لوہرسن میں پیس پارٹی کا عظیم الشان جلسہ، قومی صدر سمیت قدآور قائدین کی شرکت
مہنداول،سنت کبیرنگر: پیس پارٹی کا ایک عظیم الشان پروگرام حلقہ کے موضع لوہرسن میں منعقد ہوا، جس میں پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن سمیت پارٹی کے قدآور لیڈران نے شرکت کی۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں کارکنان اور عوام موجود رہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ایوب سرجن نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن میں مسلمانوں کو خیر امت اس لئے کہا گیا ہے کہ مسلمان لوگوں کے فائدہ کے لئے نکالا گیا ہے، وہ بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان سیاست میں ہو، کیونکہ سیاست کرنے والا ہی حکمراں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ میں ہمارے نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کا اخلاق بہت اچھا تھا، بے حد اخلاص کے ساتھ عبادت کرتے تھے، اس کے باوجود مسلمانوں کو ستایا گیا، یہاں تک کہ ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ لیکن جب میثاقِ مدینہ کے ذریعہ سیاست اختیار کی اور حکمراں بنے تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور مسلمان سبھی کو حق دینے لگا۔
ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ مسلمانوں میں دو طبقے ہیں، ایک طبقہ دوسروں کو ووٹ دے کر اپنی حفاظت چاہتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اپنوں میں سے اپنا قائد بنا کر حق لینا اور دوسروں کو حق دلانا چاہتا ہے۔ انہوں نے نام نہاد سیکولر پارٹیوں پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ جب سماجوادی پارٹی اپنے مسلم لیڈر اعظم خاں کی حفاظت نہیں کر پائی، بہوجن سماج پارٹی نسیم الدین صدیقی کی حفاظت نہیں کر سکی اور کانگریس سلمان خورشید کی حفاظت نہیں کر سکی تو کیا یہ پارٹیاں عام مسلمانوں کی حفاظت کر سکتی ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ 2024 کے پارلیمانی الیکشن میں مسلمانوں نے 90 فیصد ووٹ دیا، لیکن اس کے باوجود سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کبھی مسلم مسائل پر کھل کر بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارٹیاں مسلم قیادت والی پارٹیوں کو گٹھ بندھن میں کیسے رکھیں گی، جبکہ مسلمان ڈر کر 90 فیصد انہیں کو ووٹ دیتا ہے۔ جس دن مسلمانوں نے اپنی قیادت کی پارٹیوں کو ووٹ دینا شروع کر دیا، سبھی لوگ مسلمانوں سے گٹھ بندھن کے لئے ان کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ جب میں خلیل آباد کا رکن اسمبلی تھا تو میں نے سبھی سماج کی آواز بلند کی، کیونکہ ہمارا اسلام اسی کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ دیگر پارٹیوں کے رکن اسمبلی لوہیا کے مشن کو بڑھاوا دے رہے تھے اور اپنے آپ کو مسلمان کہلوانا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
اس موقع پر پروگرام کے کنوینر اور پارٹی کے مہنداول اسمبلی حلقہ صدر نیز وارڈ نمبر 6 سے ضلع پنچایت رکن کے امیدوار فضیل رحمانی نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے لئے نہیں بلکہ پچھڑوں، محروموں، دلتوں اور عام مسلمانوں کو حق دلانے کے لئے لڑ رہا ہوں۔
پروگرام میں صوبائی صدر اروند نشاد، صوبائی تنظیم کے جنرل سیکریٹری اعظم چودھری، ضلعی صدر (شیڈولڈ مورچہ) پنچرام چوہان، وارڈ نمبر 4 کے ضلع پنچایت رکن امیدوار مولانا عطاء اللہ قاسمی، حافظ نسیم مہندوپار، ضلعی انچارج برجیش نشاد، ضلعی خواتین صدر مینو سنگھ، ضلعی سیکریٹری حاجی عبداللہ، خلیل آباد شہر کے انچارج نفیس شیخ، اسمبلی حلقہ کی خواتین صدر شکنتلا نشاد، پولی وارڈ نمبر 29 کے امیدوار و دھن گھٹا کے میڈیا انچارج عبدالکریم، مہنداول نگر پنچایت صدر مہدی حسن، افروز بادل اور یاسر نظام نے بھی خطاب کیا۔
پروگرام کے اختتام پر پارٹی کو مضبوط بنانے اور آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
