از ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی
ارکان اسلام کی ترتیب میں فریضۂ حج کا نمبر پانچواں اور آخری ہے ، اس لئے کہ اس کی فرضیت سب سے آخر یعنی ہجرت کے نویں سال میں ہوئی ۔یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر عزیز کا آخری زمانہ تھا ، گویاکہ اللہ کو اس رکن کی فرضیت کے ذریعے اپنے دین کی تکمیل مقصود تھی؛ لہذا اگلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فریضہ کی ادائیگی فرمائی جس کو حجۃ الوداع کے نام سے جانا جا تا ہے اور اس کے چند مہینوں بعد داعیٔ اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے رب سے جا ملے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کو حجۃ الوداع اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کا پہلا اور آخری حج تھا ۔ چونکہ آپ کو اس کا پہلے سے احساس ہو چلا تھا کہ منصب نبوت کی ذمہ داریاں پوری ہونے والی ہیںاور آپ کودارفانی سے کوچ کرنے کا حکم ملنے والا ہے ؛اس لئے اس موقعہ پر میدان عرفات میں ایک جامع و مانع ، پر مغزاور فصیح وبلیغ خطبہ کے ذریعہ اپنی امت کے لئے تاقیامت باقی رہنے والا ایک لائحہ عمل اور دستور زندگی پیش فرمادیا۔ اس میں آپ نے ایک ناصح امین او رہادی برحق ہونے کی حیثیت سے اسلام کے اصول و مبادی کو حق ٹھہرایا او رشرک و جاہلیت کی بنیادوں پر قدغن لگا کر امت کی گمراہی کے جتنے راستے ہو سکتے تھے انہیں بند کرنے کی کوشش فرمائی۔
اپنی امت کو الوداع کہنے کی نسبت سے آپ کا یہ خطبہ جو کہ خطبہ وداع کے نام سے موسوم ہوا ، جہاں فصاحت وبلاغت کا اعلی شاہکار ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم افصح العرب تھے اور دریا کو کوزہ میں بند کرنے کا نمونہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے جوامع الکلم کی دولت عطا فرمائی تھی، وہیں دردمند دل کا آئینہ بھی ہے کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پندونصائح ، ہدایات وارشادات اور احکام ومبادی کے وہ موتی پرودئیے ہیں کہ اگر امت ان کی قدر وقیمت جان کر صدق دل سے عمل پیرا ہو جائے تو آج بھی اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکتی ہے۔
ان میںسے چند موتیاں اور شہ پارے آپ کے لئے چن کر لایا ہوں ، کیاعجب ہے کہ اللہ ہمیں ان کی قدر کرنے کی توفیق سے نواز دے اور ان کی بدولت ہم سربلندی اور سر فرازی حاصل کرنے اوراپنی عاقبت سنوارنے میں کا میاب ہوجائیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
۱-نبی رحمت کا الوداعی انداز خطاب:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنی امت کو الوداع کہنے والے محسن و مشفق کی حیثیت سے مخاطب کر تے ہوئے ارشاد فرمایا ( السیرۃ النبویۃ از ابن ہشام ۶/۸،۹۔ مسلم (۱۲۱۸) حدیث جابر رضی اللہ عنہ و دیگر کتب حدیث) :
’’أَیُّھَا النَّاسُ! اسْمَعُوْا قَوْلِی، فَإِنِّی لَا أَدْرِی، لَعَلِّی لَا أَلْقَاکُمْ بَعْدَعَامِی ھٰذَا بِھٰذَا الْمَوْقِفِ أَبَدًا‘‘
( اے لوگو!میری بات سنو! اس لئے کہ مجھے معلوم نہیں ، ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد پھر اس جگہ تم سے کبھی ملاقات نہ ہو سکے)۔
۲-جان ومال کی حرمت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے جان ومال کی حرمت اور انسانی حقوق کی پاسداری کی اہمیت پر یوں روشنی ڈالی:
’’إِنَّ دِمَائَ کُمْ وأَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ ،کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا، فی شَھْرِکُمْ ھٰذَا، فِی بَلَدِکُمْ ہٰذَا‘‘
( تمہارے جان و مال اور عزت وآبرو کو ایک دوسرے پر ہمیشہ کے لئے حرام قرار دے دیا گیا ہے، ان چیزوں کی حرمت واہمیت ایسی ہی ہے جیسی تمہارے اس دن کی، تمہارے اس ماہ مبارک یعنی ذی الحجہ میں، تمہارے اس مقدس ومحترم شہر میں)۔
اسی بنیاد پر اللہ نے کسی مسلمان کا خون بہانے کی یہ کڑی سزا سنائی ہے:
’’وَمَن یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدً ا، فَجَزَائُ ہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہً وَأَعَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیْمًا‘‘( النساء : ۹۳)
(اور جوکوئی کسی مومن کو قصد ا قتل کرڈالے اس کی سزا دوزخ ہے ، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ،اس پر اللہ کا غضب ہے ، اسے اللہ تعالی نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے )۔
اسی طرح کسی کا مال ہڑپ لینے پر ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں جو کہ مسلم کی روایت ہے ایسے شخص کو جہنمی بتایا ہے۔آپ نے فرمایا:
’’مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ بِیَمِیْنِہِ،فَقَدْأَوْجَبَ اللّٰہُ لَہُ النَّارَ،وَحَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ:وَإِنْ کَانَ شَیْئًا یَسِیْرًا یارسول اللہ؟ قَالَ:وَإِنْ کَانَ قَضِیْبًا مِنْ أَرَاکٍ‘‘ (مسلم :۱۳۷، بروایت ابو امامہ رضی اللہ عنہ)۔
(جس نے اپنی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کا حق مارلیا تو اللہ اس کیلئے جہنم واجب اور جنت حرام کردیتا ہے ،ایک شخص نے عرض کیا :یا رسول اللہ! چاہے وہ معمولی حق ہو؟ فرمایا: چاہے پیلو کے درخت کی ایک ٹہنی ہی ہو)۔
۳-اخوت ومساوات:
اس خطبہ وداع میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت ومساوات کا درس
دیتے ہوئے فضیلت وامتیاز کامعیار تقوی بیان فرمایا ، نہ کہ دنیاوی شان و شوکت ،جاہ وحشمت، حسب ونسب اور حیثیت و شہرت ۔یہ سارے کے سارے جاہلی نعرے ہیں جن کی اسلام میں قباحت وشناعت کے علاوہ کوئی قدر وقیمت نہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج اس دور میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی جہالت و کم فہمی کی بناء پر حسب ونسب او رجاہ ومنصب ہی کو طرۂ امتیاز سمجھ رکھا ہے ، عزت ووقعت کاجھوٹا ، کھوکھلا اور خود ساختہ معیار بنا رکھا ہے ، رنگ ونسل ، قوم وزبان ، علاقہ ووطن کی عصبیت کو دین پر فوقیت دے رکھی ہے ۔انہی بنیادوں پر نفرت ومحبت یا دوستی اور دشمنی رکھی جاتی ہے،بلکہ شادی بیاہ تک کے معاملات طے کئے جاتے ہیں ؛ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’أَیُّھَا النَّاسُ! إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدُ،کُلُّکُمْ لِآدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ ،وَإِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ أَتْقَاکُمْ، وَلَیْسَ لِعَرَبِیٍّ فَضْلٌ عَلَی أَعْجَمِیٍّ إِلَّا بِالتَّقْوَی‘‘
( اے لوگو!تمہارا رب ومالک ایک ہے، تمہارے باپ ایک ہیں ، تم سب کے سب لوگ آدم کی اولاد ہو اورآدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے ۔ تم میں زیادہ عزت وکرامت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہو، نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے ،نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر ، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے، ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقوی ہے )۔
۴- نسلی امتیاز پر ضرب کاری:
پچھلی سطروں میں اس کی پوری وضاحت آچکی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی طرح کی عصبیت چاہے اس کا تعلق رنگ ونسل سے ہو یا زبان ووطن سے،اس کی مطلق نفی کردی ہے کہ اس بنیاد پر انسانوں کے درمیان تفریق نہیں کی جاسکتی، بطور خاص نسلآپ صل: اللہ علیہ وسلم نے نسلی امتیازضرب کاری لگاتے ہوئے فرمایا:
’’إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَذْھَبَ عَنْکُمْ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَفَخْرَھَا بِالآبَائِ‘‘
( اللہ نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈا لاہے اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر ومباہات کی اب کوئی گنجائش نہیں )۔
۵-سودی نظام کی بیخ کنی:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ظالمانہ اقتصادی نظام کو رواج دینے کی بنیاد سود کی بھی بیخ کنی کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ کے سود کو ان الفاظ میں لغو اور ناقابل وصولی قرار دیا :’’ إِنَّ رِبَا عَبَّاسَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مَوْضُوْعٌ کُلُّہُ‘‘( عباس بن عبد المطلب کا سارا سود منہا ہے)۔
۶- عورتوں کے حقوق:
اس خطبہ وداع میں ایک اہم مسئلہ جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکیدی وصیت فرمائی ، وہ ہے : عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور خوش معاملگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں تو انسانی زندگی میں شوہروبیوی کے تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر مرد وعوت دونوں کے باہمی حقوق بیان فرمائے ، لیکن خاص طور پرمردوں کو مخاطب کر کے عورتوں کے حقوق جاننے اور ان کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی لہذا یوں ارشاد ہوا:
’’أَلَا اسْتَوْصُوْا بِالنِّسَائِ خَیْرًا، فَإِنَّمَا ھُنَّ عَوَانٌ عِنْدَکُمْ لِیْسَ تَمْلِکُوْنَ مِنْھُنَّ شَیْئًا غَیْرَ ذَلِکَ إِلَّا أَن یَّاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ‘’
( خوب سن لو، عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرو کہ میں تمہیں عورتوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کر تا ہوں؛ اس لئے کہ وہ خواتین تمہارے پاس تمہارے گھروں میں مقید رہتی ہیں، اس کے علاوہ شرعا ان پر تمہارا کوئی مطالبہ اور حق نہیں الایہ کہ وہ کسی کھلی بے حیائی کاارتکاب کریں)۔
ان باتوں کی روشنی میں یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ عورت کو بطور بیوی اسلام میں گھر کی ملکہ قرار دیا گیا ہے ، شوہروں کو یہ حق تو حاصل ہے کہ ان کو گھروں میں رکھیں اور چاہے تو ان کی آمد ورفت پر پابندی لگائیں ،لیکن ان کو شرعا یا دیانۃ یا قضاء ا یہ حق حاصل نہیں کہ ان پر اپنی طرف سے وہ ذمہ داریاں لادیں جن کی وہ مکلف نہیں ہیں، مثلا ساس سسر وغیرہ کی خدمت کرنا۔اگر وہ اپنی مرضی اور خوشی سے یہ کام انجام دیتی ہیں تو پھرکوئی حرج نہیں۔
اسلام نے عورت کی بطور بیوی ہی تکریم نہیں کی بلکہ بطور ماں یہ عظیم مقام عطا کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو جہاد چھوڑکر ماں کی خدمت کا حکم دیا کہ یہ جہاد پر مقدم ہے(البخاری:۳۰۰۴ اور مسلم :۵۴۹)۔
بہن اور بیٹی کی حیثیت سے عورت کی یہ عزت افزائی کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جو ان بیٹیوں یا بہنوں کی کفالت کرے ، ان کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اچھی تربیت کرے یہ خوشخبری سنائی کہ یہ عمل اس کے اور جہنم کے درمیان حائل دیوار بن جائے گا(البخاری:۵۹۹۵،ا ور مسلم :۲۶۲۹)۔
اس تاریخی خطبے کو ختم کرنے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو فرائض اسلام کی پابندی کا حکم دیتے ہوئے، ضلالت و گمراہی سے بچے رہنے کے لئے جس چیز کو مضبوطی سے پکڑنے کی وصیت کی ، وہ ہے : کتاب اللہ۔ آپ نے فرمایا:
’’قَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَہُ إِن اعْتَصَمْتُمْ بِہِ،کِتَابَ اللّٰہِ‘‘
(میں تمہارے درمیان جوچھوڑ کر جارہا ہوںاگرتم نے اس کو پوری قوت سے تھامے رکھا تو ہرگز گم راہ نہیں ہوسکتے ، وہ ہے اللہ کی کتاب)۔
اللہ تعالی ہمیں اس خطبے کو مشعل راہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
نوٹ:خطبۂ وداع کا مکمل متن کسی ایک روایت میں نہیں ملتا؛ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے دوران مختلف جگہوں تین خطبے دئے تھے اور تینوں پرخطبئہ وداع کا اطلاق ہوتا ہے، ان میں سب سے مشہور میدان عرفات کا خطبہ ہے۔
