محمد قاسم ٹانڈؔوی
ہم سبھی اس بات سے بہ خوبی واقف ہیں کہ عصری تعلیم گاہوں (اسکول و کالج) میں سالانہ امتحانات کی تیاریاں چل رہی ہیں اور جیسے ہی سالانہ امتحانات کا یہ مرحلہ تکمیل کو پہنچےگا؛ اس کے فورا بعد نئے تعلیمی سیشں کا آغاز و افتتاح ہو جائےگا۔ کیوں کہ اسکول و کالجز کا نئے تعلیمی سیشن کا جو دورانیہ اور وقفہ رہتا ہے، اس کی کلاسس اوائل اپریل سے شروع ہوتی ہیں اور اواخر مارچ یہ تعلیمی سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اس تعلیمی معیار و مراحل کے اعتبار سے جن طلباء کو ایک اسکول سے دوسرے اسکول منتقل ہونا پڑتا ہے یا کسی بھی وجہ سے دوسرے اسکول و کالج میں داخلہ لینا ہوتا ہے، یا جن والدین کو اپنے بچوں کا فرسٹ مرتبہ ایڈمیشن کرانا ہوتا ہے، تو ایسے جدید طلباء اور ان کے والدین کےلیے جو سب سے اہم چیز درد سر اور فکر مندی والی ہوتی ہے، وہ کسی بھی اسکول و کالج کا ماحول، وہاں کی انتظامیہ کی فکر و سوچ، تعلیمی سرگرمیاں اور بچوں کی ذہنی و فکری نشو و نما اور دیگر بہت سے داخلی خارجی مراسم و امور حائلِ ارادہ و تعلیم ہوتے ہیں؛ جن کا بچوں کی نفسیات پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر انداز ہونے کا خدشہ والدین کو ستاتا ہے۔ لہذا والدین و سرپرست حضرات کو چاہئے کہ وہ ان سب امور کو ذہن میں رکھ کر ایسے اسکول و کالجز کی طرف اپنا رخ کریں اور اپنے نونہالوں کے تعلیمی سفر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسی ہی تعلیم گاہوں کا انتخاب کریں، جہاں ہمارے بچوں کا دنیاوی مستقبل روشن ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی آخرت بھی سجی بنی رہے۔
یہ بات سولہ آنہ سچ ہے کہ آج کے بچے قوم و ملت کے مستقبل کا سرمایہ ہیں، ان سے ملک و ملت کے بہت سے اغراض و مقاصد وابستہ ہیں، آنے والے کل اور اس میں چھپے بہت سے مسائل کا تدارک و تصفیہ قوم کے انہیں نونہالوں کے ذریعے ہونا ہے؛ مگر یہ بات بھی سو فیصد مبنی بر حقیقت ہے کہ: ہمارے بچے قوم و ملت کی امانت اور روشن مستقبل کی ضمانت سے کہیں زیادہ ہمارے پاس اللہ تبارک و تعالی کی امانت ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم اس بار امانت کو ذہن میں رکھتے ہوئے بچوں کی نشونما اور تعلیم و تربیت پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کریں اور ان کی دنیا و آخرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہتر و مناسب اقدامات کریں؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی طرف سے برتی جانے والی ہماری غفلت و لاپرواہی اور دنیاوی ترقی کی چکا چوند ان کی برزخی زندگی کو جہنم زار اور اخروی زندگی کے مراحل کو عذاب الیم کا ذریعہ بنا دے؟
یہاں ہم بہت ہی واضح طور پر یہ بات ذہن نشیں کرا دینا چاہتے ہیں کہ عصری تعلیم گاہوں میں جدید داخلے اور رجسٹریشن کی کارروائی تقریبا فروری ماہ سے شروع ہو جاتی ہے؛ چنانچہ ہماری آج کی اس تحریر کے اصل مخاطب و محرک وہ والدین و سرپرست حضرات ہیں، جو نونہالانِ مستقبل اور معصومانہ ذہن و دماغ کی حامل قوم و ملت بحمدﷲ اس امانت کے وارث و امین بنائے گئے ہیں اور یہ سب حضرات جدید داخلوں (ایڈمیشن) کا من بنائے ہوئے ہیں، ان والدین کے گوش گزار ہم بس اتنا کرنا چاہتے ہیں کہ خدارا بہت سوچ سمجھ کر اسکول و کالج کا انتخاب کریں، اپنی پوری ذمہ داری اور بیدار مغزی کا ثبوت دیتے ہوئے اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی داخلوں کی کارروائی عمل میں لائیں، از خود یہ ذمہ داری نبھا سکتے ہیں، بہت بہتر ہے؛ ورنہ اس میدان کے جانکار و واقف کاروں سے مدد لےکر قدم اٹھائیں۔ صرف یہ کہہ کر کہ ابھی ابتدائی کلاسز کا معاملہ ہے یا ابھی تو ہمارا بچہ چھوٹا ہے، جب بچہ بڑا ہو جائےگا یا بڑی کلاسز کا طالبعلم بن جائےگا؛ تب بہتر اور اچھے اسکول و کالج کا انتخاب کر ان میں پہنچا دیا جائےگا؛ ہرگز ہرگز یہ کہہ کر معاملہ کو ٹالا نہ جائے؛ بلکہ وقت کی نزاکت، حالات کی سنگینی اور اکثر و بیشتر عصری تعلیم گاہوں میں جو نظام و نصاب رائج ہے؛ ان سب کو پوری ہوش مندی کے ساتھ سمجھنے اور معائنہ کرنے کی ضرورت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جانے انجانے اور ہماری اس غفلت و لاپرواہی کے نتیجے میں ہمارا یہ دینی و ملی قیمتی اثاثہ اور امانت خداوندی کا سرمایہ دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے؛ بلکہ دائرۂ اسلام سے بھی خارج ہو جائے۔ اس لیے کہ بیشتر صنعتی شہروں یا ترقی یافتہ شہر و اطراف شہر جدید تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے نام پر جو ادارے قائم ہیں، ان میں سب نہیں تو اکثریت اس نہج پر قائم ہیں اور چل رہے ہیں، جو پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ایمان پر ڈاکہ زنی کر رہے ہیں اور کم سنی کا فائدہ اٹھا کر معصوم ذہنوں میں کفر و شرک کے بیج بو رہے ہیں اور روح اسلام و تعلیمات اسلام کے منافی باتیں ہمارے بچوں کو پڑھا لکھا کر ان کے اذہان و قلوب کو پراگندہ اور طبیعت و مزاج میں اسلام، قرآن اور صاحب قرآن کے متعلق منفی باتیں راسخ و پیوست کی جا رہی ہیں۔
گرامی قدر والدین! یہ بچے جن کے ہم سرپرست و ذمہ دار بنا گئے ہیں، یہ ہم پر خدا کی نعمت کے ساتھ ایک امانت بھی ہیں، اور اس نعمت و امانت کی جواب دہی کےلیے اسی تندہی، بیداری اور ہوش مندی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے دو اولوالعزم پیغمبروں کے ذریعے اپنی اولاد کے ایمان پر باقی رہنے اور ان کا خاتمہ بالخیر ہونے پر متفکر رہنے کا نقشہ کھینچا ہے؛ چنانچہ قرآن ان دو مقدس ہستیوں اور پیغمبروں کی فکر مندی سے بھرا تذکرہ جس درد و قلق کے ساتھ پیش کرتا ہے، اس کو ماتھے کی آنکھوں سے نہیں؛ بلکہ دل کے نہا خانوں میں اتار کر مطالعہ میں لائیں اور پھر گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر موجودہ دور کا موازنہ اس دور پیغمبری سے کریں، جہاں خیر ہی خیر غالب تھی، اور آج ہر سمت تاریکی ہی تاریکی پھپھیلی ہے، جہاں دادے سے لےکر پوتے تک نبوت کی کڑی سے کڑی جڑی ہوئی تھی، اور آج نسل در نسل رسم و رواج کی ظلمت اور قدم بہ قدم اہل فتن کی ٹولیاں راستہ گھیرے کھڑی ہیں! تو ذرا ایمانداری کے ساتھ سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچئے اور تصور کیجئے! کیسے اللہ کی یہ امانت ضائع ہونے سے محفوظ رہ سکتی ہے؟ اور کیسے یہ دولت خداوندی ہمارے ہاتھوں سے نہیں نکل سکتی؟؟ اور کیسے یہ نعمت الہی بربادی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے بچ سکتی؟؟؟
