برسر روزگار بیٹھے حقیقی مالکان و دکاندار؛ آج جس انداز سے وہاں کے دکان و مکانات کو منہدم و مسمار کیا جا رہا ہے، وہ انتہائی افسوسناک و تشویشناک معاملہ ہے۔ اور حکومتوں کا یہ انہدامی رویہ گذشتہ کئی سالوں سے تقریبا پورے ملک میں جاری ہے، جس سے سبھی لوگ حیران و پریشان ہیں۔ خاص طور پر سرکاروں کی اس تخریبی سرگرمیوں کا شکار زیادہ تر مسلمان اور ان کے مساجد و مدارس ہیں۔ یہ انہدامی کارروائی کہیں تو غیرقانونی کہہ کر ہو رہی ہے اور کہیں قبضہ شدہ بتا کر اس آراضی کو سرکاری تحویل میں لیا جا رہا ہے۔ سب سے قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ سرکاروں کا یہ انہدامی عمل اگر سال دو سال پرانی تعمیر یا قبضہ شدہ آراضی کو لےکر ہوتا تو بات کچھ حد تک سمجھ میں بھی آنے والی ہوتی؛ مگر افسوس! جس عبادت گاہ یا دینی ادارہ کو قائم ہوئے دو ڈھائی سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہو، یا جس درگاہ و مزار کا ثبوت زائد از پانچ سو سال پر محیط ہو اور وہ بستی جس کی آبادی میں کئی نسلیں اپنا دم خم لگا کر اپنا آخری سفر اسی بستی میں رہ کر طے کر چکی ہوں اور اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہوں؛ آج ان بستیوں کو صرف مسلم شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان عبادت گاہوں کو مسمار و شہید کیا جا رہا ہے، جہاں سے برسہا برس تک دی جانے والی اذان و اقامت کی شہادت خود برادران وطن کا ایک بڑا طبقہ دے رہا ہے جو کہ ان جگہوں کے صحیح ہونے اور قانون کے مطابق تعمیر کئے جانے کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔ شہر کی توسیع و تزئین اور سڑک کشادگی کے بہانے ملک بھر میں قائم ان قدیم ترین خانقاہوں اور درگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن کے آستانوں پر بلاتفریق مذہب و ملت سال بھر عوام کا جم غفیر رہتا ہے اور ان بزرگوں کے آستانوں پر حاضری دینے کو اپنے لیے خوش قسمتی سے تعبیر کرتا آیا ہے۔

سرکار کے اس تخریب بھرے عمل کے پس پردہ جو بھی عوامل کار فرما ہوں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان منفی کارروائیوں کا مقصد اور تخریب کاری کا عمل صرف اور صرف مسلمانوں کو کمزور کرنا اور ان کی معاشی حالت کو بد سے بدتر کرکے ان کے دل و دماغ میں ڈر و خوف پیدا کرنا ہے؛ تاکہ مسلم قوم اپنے مذہبی مقامات کی شہادت اور مقدس ہستیوں سے منسوب عمارتوں کی اہانت و تذلیل کے انہیں تانے بانے میں الجھی رہے اور وہ اپنی دیگر ضروریات و مصروفیات کی طرف سے توجہ ہٹائے رکھے۔
واضح رہے کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کرنے کےلیے انسان کو جن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں سے تین چیزیں بہت بنیادی اور اہم ترین سمجھی گئی ہیں؛ پہلا آمدنی کا معقول و مضبوط ذریعہ، دوسرا رہنے کےلیے آرام دہ آشیانہ اور تیسرا ذہنی سکون و اطمینان کی اوقات و لمحات؛ چنانچہ جس سماج و معاشرہ سے یہ تینوں چیزیں مفقود ہو جائیں گی تو اس سماج کا کوئی بھی انسان چاہے وہ کتنا ہی ذہین و فطین کیوں نہ ہو؛ اختراعات و ایجادات کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اس کی تو ساری توجہات تعمیر شدہ آشیانہ کی بربادی اور اپنے بچوں کے خاطر جمع شدہ اثاثہ کی تباہی کی طرف مبذول ہو کر رہ جائےگی۔ اس کے ذہن و دماغ کی تمام تر صلاحیتیں اپنے آبا و اجداد کے زمانہ سے چلی آرہی مذہبی تعمیرات کے انہدام میں الجھ کر رہ جائیں گی، جہاں وہ اپنے مذہبی امور انجام دیا کرتا تھا۔ اس لیے پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تخریبی سرگرمیاں ایک کمیونٹی کو بدحالی کے گڑھے میں ڈھکیلنے، ترقی کی شاہ راہ سے اس کے رشتے کو منقطع کرنے اور اس کی نسلوں کے دل و دماغ سے مذہبی تعلیمات اور ایمانی حرارت کو کم یا ختم کرنے کےلیے سوچی سمجھی سازش کے تحت اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دی جا رہی ہیں۔ ورنہ ان کے علاوہ اور کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ اس لیے کہ صرف ہم نے نہیں؛ بلکہ پوری دنیا نے بارہا بار اس بات کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا ہے کہ جس معمولی بات یا کیس کو لےکر آنا فانا انتظامیہ حرکت میں آتی ہے اور اپنے پورے لاؤ لشکر اور مشینی آلات کے ساتھ مسلمانوں کے گھر بستیوں کو اجاڑنے اور ان کے کاروباری مراکز کو تہس نہس کرنے پر آمادگی ظاہر کرتی ہے، اور لمحوں میں انتظامیہ وہاں کی بستیوں کا صفایا کر دیا کرتی ہے۔ اور اگر اس کی جگہ مجرم کوئی اکثریتی طبقہ سے ہو یا برسر اقتدار پارٹی سے اس کا کوئی قریبی رشتہ یا تعلق ہو تو پھر اسی انتظامیہ کے ہاؤ باؤ سرد پڑ جاتے ہیں، اور اس کی طرف سے کی جانے والی انہدامی کارروائی میں وہ جوش و جلوہ نہیں نظر آتا، جو کچھ دیر پہلے یا چند دن قبل اقلیتوں کے خلاف نظر آیا تھا۔ اور اس قسم کی ناانصافی یا قانون کی دو دھاری تلوار کی ایک دو مثالیں نہیں؛ بلکہ پورے ملک سے بےشمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، جہاں انہدامی کارروائیوں میں انتظامیہ اور سرکار کی طرف سے کھل کر دوہرا رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ اسی سے ملتی جلتی صورت حال مذہبی مقامات کے سلسلے میں پائی جاتی ہے، جہاں انتظامیہ کو مساجد و مدارس اور مزارات و درگاہوں کا معمولی اضافی رقبہ دور سے بھی نظر آ جاتا ہے، جو شہر کی تزئین و آرائش میں رکاوٹ بن رہا ہوتا ہے، یا جن مدراس و مساجد کی تعمیر میں حکومت کے قواعد وضوابط کی رعایت نہ کی گئی ہو، ان کے خلاف تو نوٹس جاری کرکے فورا کارروائی عمل لائی جاتی ہے؛ مگر برادران وطن کے نہ جانے کتنے مذہبی مقامات تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ایسے موجود ہیں، جو مکمل طور پر سرکاری املاک پر قائم ہیں اور نہ جانے کتنی جگہیں ایسی بھی ہیں، جہاں ان عمارتوں کا قیام و وجود آج بھی آدھے آدھے راستے گھیرے ہوئے ہے اور ان کی وجہ سے سڑکیں تنگی کا شکار ہیں؛ تو کیا انتظامیہ کی یہ دو رخی پالیسی نہیں ہے؟ اور کیا اس طرح کے معاملات سے ملک و ریاست کی امیج دنیا بھر میں خراب و بدنام نہیں ہوتی ہے؟ اور کیا ایک ہی معاملہ کی کارروائی میں دو الگ الگ قسم کی سزائیں جاری کرنے کی ہمارے آئین و دستور میں گنجائش ہے؟
ظاہر ہے ان تمام اعتراضات کا جواب ایک ادنی احساس و شعور رکھنے والا انسان بھی صحیح ڈھنگ سے دے سکتا ہے، اور وہ مذہبی تعصب و تشدد کا شکار ہوئے بغیر کہہ سکتا ہے کہ: "یہ اقلیتی طبقے کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے اور ایک خاص کمیونٹی کو پریشان کرنے والا حکومت کا دوہرا رویہ اور غیر مناسب عمل ہے۔”
ایسے میں ہم تمام ریاستی حکومتوں کے اہم ذمہ داروں اور مرکزی حکمرانوں کی توجہ چاہتے ہیں اور ان سے درد دل کے ساتھ بس اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ؂
بستی بسانا کوئی کھیل نہیں، یہ بستے بستے بستی ہے!
اس لیے خدارا تخریبی سرگرمیاں، توڑ پھوڑ کی سیاسی روش اور جذبات میں آکر کی جانے والی تمام انتقامی کاروائیاں فورا بند کی جائیں اور عوام کو پورے راحت و سکون کے ساتھ اپنے اپنے کاروبار، اور ان کو اپنے اپنے مذہبی رسومات کے مطابق عمل کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے؛ اس لیے کہ:
حکومت کی گدی پر براجمان افراد کیا جانیں؟
روٹی کی بھوک کیا ہے؟؟ غم روزگار کیا ہے؟؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے