محمد قاسم ٹانڈؔوی
قلم و قرطاس کے جدید سپاہی اور میدان صحافت کے قدیم شہ سواروں کی طرف سے فی الوقت ملک کے موجودہ حالات پر جتنا لکھا جا رہا ہے، شاید مابعد آزادی کسی دور حکمرانی میں اتنی شدت و کثرت سے لکھا گیا ہو؟ اخبار بینی اور کتب و رسائل کے مطالعے سے ایسا محسوس نہیں ہوتا؛ حالاں کی انگریزوں کے جبر و تسلط سے رہائی ملنے اور ملک تقسیم ہونے کے بعد ملک کے حالات انتہائی تشویشناک و پریشان کن مرحلے سے گزر رہے تھے۔ ایک طرف انگریزوں کی غلامی سے نکلنے اور ملک تقسیم کی خوشی میں ڈھول تاشے بجانے والے تقسیم کو بجا ٹھہرا رہے تھے، تو دوسری طرف ہجرت وطن کا درد اور اپنوں کی جدائیگی کا غم ہر اس ہندوستانی کو کھائے جا رہا تھا جس کے آباء و اجداد نے سر سے کفن باندھ کر جنگ آزادی میں نہ صرف حصہ لیا تھا؛ بلکہ حصول آزادی کی خاطر خود کو اور اپنے اہل و عیال کو پھانسی کے پھندے پر چڑھتے اور جھولتے دیکھا تھا۔ علاوہ ازیں ملک کی تقسیم ایک ایسے وقت میں ہوئی تھی، جب ملک کا ہر باشندہ مالی اعتبار سے کافی کمزور تھا؛ کیوں کہ اس نے اپنی تمام جمع پونجی انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے اور ان سے طویل عرصے تک لڑی جانے والی جنگ میں صرف کر ڈالی تھی۔
خونچکا آزادی کی اس مختصر تاریخ اور وطن عزیز میں صدیوں سے آباد چلی آ رہی قوم مسلم کی اس تکلیف دہ روداد سے اتنا تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ: ہم نے اور ہمارے اکابر و بزرگ نے خاک وطن کے ہر ذرہ اور گوشہ سے جو محبت کی ہے، اس کا نہ تو کوئی مول بہاؤ ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کی مثال و نظیر پیش کر سکتا ہے۔ ہم نے ہر اس نازک موڑ اور موقع پر ملک کی خدمت و امداد کی ہے، جہاں بھی اس نے ہم سے قربانی کا مطالبہ کیا؛ وہ چاہے نظام حیدرآباد کے ذریعے ملک کی معاشی حالت کو بہتر و مضبوط کرنے کےلیے ذاتی سونے سے مالی تعاون کرنے کا معاملہ ہو یا پڑوسی ممالک کی سرحدوں میں داخل ہو کر دشمنان ملک و ریاست کے دانت کھٹے کرنے کا واقعہ ہو۔
مسلمانوں کی حب الوطنی اور ملکی خدمات پر انگلی اٹھانے والوں کو ہم زیادہ دور نہیں لے جانا چاہتے؛ ہم ان سے صرف اتنا ہی کہیں گے کہ جب بھی تم کو ہماری وفاداری کا ثبوت اور وطن کی عزت و حرمت پر مر مٹنے کا جذبہ اور اس کی سند چاہئے ہو تو "کرنل صوفیہ قریشی” سے مربوط حالیہ اس آپریشن کو دیکھ لینا، جس میں کرنل قریشی نے جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کو اس کے گھر میں گھس کر سبق سکھایا اور ‘آپریشن سندور’ کو کامیابی سے ہمکنار کرایا تھا۔
قارئین کرام! شہیدان وطن اور خادمان ملک و ملت کی یہ فہرست بڑی طویل و وسیع ہے، جس کو دو چند لوگوں کی قربانیوں کا تذکرہ کرکے نہ تو تکمیل کو پہنچایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہمارے اکابر و بزرگوں کی طرف سے پیش کردہ بےغرض و بےلوث قربانیوں کا وہ نعم البدل بن سکتا ہے؛ لیکن پھر بھی آج ہم یہاں دو کرانت کاری اور انقلابی شخصیات کا تذکرہ کرکے ان تمام لوگوں کو جواب دینا چاہتے ہیں، جو آئے دن ہماری وفاداری اور حب الوطنی کو نہ صرف مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں؛ بلکہ کچھ لوگوں پر تو راشٹروادی (سچے ہندوستانی ہونے) کا ایسا بھوت سوار ہے کہ وہ اپنے عوامی بیانات میں کھلم کھلا ہم کو ہجرت کر جانے اور دیش سے نکل جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، ہمیں غدار وطن کا طعنہ دیا جاتا ہے، کبھی ہمیں ملک کی شہریت سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، تو کبھی ہمیں گھسپیٹھئے اور نکسل وادی قرار دے کر ہمارے احساس و جذبات کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے اور بلاواسطہ ہماری حب الوطنی پر نشانہ سادھا جاتا ہے۔
یہاں ہم نمونہ کے طور پر آزاد ہندوستان کی فوج کے جواں ہمت سپاہی ویر عبدالحمید اور جنگ آزادی کے اہم سپوت اشفاقﷲ خاں کا تذکرہ کرنا بہتر و مناسب گمان کرتے ہیں، جن کے جہادی اور بہادرانہ کارناموں اور از اول تا آخر جانبازی سے لبریز ان کی انقلابی سرگرمیوں کا کون منکر ہو سکتا ہے؟ اور ان کی ذات سے کون ناواقف ہو سکتا ہے؟ کہ اول الذکر فولادی شخصیت "ویر عبدالحمید’ پہلے تو 1962 میں جب "ہند-چین” جنگ ہوئی تو ساتویں بٹالین کے انفینٹری بریگیڈ کا حصہ بن کر چینی فوجیوں کا زبردست مقابلہ کیا، اور پھر جب 1965 میں ہند-پاک جنگ چھڑی تو یہی جنگ اس آہنی صلاحیتوں کے مالک ‘ویر عبدالحمید’ کےلیے شہادت کی جنگ ثابت ہوئی؛ چنانچہ 8؍ستمبر؍1965 کو 106 ایم ایم بندوق کے ساتھ امرتسر روڈ پر ادھر ویر عبدالحمید محاذ سنبھالتے ہیں، تو ادھر 10؍ستمبر کو افواج پاکستان لگاتار گولے برساتے ہوئے جب ہندوستانی فوجیوں کی چھاؤنی میں داخل ہونے لگتے ہیں، تو اسی دوران ویر عبدالحمید کی نظر پڑتی ہے کہ ٹینکوں کا ایک پورا گروپ ان کی جانب بڑھ رہا ہے؛ یہ دیکھ کر ویر عبدالحمید عقلمندی کا مظاہرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ انہوں نے گنّے کے کھیتوں میں توپ داغنے والی بندوقوں کو کچھ اس طرح نصب کر دیا کہ پاکستانی فوج انہیں دیکھ نہ سکے؛ چنانچہ جب پاکستانی ٹینک نزدیک آئے تو اچانک ان پر حملہ کرکے آن واحد میں 3 ٹینکوں کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا۔ مقابلہ کا وہ دن 10؍ستمبر کا تھا، جب پاکستانی فوجیوں کے سامنے اپنی بہادری اور عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس محب وطن ‘ویر عبدالحمید’ نے اپنی جان مادر وطن کےلیے قربان کر دی۔ جبکہ ثانی الذکر مجاہد آزادی، شہید وطن اور ہندو مسلم اتحاد کے عظیم علمبردار و وفاشعار شخصیت جناب ‘اشفاقﷲ خاں’ کی بےغرض و بےلوث قربانیوں کو دیش بھلا کیسا بھلا سکتا ہے، وطن عزیز سے جن کی محبت و چاہت کا عالم یہ تھا کہ: جیل سپرنٹنڈنٹ نے پھانسی دینے سے پہلے جب ان سے ان کی آخری آرزو معلوم کی تو انہوں نے کہا تھا:
کچھ آرزو نہیں ہے آرزو تو یہ ہے
رکھ دے کوئی ذرا سی خاکِ وطن کفن میں
یعنی دنیا سے جاتے جاتے بھی "وطن کی خاک کفن” میں رکھنے کی بات کرکے وطن سے جو قلبی محبت و الفت ہے؛ اب بھی اس سے دل خالی نہیں ہے اور اس کو ساتھ لے جانے کی اپنی آخری تمنا کا اظہار ہے۔
وطن کے اس محافظ و مجاہد کے حوالے سے تاریخ نویسوں نے لکھا ہےکہ: جس وقت آپ کا مقدمہ لکھنؤ کی عدالت میں پیش ہو کر سیشن جج ‘ہملٹن’ کے زیر سماعت (6؍اپریل؍1926 کو) پھانسی کی سزا سنائی گئی تو اشفاقﷲ خاں جب کمرۂ عدالت سے باہر آئے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے عزیز و اقارب و دوست احباب موت کی سزا سن کر آب دیدہ و رنجیدہ ہیں تو آپ نے انہیں دلاسہ دلانے کی کوشش کی، اور کہا کہ اس طرح ’’رونا دھونا ٹھیک نہیں ہے، آپ لوگوں کو تو فخر کرنا چاہئے کہ خاندان کا ایک فرد ظلم و جبر سے ٹکر لیتا ہوا تختۂ دار پر چڑھ گیا۔‘‘
دوستو! یہ اور ان جیسے ہزارہا ہزار سرفروشانہ واقعات اور مجاہدانہ کارناموں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے، جس پر ہر ہندوستانی کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے؛ مگر افسوس! ان سنہرے واقعات کے موجود ہوتے ہوئے بھی کم ظرف و بد طینت افراد اور احسان فروشی کے مرض میں مبتلا فرقہ پرست ٹولہ ہم سے ہماری شہریت اور مذہبی آزادی کا حق سلب کرنا چاہتا ہے اور نعرہ دیتا ہے: ‘مسلم مکت بھارت” کا! تو کیا اتنی عظیم الشان تاریخ اور سنہرے کارناموں کے ہوتے ہوئے ہم اس ملک کو خالی کر دیں گے اور اپنےآبا و اجداد کے تعمیر کردہ اس سونے کی چڑیا نما ہندوستان کو یوں ہی ان کے حوالے کرکے ان کے اس نعرہ کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے چھوٹ اور آزادی دے دیں گے؟ نہیں، ہرگز نہیں؛ بلکہ ہم اسی ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور تا دم آخر اسی ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا حصہ بن کر برابر کے حقدار و پاسدار بن کر اس دنیا سے اپنا رخت سفر طے کریں گے۔
(mdqasimtandvi@gmail)