قرآن کی درج ذیل یہ گفتگو ہر اس ایمان والے کےلیے کافی و شافی ہے، جو قرآن مجید اور اس کی ایک ایک آیت پر صدق دل کے ساتھ ایمان و یقین رکھتا ہے۔ اور یقین کیوں نہیں ہوگا؛ اس لیے کہ قرآن ایک نہیں؛ بلکہ دو دو پیغمبروں کا قول نقل کرکے ہماری عقل پر پڑے غفلت و لاپرواہی کے ان پردوں کو چاک کر رہا ہے، جن کو ہم نے جھوٹی شان قائم کرنے کےلیے تعلیم و ترقی کے نام پر ڈال رکھا ہے، سماج میں اپنی حیثیت کو جتانے اور سوسائٹی میں اپنی دولت و شہرت کی وقتی اور عارضی نمائش کرنے کےلیے جس طرح ہم اپنی اولاد کو اپنے ہی ہاتھوں سے عیسائی اسکولوں میں پہنچا کر عیسائی مشنری کا حصہ بنا رہے ہیں اور ان کے اذہان و افکار کو عیسائیت زدہ کر رہے ہیں؛ اللہ اولاد پیغمبری کو واسطے بنا کر قرآن کی زبانی ہمیں سمجھا رہا ہے اور متنبہ کر رہا ہے کہ دیکھو! وقت کے انبیاء، جن کے یہاں ذرہ اور ریزہ برابر بھی شرک کی گنجائش نہیں ہوتی، وہ کس طرح اپنے بعد اپنی اولاد کو دین اسلام پر باقی رہنے کی تاکید کر رہے ہیں اور کس طرح ان سے دریافت کر رہے ہیں کہ بتاؤ! بہ وقت موت تم کس دین پر جان دوگے؟
ترجمہ: "وصیت (نصیحت و تاکید) کی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو اور (اسی طرح نصیحت و تاکید کی، اپنے بیٹوں کو) سیدنا حضرت یعقوب علیہ السلام نے، کہ: ایے میرے بیٹو! بےشک اللہ نے چن کر دیا ہے تم کو دین (اسلام) سو تم ہرگز مت مرنا؛ مگر مسلمان ہو کر۔”
اللہ کے ان دو بزرگ پیغمبروں نے بہت ہی واضح اور عمدہ انداز سے اولاد کو یہ سکھا دیا کہ: ہمارے دنیا سے رخصت ہو جانے پر ہر حال میں تم دین اسلام پر قائم رہنا؛ یہاں تک اسی حالت میں تم موت کے گلے سے جا لگو!
بہ حیثیت سرپرست و نگراں یا والد و برادر؛ اللہ پاک اولاد کے سلسلے میں خاص طور پر اہل ایماں کو ایک جگہ اور قرآن مجید میں کچھ اس طرح مخاطب و متوجہ فرماتا ہے؛ کہ:
ترجمہ: "ایے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اور اپنے اہل خانہ (ماتحتوں) کو (جہنم کی) اس آگ سے، جس کا ایدھن انسان و پتھر ہیں۔”
یعنی یہ اولاد؛ جس کے ہم سرپرست و ذمہ دار بنا گئے ہیں، ہماری ذاتی مصروفیت، تعلیمی کوتاہی اور حالات سے عدم دلچسپی کے سبب خود تو جہنم کی آگ کا حصہ بن ہی جائے اور ہمارے لیے تباہی و بربادی کا شاخسانہ اور بارگاہ رب العلمین میں ہماری گرفت کا ذریعہ بھی بن جائے؛ اس لیے وقت کی سنگینی اور حالات کا مکمل و بہ غور جائزہ لیتے ہوئے اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں داخل و ایڈمڈ کریں، جہاں مکمل طور پر دینی و مذہبی شناخت کے ساتھ دنیاوی بلندیاں مقدر ہوں۔ اور اگر ہم نے اپنے بچوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ پیراستہ کیا، ہم نے اس کو علوم و فنون کا شناور تو بنایا، ہم نے اس کےلیے دنیاوی ترقی و خوشحالی کے تمام راستے ہموار تو کئے؛ مگر اس کو خدا شناسی، خدا ترسی کی تعلیم نہ دی، اس کو قرآن و حدیث کی معرفت نہ کرائی، اس کو تقوی و طہارت کا سبق نہ پڑھایا ہو، اور اس کے دل و دماغ میں قبر و حشر کا منظر نہ بٹھایا ہو، نیز روز قیامت حساب و کتاب کےلیے بارگاہ الہی میں حاضر ہونے کا تصور و خاکہ نہ قائم کیا ہو؛ تو یاد رکھنا مسلمانوں! یہ تعلیم، یہ اولاد اور اولاد کے خاطر کی جانے والی یہ تگ و دو سب کی سب ہمارے لیے وبال جان بن جائیں گے اور اس وقت کف افسوس کے ہمارے پاس نہ کوئی عذر ہوگا اور نہ ہی کوئی چارہ کار؟
اس لیے آنکھیں کھولئے اور اپنی بیدار مغزی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی اولاد کو اغیار کے ہاتھوں کا کھلونا بننے مت دیجئے۔ آپ کو نہیں پتا، کوئی بات نہیں، آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ جن اداروں اور عصری تعلیم گاہوں میں آپ اپنے بچوں کو صبح صبح چھوڑ کر آتے ہو نہ، وہاں ان سے سوریہ نمسکار کرایا جاتا ہے، ایک خدا کا انکار کرا کر تین خداؤں کا تصور ان کے اذہان میں جمایا جاتا ہے، آپ کے نونہالوں کو شرک پر مبنی "وندے ماترم” جیسا متنازعہ گیت گانے پر مجبور کیا جاتا ہے، تہذیب و ثقافت کے نام پر آپ کی جوان بچیوں کو بےحیائی کا پاٹھ پڑھایا جاتا ہے، مخلوط نظام تعلیم کے سایہ تلے اور فیشن و ڈیزائن کے بہانے نوعمر بچے اور بچیوں کو اسٹیج کی زینت بنا کر ڈانس کرایا جاتا ہے اور ان سے شرم و حیا کا لباس چھینا جاتا ہے۔ ایسی نہ جانے کتنی مثالیں موجود ہیں، جہاں ماں باپ کی ادنی لاپرواہی کے سبب پل بھر میں خاندانوں کی عزت و حرمت کا جنازہ نکل گیا اور نہ جانے کتنے نمونے اور مناظر آئے دن ایسے سامنے آتے ہیں، جن کو دیکھ کر انسانی سر شرم سے جھک جاتے ہیں اور انسانیت پانی پانی ہو جاتی ہے۔
اپنی دین داری اور مذہبی رواداری کا دم بھرنے والے مسلمانو! ذرا ماتھے کی آنکھوں سے جناب سمیعﷲ ندوؔی صاحب کی اس تازہ ترین تحریر اور رپورٹ کا مطالعہ کیجئے، جو انہوں حالیہ دنوں کی ایک حواس باختہ کر دینے والی ویڈیو کے مناظر دیکھ کر مسلم قوم کے خوابیدہ ضمیر کو جھنجوڑا ہے؛ تحریر سے پہلے مولانا ندوؔی کی قائم کردہ ہیڈنگ دیکھئے، وہ لکھتے ہیں:
"اسلامی نظموں اور لبادوں کے ساتھ مسلم بچیوں کو نچانے کی شرمناک حرکت!”
آگے تفصیل سے لکھتے ہیں کہ: آج کل مسلمانوں میں بھی کلچرل پروگراموں کے نام پر انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول روایت چل پڑی ہے، جہاں برقع پوش مسلم بچیوں کو اسلامی نظموں اور نعتوں پر ایسے مظاہروں کےلیے آمادہ کیا جا رہا ہے، جو رقص کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف بےشرمی اور بےغیرتی کا مظہر ہے؛ بلکہ ایک نہایت خبیث حرکت ہے، جو ہماری نئی نسل کی اخلاقیات کو برہنہ کردےگی! بچیوں کو اس طرح اسٹیج پر پیش کرنا؛ چاہے وہ دینی کلام ہی کیوں نہ ہو، انہیں مستقبل میں بالی ووڈ کے بےہودہ کلچر اور رقص و سرود کی طرف راغب کرنے کا سبب بن سکتا ہے، ایسے مظاہرے جو اس اسٹیج پر ملحقہ ویڈیو میں نظر آرہے ہیں، تربیتی اعتبار سے تباہی اور بربادی ہیں، اس کا انجام آگے چل کر برہنگی پر منتج ہوتا ہے؛ کیوں کہ ایسی موسیقی کے ذریعے شیطان انسان کی روح پر اثرانداز ہوتا ہے، یہ حقیقت ہے!
ایسے مظاہروں کا دوسرا تکلیف دہ پہلو اسلامی نظموں اور نعتوں میں موسیقی کی آمیزش ہے، جو کہ بذاتِ خود ایک مستقل اور سنگین فتنہ ہے، مقدس کلام کےساتھ بالی ووڈ جیسی "ڈِھنچک” موسیقی کا استعمال اور اس پر جسمانی حرکات و سکنات، جسموں کا تھرکنا اصل میں دینی شعائر کی توہین اور بےادبی ہے، یہ طریقہ کار اسلام کے وقار، متانت و شرافت اور تہذیبی اقدار کے سراسر منافی ہے، کلچرل پروگرام منعقد کرنے کے بہت سے شائستہ اور مہذب طریقے موجود ہیں، اس پر میں نے پہلے بھی لکھا ہے (ابو عاصم اعظمی نے جو بدتہذیبی پر مشتمل گوونڈی میں پروگرام کیا تھا، اس تناظر میں لکھی گئی تحریر ملاحظہ فرمائیں) کہ اگر مسلم ادارے اور مسلم سیاستداں مسلمانوں میں واقعتاً کلچرل فنون کے پروگرام کرنا چاہتے ہیں تو وہ "صاحبِ دل و دماغ” اہل علم یا علم دوست مسلمانوں سے رابطہ کریں، وہ ان موسیقیت زدہ اور بےہودہ مظاہروں سے زیادہ بہترین، مؤثر و نافع پروگراموں کی طرف رہنمائی کرسکتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ ناچ گانے ہی کو ذریعہ بنایا جائے؛ مگر افسوس! آج کل موسیقی کی دھنوں پر تھرکنے کا چسکا دین کے نام پر بھی پورا کیا جا رہا ہے؛ یہ بےغیرتی اور بےدینی کی انتہا ہے!
مسئلہ یہ ہےکہ دن رات سوشل میڈیا پر ریلز دیکھ کر لوگوں کی ذہنیت اسی سانچے میں ڈھل چکی ہے۔ دیگر مسلمان تو ان فتنوں کے شکار ہیں ہی، کچھ مولوی بھی دینی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر صرف سوشل میڈیا کی ٹرینڈنگ والی نام نہاد ترقی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ایسے کچّے مولوی جن عصری اداروں میں ہوتے ہیں وہاں ان فتنوں کا حصہ بن کر فتنوں کو دینی لبادے کی آکسیجن دینے کا گھٹیا گناہ بھی کرتے ہیں۔ یہ رویہ شدید مرعوبیت اور احساسِ کمتری کا مَظہر ہے۔
وہ لوگ جو امت کی رہنمائی کے دعویدار ہو سکتے تھے؛ جب اس طرح کے بےہودہ افعال کی سرپرستی کرتے ہیں تو وہ خود امت کےلیے ایک بہت بڑا فتنہ بن جاتے ہیں، یہ لوگ مدارسِ دینیہ میں وقت گزاری کرتے ہیں اور دین کی روح کو سمجھنے کے بہ جائے سوشل میڈیا کی مصنوعی چکاچوند سے متاثر ہوکر اسلامی اقدار کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی خرافات کے خلاف خاموش تماشائی بننے کے بجائے سخت قدم اٹھائیں؛ کیوں کہ یہی وہ فتنے ہیں جو موجودہ مسلم نسلوں کو الحاد و ارتداد اور دین میں تحریفات کی طرف لے جائیں گے، جنہوں نے بھی اس طرح کے پروگرام منعقد کیے ہیں، ان کا ایسا سخت سماجی بائیکاٹ کیا جانا چاہیے کہ آئندہ کوئی بھی مولوی یا ادارہ دین اور کلچر کے نام پر ایسی بےہودہ حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے، جو اسلام اور اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ورزی ہو، بےہودگی کو آپ اسلام کا نام نہیں دے سکتے، یہ برداشت نہیں ہوگا، اس طرح کے اقدامات درحقیقت فسادات ہیں ان کو روکنے اور ان سے نمٹنے کا جو بھی راستہ اختیار کیجیے انداز میں سختی ضروری ہے، تبھی یہ فساد تھمے گا۔”
اے قوم مسلم کے غیور فرزندوں! جاگ جاؤ اور ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنے بند دل کے دریچوں کو کھولئے، اور خدارا! اس نسل نو کے ایمان و اسلام اور اخلاق و کردار کو بچا لیجئے۔
