محمد توحید رضا علیمی بنگلور
(۱)روزوں کی فرضیت کا حکم قرآن مجید میں موجود ہے اور اس کی افادیت کا بیان بھی قرآن مجید میں موجود ہے سائنسی نقطہ نظر و ماہرین طب کو سمجھنے سے قبل روزوں کی فرضیت کو سمجھنے کے لئے کلام اللہ کی طرف رجوع کریں تو اللہ پاک اپنے مقدس بابرکت باعظمت کلام مجید پارہ ۲ سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۳میں ارشاد فرماتا ہے۔ اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلی امتوں پر فرض ہوئے تھے ۔ترجمہ (کنزالایمان)
(۲)تفسیر خزائن العرفان میں مولاناسید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ اس آیت ِ کریمہ میں روزوں کی فر ضیت کا بیان ہے۔
(۳) اور درمختار و خازن میں لکھا ہوا ہے کہ رمضان شریف کے روزے ۱۰ شعبان المعظم ۲ھ کو فرض کیے گئے ہیں ۔
(۴) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے عبادت قدیمہ ہیں زمانہء حضرت آدم علیہ السلام سے تمام شریعتوں میںفرض ہوتے چلے آئے اگرچہ اس کے اَیام و اَحکام مختلف تھے مگر اصل روزے سب امتوں پر لازم رہے۔
(۵)روزہ رکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہم گناہوں سے بچ جائیں گے اور یہ متقین کا شعار ہے
روزہ رکھو صحت مند ہوجائو
(۶) انسان جو بھی کھاتا پیتاہے تو بدن پر لازماََ اس کا اثر پڑتاہے اچھا اثر پڑے تو صحت اچھی ہوتی ہے بُرا اثر پڑے تو صحت خراب ہوتی ہے مثلاََ شراب پینے ڈرکس لینے اور نشیلی ادویات وغیرہانقصان دہ اشیاء کے استعمال سے صحت خراب ہوتی ہے طبیعت پر کافی بُرا اثر پڑتا ہے انسان بیماریوں میں ملوث ہوجاتا ہے ڈاکٹروں سے علاج کرواتا ہے محنت و مشقت سے کمایا ہوا مال حرام اشیاء کی خرید ی میں لگا کر بیماری خریدا اب اسی بیماری کو دور کرنے کے لئے باقی رقم بھی خرچ کردیا ۔بچا کچھ نہیں۔ تب جاکر اُسے اللہ پاک کی عطا کردہ صحت و تندرستی کی اہمیت کا پتہ چلتاہے کہ قدرتی صحت وتندرستی اللہ پاک کی عطاکردہ ان گنت نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔جسم پر اچھا اثر پڑے تو صحت اچھی ہوتی ہے حلال و جائز مفید و صحت مند اشیاء کے استعمال سے جسم تندرست و توانہ صحت مند و قوی رہتا ہے ۔ روزہ عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بھی روزہ اپنا اثر رکھتاہے اسی لئے ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ صُوموا تحصوا۔روزہ رکھو صحت مند ہوجائو (اکمعجم الاوسط )
(۷)شارحِ حدیث حضرت علامہ عبدالرئوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ روزہ روح کی غذاہے جس طرح کھانا جسم کی غذاہے ۔روزہ رکھنے سے (دنیامیں )بندے کو صحت وتندرستی حاصل ہوتی ہے (فیض القدیر)
روزے کے سائنسی فوائد
(۸)روزہ سارے نظام ہضم کو ایک ماہ کے لئے آرام مہیاکردیتاہے دوسری طرف روزہ کے ذریعہ جگرکو چار سے چھے گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے جو روزہ کے بغیر قطعی ناممکن ہے۔
سائنسی نقطہ نظر سے ماہرین طب کا دعویٰ ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ ضرور ہوناچاہئے۔مسلمان روزے رکھ کر سارے نظام ہضم اور جگرکو آرام مہیاکرکہ صحت مند ہوجاتے ہیں
(۹) روزے کے اپنے دینی دنیاوی جسمانی روحانی طبی اور سائنسی اتنے فوائدہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ۔ روزہ انسان میں صبر اور برداشت پیدا کرتاہے ۔روزہ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی بہت مفیدہے
(۱۰)روزے سے انسانی طبیعت میں تحمل پیدا ہوتاہے اور انسان کو بھوک و پیاس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔جب بھوک و پیاس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے تو کھانے کی قدر کرتاہے بھوکوں کو کھلاتا ہے پیاسوں کی پیاس بجھاتاہے کھانوں کی ناقدری نہیں کرتا خود اپنے گھر میں ہویاکسی شادی بیاہ کی تقریب میں ہو یا کہیں کسی بھی طعام کی محفل میں حاضر ہو وہ انسان کھانوں کی قدر کرے گا بیجااسراف سے بچے گا اور کھانوں کو ذائع نہیں کرے گا روزے کے ذریعہ انسان میں بھوک و پیاس کی اہمیت کا انداز پیدا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ روزہ دار کی بیماریوں کو دور کرتاہے اور صحت و تندرستی عطا فرماتا ہے
(۱۱)روزے کی افادیت کو کئی غیرمسلم اطباء بھی تسلیم کر چکے ہیں حتی کہ بعض ممالک میں مختلف امراض کے علاج کے لئے لوگوں کو گھنٹوں بھوکا رکھا جاتاہے اور اس سے مریض پر اچھا اثر پڑتاہے
(۱۲)ایک غیر مسلم مذہبی رہنما کا کہناہے کہ مجھے اسلام میں رمضان کے روزوں نے بہت متاثر کیاہے۔ دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی روزے کا تصور پایا جاتا ہے اور غیر مسلموں میں بھی روزو ںکا تصور موجود ہے حالانکہ ان کے روزوں کے معاملات کچھ الگ ہیں وہ اپنے طریقوں سے روزے رکھتے ہیں
(۱۳)اللہ پاک ہمیں یہی تو سمجھا رہاہے آیت نمبر ۱۸۴ سورہ بقرہ میں۔ روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلاہے اگرتم جانو ۔روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو سے مطلب یہ نکلا کماحقہ ہم روزوں کی افادیت کو نہیں جانتے جوجان گئے انہوں نے کبھی بھی روزوں کی قضاء نہیں کی روزہ رکھنے سے کیا ملتاہے اللہ پاک نے سورہ بقرہ آیت نمبر۱۸۳میں بتایا۔لعلکم تتقون۔کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔تو معلوم ہوا روزہ رکھنے سے روزہ دار کو پرہیزگاری ملتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام مسجد رسولُ اللہ ﷺ خطیب مسجدرحیمیہ میسور روڈ جدید قبرستان
مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ و نوری فائونڈیشن بنگلور
