اعداد: محمد وسيم راعين 

 28 فروری 2026 کو امریکہ واسرائیل نے بين الاقوامى قوانين كا پاس و لحاظ کئے بغیر ایران پر حملہ کردیا۔ اس حملے میں ایران کے عام مقامات کے ساتھ اہم جگہوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عام شہری‘ طلبہ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے ساتھ بہت سے اعلی عہدہ دار موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔

مذکورہ حملوں کے بعد جوابی کاروائی میں حملہ کرنے والوں پہ حملہ کرنے کے بجائے ، ایران خلیجی ریاستوں پر میزائل اور ڈرونز کے ذریعے رہائشى ، تجارتى مراكز اور سفارت خانوں پر حملہ كررہا ہے، جو بين الاقوامى قانون کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک كے حقوق كى كھلى خلاف ورزى ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ ان ملکوں کا اس تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اور یہ دلیل دینا کہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ناقابل قبول ہے۔

سعودی حکومت اور وہاں کے بادشاہوں کے خلاف غلط بیانی کرنا اور ان کی غلط تصویر پیش کرنے کی کوشش کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مجہول سورسوں کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ سعودی ولی عہد نے اس فوجی کاروائی پہ ابھارا ہے ۔تاکہ یہ جنگ ایران اور سعودی عرب کی طرف مڑجائے۔

اس قسم کے پروپیگنڈہ کی سعودی نےسخت مذمت کی اور واضح كيا کہ سعودى عرب خطے میں جنگ کی مخالف ہے اور پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتی ہے ۔ ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ سعودی عرب اپنی سر زمین، فضائی حدود اور بحری علاقے کسی بھی قسم کے حملے کے لئے استعمال کرنے نہیں دے گا۔

اس قسم کی رپورٹوں سے سعودی عرب کو بدنام کرنا ، خطے کو جنگ میں ڈھکیلنا اور ان کے معاشی استحکام کو تباہ کرنا ہے۔ دشمن چاہتے ہی ہیں کہ عالم اسلام میں بدامنى ہو ، ترقيوں سے محروم رہے اور دوسروں كا محتاج بنا رہے ۔اورصہيونى طاقتوں کو اپنے منصوبوں كو عملى جامہ پہنانے میں کوئی دشواری نہ ہو ۔

سعودی ولی عہد نے پورے خطے کی خوشحالی کاخواب دیکھا اور ہر قسم کے اختلاف کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی طرف پیش رفت کی ۔ کیونکہ امن وامان کے ماحول ہی میں ترقی ممکن ہے ۔خطے کو آگے بڑھانے کی جانب کوشش تیز ہونے لگی لیکن یہ پیش رفت دشمنوں کو نہیں بھائی ۔چاہتے ہیں کہ تعلقات مضبوط نہ ہو اور مختلف غلط فہمیوں کے میں پھنسا کر پورے خطے کو پریشان کیا جائے۔

عرب بہاریہ کے نام پہ ماضی قریب میں جو کچھ ہوا اس سے عبرت لینے کی ضرورت ہے ۔شام، لیبیا اور یمن جیسے ممالک بیرونی مداخلتوں اور اندرونی خلفشار کے سبب تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ۔ اسی منظر نامے کو دہراتے ہوئے خلیجی ریاستوں کو جنگ میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔

اللہ تعالی سعودی عرب اور دگر خلیجی ممالک کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے، امن و امان کو باقی رکھے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے