کسی قوم کو آزادی و اقتدار اور غلبہ و استحکام قربانی کے بغیرحاصل نہیں ہوا
عبدالغفار صدیقی
9897565066
قربانی عربی زبان کا لفظ ہے۔ جو ’’قرب‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’قرب‘‘ کسی چیز کے نزدیک ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس دوری ہے۔ قرب سے قربانی کا لفظ مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے۔عام طور پر یہ لفظ جانور کو ذبح کرنے کے لیے ہی بولا اور سمجھاجاتا ہے ،جب کہ یہ درست نہیں ہے ،قربانی کا مفہوم یہ ہے کہ ہم اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیں ،اپنا نقصان گوارا کرکے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں ،اس کا متراد ف ایثار ہے ۔ہر وہ ایثار جو کسی سے قریب ہونے یا کسی کو قریب کرنے اور اپنا بنانے کے لیے کیا جائے ایثارو قربانی ہے ۔
جہاں تک جانورکی قربانی کی بات ہے تو قرآن مجید کے مطابق ہر قوم اور دھرم میں قربانی کا تصور موجود ہے ۔’’اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کر دی تھی تاکہ اللہ نے جو چارپائے انہیں دیے ہیں ان پر اللہ کا نام یاد کیا کریں، پھر تم سب کا معبود تو ایک اللہ ہی ہے پس اس کے فرمانبردار رہو، اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو‘‘۔ (سورہ حج، آیت 34)یہ قربانی حضرت آدمؑ کے دوبیٹوں ہابیل اور قابیل سے شروع ہوئی ہے اور تاقیامت جاری رہے گی ۔دین ابرہیمؑ پر عمل کرنے والے تو باقاعدہ جانوروں کی قربانی کرتے ہی ہیں ،کفار و مشرکین بھی قربانی کرتے ہیں ،ہمارے ملک میں ’’ نربلی‘‘ ہوا کرتی تھی ۔اس کے بعد جانوروں کی بلی کا سلسلہ شروع ہوا ،جو آج بھی جاری ہے ،مختلف قبائل اور مختلف سماج کے لوگ مختلف مواقع پر جانور وں کی بلی دیتے ہیں ،اس کے لیے کسی حوالہ کی ضرورت نہیں ہے ۔
دنیاوی زندگی میں سب سے بڑی قربانی والدین اپنے بچوں کے لیے دیتے ہیں ۔اس میںبھی ماں کی قربانی باپ سے زیادہ ہے ۔اسی لیے ماں کا مقام باپ سے تین گنا زیادہ ہے ۔مشہور حدیث ہے جس میں ایک صحابیؓ نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت فرمایا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟اس کے جواب میں ارشاد ہوا ’’تمہاری ماں‘‘۔اس صحابی ؓنے یہ سوال چار مرتبہ کیا ،جس میں تین بار آپ ؐ نے ’’ تیری ماں ‘‘ کہااور چوتھی بار میں ’’تیرا باپ ‘‘ کہا ۔ایک ماں اپنی اولاد پر اپنا سب کچھ نچھاور کردیتی ہے ۔رات و دن کا سکھ چین ،اپنی صحت و تندرستی ،اپنا مال ،یہاں تک ضرورت پڑے تو جان تک دے دیتی ہے ۔باپ بھی کچھ کم قربانی نہیں دیتا ،حصول معاش کے لیے اس کی تگ و دو کا اندازہ اولاد کو اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے بچوں کے لیے دوروٹی کا انتظام کرتے ہیں ۔والدین کے علاوہ بھی بہت سے لوگ قربانی دیتے ہیں ،کوئی اپنے وقت کی ،کوئی اپنے مال کی ،کوئی اپنی صلاحیتوں کی قربانی دیتا ہے ،کوئی انسان یہ قربانیاں اپنی جماعت اور تنظیم کے لیے دیتا ہے ،کوئی اپنے ملک اور وطن کے لیے اور کوئی اللہ کے دین کو سربلند کرنے کے لیے دیتا ہے ۔کتنے ہی لوگ اپنے مقصد کے حصول کے لیے شادیاں تک نہیں کرتے ۔ہم جن آسائش حیات سے لطف اندوز ہورہے ہیں اس کے وجود میں کسی نہ کسی کی قربانی پوشیدہ ہے ۔ہمارے پاس اللہ کا دین جو پہنچا ہے اس میں نبی اکرم ﷺ کی قربانی کے ساتھ صحابہ و تابعین اور اللہ کے ہزاروں نیک بندوں کی قربانیاں شامل ہیں۔کبھی سیرت رسول ؐ کے اوراق پلٹ کر دیکھئے ،اس میں شعب ابی طالب ،طائف کا سفر،گردن پر اونٹ کی اوجھڑی ،راستوں میں کانٹے ،آل یاسر کی چیخیں ،بلال کی احد احد ،ہجرت ،بد روا حد،حنین و خندق،فاقہ کشی ،اپنوں کی شہادت ،وغیرہ کے عنوانات جلی حروف میں لکھے ہوئے دکھائی دیں گے ۔اشاعت اسلام کی خاطر صحابہ ؓ کی قربانیاں،تفہیم دین کی خاطر ائمہ حدیث و ائمہ فقہ کا ایثار تاریخ کے ہر ورق پر جگمگاتا ہوا نظر آئے گا۔
انسانی زندگی میں جو فرد جتنی زیادہ اور جتنی بڑی قربانی دیتا ہے اس کا مقام اسی قدر بلند ہوتا ہے ۔انسانیت کے لیے سب بڑی اور سب سے زیادہ قربانیاں انبیاء علیہم السلام نے دیں ،اس لیے اللہ کے یہاں ان کا مقام سب سے اوپر ہے ،کوئی اس کا ’’خلیل ‘‘ہے ،کوئی اس کا ’’کلیم ‘‘ ہے۔کوئی اس کا ’’حبیب ‘‘ہے ،کسی کو ’’ روح اللہ ‘‘،کسی کو ’’ذبیح اللہ ‘‘ کے لقب سے نوازا جاتا ہے کسی کو ’’للناس اماماً‘‘ کا لقب عطا ہوتاہے ،کسی کو ’’ رحمۃ اللعٰلمین‘‘ کے منصب پر فائز کیا جاتاہے۔
ان کے بعدزبان نبی ؐ سے کسی کے لیے ’’صدیق‘‘،کسی کے لیے ’’ فاروق‘‘ کسی کے لیے ’’ غنی و ذوالنورین‘‘،کسی کے لیے حیدروباب العلم ‘‘،کسی کے لیے ’’امین الامۃ‘‘،کسی کے لیے ’’ سیف اللہ‘‘ کے القاب نوازے جاتے ہیں ۔کوئی ’’ امام ا لمحدثین ‘‘ قرار پاتا ہے تو کوئی ’’ امام اعظم ‘‘۔دنیاوی امور میں بھی قربانیاں دینے والوں کو اعزازات دیے جاتے ہیں ،ہمارے ملک میں بھارت رتن ،پدم بھوشن ،شوریہ چکر اور ویر چکر جیسے انعامات رائج ہیں ۔قربانیاں دینے والوں کا دنیا احترام کرتی ہے ،ہر کسی کے دل میں ان کے جیسا بننے کی خواہش کلبلاتی ہے ۔
قربانی نیک نامی و سربلندی کے ساتھ ساتھ افزایش کا سبب بھی ہے ۔جس چیز کی زیادہ قربانی ہوتی ہے اس کی پیداوار میں اسی قدراضافہ ہوتا ہے ،آپ اپنے جسم کے بال اور ناخن کاٹنا چھوڑ دیجیے ان کی افزائش ایک مقام پر آکر رک جائے گی ۔جن جانوروں کو قربان کیا جاتا ہے ان کی پیدائش میں اضافہ ہوتا ہے ،ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر کروڑوں جانور قربان ہوتے ہیں ،لیکن ہر سال پہلے سے زیادہ جانور موجود ہوتے ہیں ،نہ صرف ان جانوروں میںاضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کی قدرو قیمت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ایک وقت تھا کہ ہمارے علاقوں میں گائے ذبح کی جاتی تھی ،(آج کل سرکاری پابندیاں ہیں) ،تو ہر گھر میں پالی جاتی تھی ،آج نہ صرف گایوں کی تعداد گھٹ رہی ہے ،بلکہ بیچاری سڑکوں پر بے قدری سے ماری ماری پھررہی ہیں ۔ایک وقت تھا کہ سواری اور جنگ میں گھوڑے استعمال ہوتے تھے ،لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سپاہیوں کی سواری کے لیے اور مال برداری کے لیے گھوڑے کم پڑ گئے ہوں ،لیکن آج گھوڑے کہاں ہیں ؟یہ نظام قدرت ہے جس کو کوتاہ نظر نہیں دیکھ سکتے ۔
جب آپ قربانیاں دیتے ہیں تو آپ کی وقعت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مال و دولت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ،ایک تاجر اپنے کاروبار کے لیے ایثار کرکے تجارت کو فروغ دیتا ہے،باغباں اپنے باغ کے لیے اور کاشت کار اپنی فصلوں کی کاشت کے لیے قربانی دیتا ہے تو فصلیں خوب لہلہاتی ہیں ،اہل ملک وقت اور صلاحیتوں کی قربانی دے کر ملک کو خوش حال بناتے ہیں ،عید الاضحی پر جانوروں کی قربانی پر اعتراض کرنے والوں کو یہ نظر نہیں آتا کہ کتنے ہی گھروں کے چولہوں کی آگ اس سے روشن ہوتی ہے ۔جانوروں کو غریب لوگ قدرتی چارہ کھلا کر پالتے ہیں اور دام لے کر فروخت کرتے ہیں ،ان کے لانے لے جانے میں ہزاروں گاڑیوں کا استعمال ہوتا ہے ،قصابوں کی ایک بڑی تعداد ایام قربانی میں اتنا کمالیتی ہے کہ عام دنوں میںپورے مہینے میں بھی نہیں کماتی ،عام دنوں میں گوشت کا کاروبار خود ہمارے ملک میں سالانہ اربوں ڈالر کا ہوتا ہے ،اس کے علاوہ ایام قربانی میں جانوروں کوذبح کیے جانے سے کروڑوں غریبوں کو گوشت میسر آتا ہے اور کئی وقت تک وہ اس سے محظوظ ہوتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ آپ قربانی کس مقصد کے لیے دے رہے ہیں ۔اس لیے کہ آپ جس مقصد کے لیے قربانی دیں گے ،وہی مقصد حاصل ہوگا ۔کوئی اپنے مال میں اضافہ کے لیے وقت اور صلاحیتیں قربان کرے گا تو مال دار ہوجائے گا ۔کوئی غلامی سے آزادی کے لیے قربانی دے گا تو آزادفضامیں سانس لے گا ۔کیا ہم بھول گئے کہ بھارت کو انگریزوں سے آزاد کرانے میں کتنی بیش بہا قربانیاں ہم نے پیش کی تھیں ،کوئی اللہ کو خوش کرنے ،اس کا تقویٰ اختیار کرنے ،اپنے آپ کو خواہشات کی بندشوں سے آزاد کرنے اور اخروی زندگی میں فلاح و کامرانی کے حصول کے لیے قربانی دے گا تو اسے وہی حاصل ہوگا ۔یہ موخر الذکر مقصد کتنا نیک اور پاکیزہ ہے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے ۔اللہ کے یہاں وہی قربانی قبول ہوتی ہے جو اس پاکیزہ مقصد کے لیے دی گئی ہو ۔’’ اللہ تو صرف ان کی قربانی قبول کرتا ہے جو متقی ہوں‘‘ (المائدہ ۔27)دور جاہلیت میں کفار و مشرکین جانور قربان کرکے اس کا گوشت اور خون کعبۃ اللہ کی دیواروں پر لگاتے تھے ،اللہ نے فرمایا:’’اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون مگر اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔(الحج،37)
پس اے میرے عزیزو!قربانی دینے سے دریغ نہ کرو،اس وقت برصغیر ہندو پاک میں ہم اپنی جو حالت ناگفتہ بہ پاتے ہیں ،اس کی بڑی وجہ قربانی نہ دینا ہے ،ذرا اپنا جائزہ لو ،اور دیکھو کہ ہم اپنے سماج کی جہالت دور کرنے ،اسے خوش حال بنانے ،اس کی سالمیت و اتحاد کوبرقرار رکھنے کے لیے کیا قربانیاں دے رہے ہیں ،کیا قربانی صرف مال اور جان کی ہی ہوتی ہے ؟اپنی صلاحیتوں ،اپنے وقت اور اپنے جذبات و خواہشات کو دوسروں کی خوشی اور ترقی کے لیے قربان کردینا بھی قربانی ہے ۔کیا دنیا میں کوئی انقلاب قربانی کے بغیر آیا ہے ،کیا کسی قوم کو آزادی و اقتدار اور غلبہ و استحکام قربانی کے بغیر حاصل ہوا ہے ؟
