احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ایمان سے کردار سازی تک کا جامع تربیتی سفر
محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)
الحمد للہ! جس طرح ہر دور میں سنتِ نبوی ﷺ کی تابندہ تعلیمات نے فکری تاریکیوں کو مٹایا اور انسانیت کو ہدایت کا راستہ دکھایا، اسی طرح عصرِ حاضر کے انتشار اور اخلاقی کمزوری کے ماحول میں احادیثِ مبارکہ کی طرف رجوع وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت سربراہِ اعلیٰ سنی تبلیغی جماعت، شیرانی آباد، ناشر مسلکِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا محمد حنیف خان صاحب رضوی شیرانی دامت برکاتہم العالیہ کی وقیع اور بصیرت افروز تصنیف ”تنویرُ الاحادیث“ زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آچکی ہے، جسے علمی و دینی حلقوں میں قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ کتاب تقریباً 360 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں 380 منتخب احادیثِ مبارکہ کو نہایت حکیمانہ اور تربیتی ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔ یہ محض روایات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری، اصلاحی اور دعوتی منصوبہ ہے، جس میں عقیدہ، عبادات، اخلاقیات، معاشرت، معیشت اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے اہم گوشوں کو سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا انداز ایسا ہے کہ قاری ایمان کی بنیاد سے سفر کا آغاز کرتا ہے اور عملی زندگی کے مختلف مراحل طے کرتا ہوا کردار سازی کی منزل تک پہنچتا ہے۔
یہ امر بھی نہایت خوش آئند ہے کہ یہ کتاب اس سے قبل مکمل آب و تاب کے ساتھ ہندی خواں حضرات کے افادہ کی خاطر ہندی زبان میں بھی شائع ہو چکی ہے اور اہلِ ذوق میں بے حد مقبول ہوئی۔ اب اردو ایڈیشن کی اشاعت کے ساتھ اس کے علمی فیوض کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ ہندی اور اردو دونوں ایڈیشن سنی تبلیغی جماعت شیرانی آباد، ڈیڈوانہ، کچامن، ضلع ناگور (راجستھان) کے زیر اہتمام شائع ہوئے ہیں،بلاشبہ سنی تبلیغی جماعت اس طرح کی علمی خدمت کو منظم انداز میں انجام دے رہی ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس عظیم تصنیف کے پس منظر میں مصنفِ محترم کی تقریباً نصف صدی پر محیط علمی، تدریسی اور دعوتی زندگی کارفرما ہے۔ حضرت مولانا محمد حنیف خان بن عبدالحبیب خان رضوی شیرانی دامت برکاتہم العالیہ یکم جنوری 1956ء (17 جمادی الاولیٰ 1375ھ) کو تاریخی قصبہ شیرانی آباد، ضلع ناگور شریف (راجستھان) میں ایک معزز دینی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حضرت صوفی نجم الدین علیہ الرحمہ کے قائم کردہ مکتب میں حاصل کی، پھر راجستھان کی مرکزی دینی درسگاہ دارالعلوم اسحاقیہ جودھپور میں اشفاق العلماء حضرت علامہ مفتی اشفاق حسین نعیمی علیہ الرحمہ (مفتی اعظم راجستھان) کی سرپرستی میں 1969ء تا 1978ء درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب، ادیب ماہر اور ادیب کامل کی اسناد بھی حاصل کیں۔
دورانِ طالب علمی 1972ء میں شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ سے بیعت کا شرف حاصل ہوا، بعد ازاں حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا خاں ازہری علیہ الرحمہ، مفتی اعظم راجستھان حضرت علامہ مفتی اشفاق حسین نعیمی علیہ الرحمہ، امین ملت حضرت پروفیسر سید محمد امین میاں صاحب قادری برکاتی مارہرہ مطہرہ اور حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب قادری جیسے مشائخ سے اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔ یہ روحانی نسبتیں آپ کی فکری پختگی اور مسلکی اعتدال کا سرچشمہ ہیں۔
فراغت کے بعد جھنجھنوں، چورو اور ناگور کے مدارس میں صدر المدرسین اور امام و خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، اور 1986ء سے تا حال اپنے وطن شیرانی آباد میں مدرسہ نظام العلوم رضویہ کے صدر المدرسین ہیں، جہاں سینکڑوں طلبہ و طالبات علمِ دین سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔ بطور سربراہ آل انڈیا سنی تبلیغی جماعت (شاخ شیرانی آباد) آپ کی نگرانی میں راجستھان کے دیہات اور پسماندہ بستیوں میں سیکڑوں مدارس قائم ہیں، جو دینی بیداری کی روشن مثال ہیں۔ آپ قصبہ اور مضافات کے قاضیِ شرع بھی ہیں اور نکاح، طلاق، عیدین اور دیگر شرعی معاملات میں عوام کی رہنمائی فرماتے ہیں۔
قلمی خدمات اور تصنیفی ذوق کے اعتبار سے بھی آپ کی شخصیت ہمہ جہت ہے۔ اگرچہ آپ کی زندگی کا بڑا حصہ تدریس، تنظیم اور دعوت وتبلیغ میں صرف ہوا، مگر قلم سے تعلق کبھی منقطع نہیں ہوا۔ مختلف رسائل و جرائد مثلاً “صوفیہ باسنی”، “فرمانِ مصطفیٰ”، “ماہِ طیبہ” وغیرہ میں آپ کے علمی و اصلاحی مضامین تسلسل کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ خصوصاً “بابُ الحدیث” کے عنوان سے جاری سلسلہ نے عوام و خواص کو سنتِ نبوی ﷺ سے جوڑنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا اور اسی ذوقِ حدیث کا منظم و مرتب ثمرہ آج ”تنویرُ الاحادیث“ کی صورت میں اہلِ علم کے سامنے ہے، جو تقریباً تیس برس کی مسلسل علمی کاوشوں کا نچوڑ ہے۔
دینی و سماجی قیادت کے میدان میں بھی آپ کی خدمات نمایاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دینی بصیرت کے ساتھ سماجی و سیاسی فہم بھی عطا فرمایا۔ پنچایت اور ضلع کی سطح پر مختلف ذمہ داریاں نبھائیں، حج کمیٹی راجستھان کے رکن رہے، اور اپنے علاقہ میں سڑک، اسکول، پانی، بجلی اور طبی سہولیات کی فراہمی میں عملی کردار ادا کیا۔ قصبہ شیرانی آباد کو موئے مبارک کی عظیم سعادت دلانے میں آپ کی شبانہ روز مساعی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ہر سال جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ہزاروں عاشقانِ رسول ﷺ اس بابرکت امانت کی زیارت سے فیض یاب ہوتے ہیں، جو آپ کی دینی حمیت اور عشقِ رسول کا زندہ ثبوت ہے۔
اعزازات و اعترافات کے باب میں بھی آپ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ متعدد اداروں اور جامعات کی جانب سے ایوارڈز اور سپاس نامے پیش کیے گئے، جن میں دارالعلوم اسحاقیہ جودھپور، دارالعلوم فیضانِ اشرف باسنی اور دیگر تنظیموں کے اعزازات شامل ہیں۔ جامعہ اسحاقیہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر منتخب نمایاں ابنائے قدیم میں آپ کا نام سرِفہرست رہا، ابھی حال ہی میں 158ویں عرس بخاری و سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت کے مبارک موقع پر 12 شعبان المعظم 1447ھ مطابق یکم فروری 2026ء کو محبان جہانیاں کمیٹی و ارکان دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر کی طرف سے نورالعلماء پیرطریقت حضرت علامہ الحاج سید نوراللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی و دیگر علماء و مشائخ کے دستِ مبارک سے ”سیدنا شاہ برکت اللہ مارہروی ایوارڈ“ اور توصیفی و تکریمی شیلڈ سے نوازا گیا، جو آپ کی دینی و تعلیمی خدمات کی مقبولیت اور اثر انگیزی کا واضح ثبوت ہے۔
نیز ابھی 28 شعبان المعظم 1447ھ مطابق 16 فروری 2026ء کو جامعہ ہاشمیہ سجان گڑھ کے اربابِ حل و عقد نے بھی آپ کی دینی و ملی خدمات کے اعتراف میں “نشانِ یادگار” اور سپاس نامہ پیش کر کے آپ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
واضح رہے کہ یہ تصنیف کسی وقتی جذبے کا نتیجہ نہیں بلکہ تقریباً تیس برس کی مسلسل علمی و دعوتی خدمت کا نچوڑ ہے۔ سنہ 1992ء سے جودھپور (راجستھان) سے شائع ہونے والے ہندی دینی مجلہ ماہنامہ “ماہِ طیبہ” میں حضرت مصنف “بابُ الحدیث” کے عنوان سے مسلسل منتخب احادیث ارسال فرماتے رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ذخیرہ وسیع ہوتا گیا اور بالآخر اہلِ علم بالخصوص ماہنامہ ماہِ طیبہ کے مدیراعلیٰ حضرت مولانا مفتی فیاض احمد صاحب رضوی کے مشورے سے انہیں یکجا کر کے باقاعدہ کتابی شکل دی گئی۔ یوں ”تنویرُ الاحادیث“ ایک مستقل علمی تسلسل کی نمائندہ تصنیف بن کر سامنے آئی ہے۔
کتاب کی ترتیب و تخریج مولف محترم کے لائق و فائق شہزادے حضرت مولانا محمد انور رضا صاحب مصباحی شیرانی نے نہایت محنت، تحقیق اور احتیاط کے ساتھ انجام دی ہے۔ احادیث کے عربی متون معتبر کتبِ حدیث سے اخذ کیے گئے، ان پر اعراب لگائے گئے اور تخریج کے ذریعے ان کے ماخذ و مصادر کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ اس تحقیقی اہتمام نے کتاب کو عام وعظی مجموعوں سے ممتاز کر دیا ہے اور اسے علمی و تدریسی حلقوں میں بھی قابلِ اعتماد بنا دیا ہے۔ مزید برآں، دارالعلوم فیضانِ اشرف باسنی کے اہم اساتذۂ کرام، خصوصاً محب گرامی حضرت مولانا مفتی محمد یونس صاحب مصباحی شیرانی اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیق صاحب مصباحی شیرانی نے متون کی درستگی اور اعراب کی تصحیح میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جبکہ حضرت مفتی محمد رفیق صاحب نے اس پر ایک جامع اور مدلل مقدمہ بھی تحریر کیا ہے جس میں تاریخِ حدیث اور اس کے تسلسل پر بصیرت افروز گفتگو کی گئی ہے۔
موضوعاتی اعتبار سے کتاب نہایت جامع اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ عقیدۂ توحید، رسالت و تقدیر، محبتِ رسول ﷺ، نماز و جمعہ اور تعمیر مساجد کی فضیلت، توبہ و استغفار کی فضیلت، حلال روزی کی برکت، سود کی قباحت، صدقہ و خیرات کی برکت، والدین کے حقوق، صلہ رحمی، زبان کی حفاظت، تکبر و حسد کی مذمت اور دیگر اہم معاشرتی و اخلاقی مسائل کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہر حدیث کے تحت سلیس ترجمہ، مختصر مگر جامع تشریح اور حسبِ ضرورت شرعی مسائل کی وضاحت شامل ہے، جس سے قاری کو نہ صرف معلومات حاصل ہوتی ہیں بلکہ عملی رہنمائی بھی میسر آتی ہے۔
مصنف کا اسلوبِ بیان سادگی، روانی اور تاثیر کا حسین امتزاج ہے۔ غیر ضروری مناظرانہ بحثوں اور طویل فلسفیانہ موشگافیوں سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے عام فہم اور بامحاورہ زبان اختیار کی ہے، جس کے باعث یہ کتاب مدارس کے طلبہ، ائمہ و خطباء، دینی کارکنان اور عام تعلیم یافتہ طبقے سب کے لیے یکساں مفید بن گئی ہے۔ اختصار کے باوجود مفہوم کی جامعیت کو برقرار رکھنا مصنف کی فکری پختگی اور دعوتی بصیرت کا روشن ثبوت ہے۔
اہم امر یہ بھی ہے کہ کتاب میں مسلکِ حق اہلِ سنت و جماعت المعروف فی زماننا "مسلکِ اعلیٰ حضرت” کی شائستہ اور معتدل ترجمانی ملتی ہے۔ محبتِ رسول ﷺ، ادبِ صحابہ و اہلِ بیت اور اتباعِ سنت کا مثبت رنگ نمایاں ہے، مگر اسلوب تعمیری اور اصلاحی ہے، جس میں اعتدال اور حکمت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
کتاب کی افادیت کا اعتراف کرتے ہوئے متعدد جید علماء و فقہاء مثلاً شیرِ راجستھان حضرت علامہ مفتی شیر محمد خان صاحب قبلہ رضوی (شیخ الحدیث: دارالعلوم اسحاقیہ جودھپور)، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ حضرت علامہ مفتی محمد حنیف خان صاحب رضوی بریلوی (بانی:امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)، فخرِ راجستھان حضرت علامہ مولانا مفتی فیاض احمد صاحب رضوی (ایڈیٹر: ماہنامہ ماہِ طیبہ جودھپور) اور فخرِ رضویت حضرت مفتی ولی محمد صاحب رضوی سربراہ اعلیٰ: سنی تبلیغی جماعت باسنی، ناگور شریف نے اپنی قیمتی تقاریظ اور تاثرات بھی قلم بند کیے ہیں، جنہوں نے اس تصنیف کی علمی سنجیدگی اور دینی اہمیت کو سراہا ہے۔ اس بنا پر ”تنویرُ الاحادیث“ نہ صرف انفرادی مطالعہ بلکہ مدارس کے معاون نصاب، جمعہ و دیگر خطبات کی تیاری، گھریلو دروس اور اصلاحی مجالس کے لیے بھی نہایت موزوں قرار دی جا رہی ہے۔ اسے روزانہ ایک حدیث کے درس کے طور پر پڑھایا جائے تو سال بھر کا ایک منظم تربیتی نصاب بآسانی تیار ہو سکتا ہے۔
بلاشبہ “تنویرُ الاحادیث” عصرِ حاضر کے فکری انتشار میں سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی عام کرنے کی ایک مخلصانہ، سنجیدہ اور قابلِ قدر کاوش ہے۔ یہ کتاب اپنے نام کی طرح دلوں کو منور کرنے والی حقیقی تنویر ثابت ہو رہی ہے، اور اس کے پس منظر میں مصنفِ محترم کی علمی ریاضت، روحانی وابستگی، سماجی خدمت اور دعوتی اخلاص پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
اللہ تعالیٰ اس خدمتِ حدیث کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے امتِ مسلمہ کے لیے ذریعۂ ہدایت و اصلاح بنائے اور مصنف و مرتب کو دونوں جہانوں میں اجرِ عظیم سے نوازے۔ آمین۔
