احمد حسین مظاہریؔ پرولیا
ذی الحجہ کا مہینہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے،اور اس مہینہ میں حق جل مجدہ نے مخصوص عبادتیں حج و قربانی کے ادا کرنے کا حکم نازل کیا ہے،اس کے ساتھ ساتھ متعین ایام میں ذکر اللہ کی کثرت کا بھی حکم فرمایا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
واذکرو اللہ فی ایام معدودات(البقرہ ٢٠٣)
ترجمہ :اوراللہ کو یاد کرو گنتی کے چند دنوں میں۔
ان چند دنوں سے مراد ایامِ تشریق ہیں جن میں ہر نماز کے بعد تکبیر کہنا واجب ہے۔ (معارف القرآن، انوار البیان وغیرہ)
قارئین! تکبیرِ تشریق کے پسِ منظر کے بارے میں محدثین کے نزدیک تو کوئی صراحت نہیں ملتی؛البتہ فقہاء امت اور علماء کرام کی تحقیق کے مطابق تکبیر تشریق کی ابتداء اس طرح ہوئی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا، حق جل مجدہ نے آپ کی اس قربانی کو قبول فرما کر بطور فدیہ حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ مینڈھا نازل فرمایا، جب حضرت جبریل علیہ السلام اس فدیہ کو لے کر آرہے تھے، تو اس ڈر سے کہیں جلدی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام،حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح نہ کرالیں،، اللہ اکبر اللہ اکبر پکارنے لگے،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت جبریل علیہ السلام کی یہ آواز سنی تو بشارت سمجھ کر پکارنے لگے،، لاالہ الااللہ واللہ اکبر،، پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد گرامی قدر کو کہتے ہوئے سنے اور ان کو منجانب اللہ فدیہ آنے کی اطلاع ہوئی تو،، اللہ اکبر وللہ الحمدللہ،،کہتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء اور اس کا شکرانہ ادا کیا۔(البحر الرائق)
سوال :تکبیرات تشریق کہنے کی وجہ؟
جواب: تکبیرات تشریق اس لئے کہی جاتی ہے کہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالی کا حکم ہے کہ ان دنوں میں اللہ تعالی کا ذکر کرو اور وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ ان دنوں میں اسلام کارکن فریضہ حج کی ادئیگی ہوتی ہے ،اور حجاج کرام تلبیہ پڑھتے ہوئے اللہ کی عظمت و وحدانیت بیان کرتے ہیں ،عام لوگ چونکہ حج میں نہیں ہوتے ،توان کے لئے تکبیرات تشریق کا حکم ہے تا کہ وہ بھی حجاج کرام کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے ان دنوں میں خاص طور پر اللہ کی عظمت و کبریائی بیان کرتے رہیں ۔(درمختار)
سوال: تکبیراتِ تشریق کن لوگوں پر واجب ہے؟
جواب: تکبیرات تشریق ہرفرض نماز کے بعد مسلمان مرد، عورت، مسافر ، مقیم شہری اور دیہاتی پر یکساں واجب ہیں، فرض جماعت سے اداء کرے یا بغیر جماعت کے نماز کے بعد جب تک مسجد کے اند رہو، کوئی بات نہ کی ہو اور طہارت پر باقی ہو، یاد آجائے تو پڑھ لی جائیں ، اور اگر بالکل بھول گیا تو ساقط ہوجائیں گی اور کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔(ماخذ: دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی)
تکبیراتِ تشریق کے ایام؟
تکبیرات تشریق،نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرہویں ذوالحجہ کی عصر تک ہر نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔(فتاوی ہندیہ)
تکبیراتِ تشریق کتنی دفعہ پڑھنا واجب ہے؟
جواب : فتاویٰ رحیمیہ میں ہے تکبیر ایک بار کہنا واجب ہے، تین بار کہنا مسنون نہیں، تین بار کہنے کا قول صحیح اور مفتیٰ بہ نہیں ہے۔ (6/175)
سوال :تکبیر تشریق کیسے پڑھی جائے گی؟
جواب: تکبیر تشریق مرد حضرات جہراً پڑھیں گے اور عورت آہستہ آواز سے پڑھیں گی۔ (البحر العمیق)
سوال : تکبیر تشریق ہر فرد پر واجب ہے یا کچھ لوگوں کا کہہ لینا کافی ہے؟
جواب : تکبیر تشریق ہر فرد پر واجب ہے، کچھ لوگوں کا کہہ لینا کافی نہیں۔ (ماخذ: دار الافتاء دارالعلوم دیوبند)
سوال :کیا مسبوق پر تکبیر تشریق واجب ہے
جواب : مسبوق پر بھی تکبیر تشریق واجب ہے وہ اپنی بقیہ رکعات پوری کرنے کے بعد کہے گا۔ (درمختار)
سوال :جمعہ کی نماز کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا؟
جواب : اَیامِ تشریق میں جمعہ کی نماز کے بعد بھی بآواز بلند تکبیر تشریق پڑھی جائے گی۔ (درمختار)
سوال: کیا مسبوق پر جہراً تکبیرِ تشریق پڑھنا واجب ہے؟
جواب: حضرت اِمام اَبوحنیفہؒ کے نزدیک مسبوق کے لئے تکبیرِ تشریق جہراً پڑھنا ضروری نہیں ہے، اور آہستہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔(مستفاد:کتاب النوازل/١٤)
سوال: امام مسجد نماز عیدین سے پہلے تکبیر تشریق پڑھانا کیسا ہے؟
جواب : عید گاہ پہنچنے سے پہلے پہلے راستہ میں تکبیر پڑھنے کا حکم ہے عید گاہ پہنچنے کے بعد تکبیرات، ذکر اﷲ وغیرہ میں لگ جاوے لیکن جہراً منع ہے سراً پڑھے یا خاموش بیٹھا رہے ، امام صاحب یا کسی مقتدی کے تکبیر تشریق پڑھانے پر حاضرین کا پکار کر تکبیر پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ ہے۔ (فتاوی رحیمیہ/ ٦)
سوال :تکبیر تشریق بھول جانے پر کیا کرے؟
جواب: تکبیر تشریق کا وقت فرض نمازوں کے بعد متصلاً ہے،لیکن اگر کوئی بھول جائے تو جب تک نماز کے خلاف کوئی کام نہ کیا ہو مثلا کسی سے بات چیت نہ کیا ہو، یا دوسری نماز نہ پڑھا ہو یا جان بوجھ کر وضو نہ توڑا ہو تو فوراً تکبیر پڑھ لے تو واجب کی ادائیگی ہو جائے گی، اور مذکورہ امور میں سے کوئی کرلیا ہو تو اب تکبیر تشریق پڑھنے سے واجب کی ادائیگی نہیں ہوگی بلکہ اب اس واجب کے چھوٹنے کی وجہ سے توبہ و استغفار کرے۔(فتاوی ہندیہ)
سوال : تکبیرِ تشریق کی قضا ہے یا نہیں؟
جواب: ایام تشریق کی کوئی نماز اگر کسی وجہ سے چھوٹ جائے تو ایام تشریق ہی میں قضا کی صورت میں نماز کے بعد تکبیرِ تشریق کا پڑھنا واجب ہوگا،اور اگر ایام گزرنے کے بعد قضا کرے یا ایام تشریق ہی میں سال گزشتہ کے ایام تشریق کی قضا کرے تو ایسی صورت میں تکبیرِ تشریق کا پڑھنا واجب نہیں ہے۔(فتاوی ہندیہ)
بارِ الہ ہمیں صحیح طور پر قربانی کرنے نیز دیگر اعمال پر کاربند فرمائے۔ (آمین)