آج کے اس خطاب اور گفتگو کا خلاصہ ہم ایک اور صاحب درد دل، حالات پر گہری نظر رکھنے والے معزز و محترم اور صاحب علم و قلم، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر محترم، معروف و جید عالم دین حضرت مولانا خالد سیفﷲ رحمانی صاحب (مدظلہم العالی) کی تحریر سے کر رہے ہیں، جو ایسے ہی مواقع پر لکھی گئی ایک جامع مانع تحریر ہے؛ حضرت مدظلہم فرماتے ہیں:
"کسی آبادی میں سیلاب آجائے تو آبادی کا ہر شخص فکر مند اور بےقرار نظر آتا ہے، کبھی کبھی یہ تباہی و بربادی پورے ملک کے لوگوں کو اس کے نقصانات کے تدارک کےلیے بےچین کر دیتی ہے، خدا نخواستہ کسی شہر میں زلزلہ آگیا تو ہلاک، زخمی اور بےگھر ہونے والوں کےلیے پوری دنیا اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور ریلیف کی تقسیم عمل میں آتی ہے، اور اگر کہیں تباہ کن طوفان آگیا تو پوری دنیا کے ذارئع ابلاغ جاگ اٹھتے ہیں اور اسی کی داستانیں نوکِ زبان و قلم ہوتی ہیں، سونامی کی ظالم موجوں نے کسی خطہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو تو برسہا برس وہ اخبارات و رسائل کا موضوع بنے رہتے ہیں؛ لیکن ایک سیلاب ان سیلابوں سے بڑھ کر، ایک زلزلہ ان زلزلوں سے زیادہ ہیبت ناک، ایک طوفان ہواؤں کے طوفان سے زیادہ خطرناک اور ایک سونامی سمندر کی سرکش موجوں سے پیدا ہونے والی سونامیوں سے بھی زیادہ جان لیوا ہے؛ لیکن انسان ان سے غافل، بےپروا اور ان کے بارے میں تساہل کا شکار ہے۔”
آگے حضرت والا فرماتے ہیں: "یہ وہ سیلاب ہے، جو درختوں اور کھیتوں کو بہا نہیں لے جاتا؛ بلکہ اخلاق کو بہالے جاتا ہے۔ یہ وہ زلزلہ ہے، جس میں زمین کے اندر چھپی ہوئی چٹانیں متزلزل نہیں ہوتیں؛ بلکہ انسان کے سینوں میں موجود دلوں کی دنیا تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ یہ وہ طوفان نہیں، جو درختوں کو اٹھا کر پھینک دے اور گھروں کو تہ و بالا کردے؛ بلکہ یہ وہ طوفان ہے، جو ایمان کے شجر طوبی کو اکھاڑ پھینکتا ہے۔ یہ وہ سونامی نہیں، جس سے آبادیاں ویران ہو جاتی ہیں؛ بلکہ یہ وہ سونامی ہے، جس سے اخلاق و کردار کی دنیا ویران ہو جاتی ہے۔ یہ ہے برائیوں کا سیلاب، یہ ہے اخلاق و کردار کی تباہی اور یہ ہے ایمان و یقین کی غارت گری، یہ وہ سیلاب ہے، جو دبے پاؤں ہمارے معاشرہ میں داخل ہو رہا ہے، اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی جاتی؛ بلکہ اکثر اوقات اس کا استقبال کیا جاتا ہے، یہ انسانی آبادیوں میں اس طرح داخل ہوتا ہے کہ نہ ہواؤں کا شور، نہ پانی کی موجوں کا زور، نہ زلزلہ کی گھڑگھڑاہٹ اور نہ سونامی کی دل دہلا دینے والی متلاطم لہروں کی اکھاڑ و پچھاڑ، سارا ماحول معتدل، خطرہ کے احساس سے عاری اور ان کے سد باب کی فکر سے خالی؛ لیکن اس کی تباہیاں مادی اور ظاہری تباہیوں سے کہیں بڑھ کر ہیں، وہ آسمان کی بلندی پر پہنچی ہوئی قوموں کو ذلت و رسوائی کے گہرے غار میں پہنچا دیتی ہیں اور بعض اوقات انسان کے مزاج کو اس طرح بدل دیتی ہیں کہ کردار و عمل کے اعتبار سے جانور بھی ان سے بہتر لگتے ہیں۔”
بھائیوں! وقت کی سنگینی اور حالات کے تقاضوں کا احساس و ادراک کریں، آج جو مسلم لڑکیوں کے تعلق سے منفی قصے چند ایک جگہ سے واقع ہوتے دیکھنے سننے کو مل رہے ہیں؛ اگر بروقت ان کا علاج تشخیص نہ کیا گیا تو آئیندہ نتائج اس سے کہیں زیادہ سنگین و خطرناک ہوں گے، اور پھر کفِ افسوس ملنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
(mdqasimtandvi@gmail.com)
