ڈاکٹر جاوید کمال

اپنی گھریلو ضرورت کا سامان لے کر میں اس بڑے سے سٹور سے باہر نکلا ہی تھا کہ سامنے سڑک کے کنارے ایک چمچماتی کار آکر رکی۔ پچھلی سیٹ سے ایک فیشن ایبل عورت اپنی گود میں ایک بڈے بالوں والا چھوٹا سا کتا لے کر اتری اور اسٹور کی سیڑھیاں چڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک کسی طرف سے پانچ چھ سال کا، میلا کچیلا کپڑا پہنے ایک لڑکا آیا اور عورت کو چھو کر اس کچھ مانگنے کے انداز میں اپنا ہاتھ اس کے آگے پھیلا دیا ۔ لڑکے کی طرف دیکھ کر عورت نے عجیب سا منہ بنایا اور پھر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ لڑکے نے پھر اسے چھونا چاہا۔ چھو جانے کے ڈر سے وہ ایسا بدکی کہ سیڑھیوں پر گرتے گرتے بچی۔ لیکن اس بچنے کی کوشش میں کتا گود سے سرک کر زمین پر گر پڑا اور چین چیں کرنے لگا۔اس نے جلدی سے کتے کو اٹھایا اور اسے پچکارنے لگی ۔ مانگنے والے لڑکے کی طرف غصے سے اس طرح دیکھا کہ وہ سہم گیا اور عورت تیزی سے سیڈھیاں چڑھ کر اسٹور میں داخل ہو گئی۔ میں سب دیکھ رہا تھا اور فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کس کی قسمت زیادہ اچھی ہے لڑکے (انسان) کی یا کتے کی ؟؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے