ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ناظم جامعۃ الفیصل۔بجنور
شبِ برائت اور ماہِ شعبان کے تعلق سے مسلمانوں کے درمیان جو تصورات اور اعمال رائج ہیں، ان کا سنجیدہ اور علمی جائزہ لینا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ دینِ اسلام میں کسی بھی عقیدے یا عمل کی بنیاد خواہ کتنی ہی قدیم کیوں نہ سمجھی جائے، اس کا اصل معیار قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ ہی ہیں۔ اگر کوئی بات ان دونوں ماخذوں سے ثابت نہ ہو تو اسے دین کا حصہ قرار دینا درست نہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شبِ برائت کے نام پر بہت سی ایسی باتیں عام ہوچکی ہیں جو تحقیق اور دلیل کے کسوٹی پر پوری نہیں اترتیں۔
عام مسلمانوں میں یہ تصور بہت گہرا ہے کہ پندرہ شعبان کی رات ایک مخصوص عبادت کی رات ہے، جس میں خاص طریقے سے جاگنا، مخصوص نوافل پڑھنا، یا اجتماعی طور پر بعض اذکار و دعائیں کرنا لازم ہے۔ حالانکہ نبی اکرم ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے دور میں اس رات کے لیے کسی خاص عبادت کا اہتمام منقول نہیں۔ اگر یہ رات واقعی کسی مخصوص عبادت کے لیے متعین ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اس کی وضاحت ضرور فرماتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر عمل پیرا ہوتے۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس رات میں عبادت کی جانی چاہئے ۔آج بھی اگر برصغیر کے چند ممالک کے سوا کسی بھی مسلم ملک میں اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔
اسی طرح یہ عقیدہ بھی عام ہے کہ اسی رات انسانوں کی تقدیریں، سال بھر کے رزق، زندگی اور موت کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید واضح طور پر بتاتا ہے کہ فیصلوں والی رات لیلۃ القدر ہے، جس کا تعلق ماہِ رمضان سے ہے۔ اس کے برخلاف شبِ برائت کے بارے میں یہ بات محض عوامی تصور اور بعد کے ادوار کی پیداوار معلوم ہوتی ہے، جسے بغیر تحقیق کے نسل در نسل منتقل کیا جاتا رہاہے۔
شبِ برائت کے موقع پر قبرستانوں میں خاص طور پر جانے کا رواج بھی عام ہے۔ بعض لوگ اسے لازم سمجھتے ہیں، بعض اسے نہ کرنے والوں کو محرومی کا شکار تصور کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ سے عمومی طور پر قبرستان جانے کی ترغیب ضرور ثابت ہے، مگر پندرہ شعبان کی رات کو خاص طور پر قبرستان جانے کا اہتمام کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ اسی طرح قبرستانوں میں چراغ جلانا، قبروں پر روشنی کرنا یا وہاں کسی قسم کی تقریبات منعقد کرنا نہ سنت ہے اور نہ ہی اس کی کوئی دینی بنیاد ہے۔
بعض علاقوں میں شبِ برائت خوشی اور تہوار کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ آتش بازی، پٹاخے، شور و ہنگامہ اور فضول خرچی جیسے اعمال نہ صرف عبادت کے منافی ہیں بلکہ اسلامی اخلاق کے بھی خلاف ہیں۔ اسی طرح گھروں میں حلوہ یا مخصوص کھانے پکانے کو دینی عمل سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ یہ سب چیزیں ثقافتی رسمیں ہیں جنہیں دین سے جوڑ دینا درست نہیں۔
اگر دوسری طرف ماہِ شعبان میں نبی اکرم ﷺ کے ثابت شدہ معمولات پر نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس مہینے میںزیادہ عبادت کرنے پر، بالخصوص نفلی روزے رکھنے پرخاص اہمیت دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھتے تھے، لیکن شعبان میں آپ کثرت سے روزے رکھتے تھے، یہاں تک کہ اکثر دن روزے سے ہوتے تھے۔ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے، جو اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ شعبان میں روزوں کی کثرت نبی اکرم ؐ کا عمل ہے۔اس ضمن میں بھی نبی رحمت ؐ نے امت کے لیے آسانی فرمائی اور رمضان سے قبل روزے رکھنے سے منع فرمایا۔ارشاد گرامی ہے:
لا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ وَلَا یَوْمَیْنِ إِلَّا رَجُلٌ کَانَ یَصُومُ صَوْمًا فَلْیَصُمْہُ(متفق علیہ)
اس حدیث کا واضح مفہوم یہ ہے کہ رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھا جائے، الا یہ کہ کسی شخص کی پہلے سے نفلی روزوں کی عادت ہو، مثلاً وہ پیر و جمعرات یا ایامِ بیض کے روزے رکھتا ہو، تو اس کے لیے اجازت ہے۔اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے:
إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا(سنن ابی داود، سنن ترمذی)’’جب نصف شعبان گزرجائے تو روزہ مت رکھو‘‘
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ شعبان میں اتنے زیادہ روزے کیوں رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ رجب اور رمضان کے درمیان واقع ہے، اور اسی مہینے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔ یہ حدیث سنن نسائی میں مروی ہے اور بعض محدثین نے اس پر کلام کیاہے۔مگر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی توجہ کسی ایک رات پر نہیں بلکہ پورے مہینے پر مرکوز تھی۔ آپ ﷺ عبادت کو رسم یا وقتی جوش کا محتاج نہیں بناتے تھے بلکہ مسلسل اور متوازن عمل کو پسند فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے شعبان کو رمضان کی عملی تیاری کا ذریعہ بنایا، تاکہ جسم اور روح دونوں رمضان کے لیے آمادہ ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ دین میں اصل اہمیت اتباعِ سنت کی ہے، نہ کہ عوامی رسموں اور غیر ثابت روایات کی۔ شبِ برائت کے نام پر رائج بہت سی باتیں خرافات کے دائرے میں آتی ہیں،پندرہویں شب کے باب میں جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی ہیں ،ان سب پر محدثین نے بہت سے اشکالات وارد کیے ہیں۔جبکہ شعبان کے روزے، ذکر، دعا اور عمومی عبادت نبی اکرم ﷺ کی سنت سے ثابت ہیں۔ اگر مسلمان ان خرافات سے بچ کر سنت کے مطابق شعبان گزاریں تو نہ صرف دین خالص رہے گا بلکہ رمضان کا استقبال بھی ایک شعوری اور بامقصد انداز میں ہوگا۔ دین کی روح اسی میں ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے، نہ کہ رسموں اور روایتوں کے پیچھے دین کو گم کر دے۔اللہ تعالیٰ ہمیں نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
