مفتی قاضی فضل رسول مصباحی
استاذ دارالعلوم اہل سنّت قادریہ سراج العلوم برگدہی مہراج گنج یوپی
اللہ جلّ مجدہٗ کا بے پایاں فضل و احسان ہے کہ اس نے اپنے حبیبِ مکرم، شفیعِ معظم، سیّدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت کو وہ شرف و فضیلت عطا فرمائی جس کی مثال سابقہ امتوں میں کم ہی ملتی ہے۔ انہی عظیم الشان عطیوں میں سے ایک بے مثل عطیہ لیلۃ القدر ہے، جو فضلِ خداوندی کے حصول، مغفرتِ الٰہی کے نزول اور رحمتِ ربانی کے جوش و خروش کی وہ بابرکت ساعت ہے جسے قرآنِ کریم نے خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ قرار دیا۔ گویا یہ ایک رات نہیں بلکہ رحمت و برکت کا ایسا خزانہ ہے جس کی قیمت و عظمت کا صحیح اندازہ انسانی عقل و شعور کے دائرۂ ادراک سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امتِ مرحومہ پر خصوصی کرم فرماتے ہوئے اسے رمضان المبارک کی ان مبارک گھڑیوں میں عطا فرمایا تاکہ وہ اپنے اعمالِ صالحہ اور عباداتِ خالصہ کے ذریعے ایسی رفعت و بلندی حاصل کر لے جو طویل زمانوں کی عبادت سے بھی حاصل نہ ہو سکے۔ اگرچہ روزے کی عبادت سابقہ امتوں میں بھی مشروع تھی مگر رمضان المبارک کی اس مقدس رات کا شرف صرف اسی امت کو نصیب ہوا، یہی وجہ ہے کہ یہ رات امتِ محمدیہ کے امتیازات و خصائص میں شمار کی جاتی ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے اور یہ فضیلت قیامت تک آپ کی امت کے لیے جاری رہے گی۔ چنانچہ یہ رات اس امت کے لیے سراسر فضل و انعام اور خصوصی عطیۂ ربانی ہے۔
لیلۃ القدر کے نام کی حکمتوں پر غور کیا جائے تو اہلِ علم نے اس کی متعدد توجیہات بیان فرمائی ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ اس رات میں بندۂ مومن کثرتِ عبادت، تلاوتِ قرآن اور ذکر و اذکار میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم قدر و منزلت کا مستحق بن جاتا ہے۔ دوسری حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اسی مبارک رات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآنِ حکیم کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف نازل فرمایا اور پھر تدریجاً اپنے محبوب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔ تیسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس رات میں آئندہ سال کے بہت سے تقدیری امور اور فیصلے فرشتوں کے سپرد کیے جاتے ہیں، اسی مناسبت سے اسے تقدیر کی رات کہا جاتا ہے۔ چوتھی وجہ یہ بیان کی گئی کہ لفظ قدر کا ایک معنی تنگی بھی ہے اور اس رات آسمان سے زمین تک فرشتوں کی کثرت اس قدر ہوتی ہے کہ گویا زمین ان کے لیے تنگ ہو جاتی ہے۔ بہرحال اس رات کی شان و عظمت ایسی بلند ہے کہ عقل انسانی اس کے اسرار و حقائق کی تہہ تک پہنچنے سے قاصر ہے۔
قرآنِ کریم نے اس رات کی عظمت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا ہے کہ لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ یعنی شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ ہزار مہینوں سے مراد ایک طویل مدت ہے جس میں مسلسل عبادت کا تصور بھی انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتِ کاملہ سے ایک ہی رات کو اتنی برکت عطا فرمائی کہ اس میں کی جانے والی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار پائی۔ اس مبارک رات میں حضرت جبرئیل امین علیہ السلام اپنے رب کے حکم سے فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں اور طلوعِ فجر تک ہر طرف سلامتی، سکون اور رحمت کی فضا قائم رہتی ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی اس رات کی عظمت و فضیلت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: من قام لیلة القدر ایماناً واحتساباً غفر لہ ما تقدم من ذنبہ یعنی جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ شب قدر میں قیام کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس حدیث مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر صرف ایک مبارک رات ہی نہیں بلکہ گناہوں کی مغفرت اور روحانی پاکیزگی کا ایک عظیم موقع بھی ہے جس سے فائدہ اٹھانے والا بندہ سعادتِ دارین حاصل کر سکتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شب قدر کون سی رات ہے؟ اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے امت کو واضح ہدایت فرمائی کہ اسے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ چنانچہ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:” التمسوھا فی العشر الأواخر فی الوتر” یعنی شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اسی مفہوم کی ایک اور حدیث حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ شب قدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔ اگرچہ امت مسلمہ میں ستائیسویں شب کے متعلق زیادہ شہرت پائی جاتی ہے اور بعض روایات اس کی طرف اشارہ بھی کرتی ہیں، تاہم محدثین کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ شب قدر کا وقت ہر سال بدل بھی سکتا ہے، لہٰذا آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں عبادت کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ بندہ اس عظیم سعادت سے محروم نہ رہ جائے۔
شب قدر کی دعا کے متعلق بھی حدیث شریف میں نہایت جامع تعلیم دی گئی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو میں کون سی دعا پڑھوں؟ تو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني” یعنی اے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا ہے اور معافی کو پسند فرماتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔ یہ دعا درحقیقت مغفرت و رحمت کی جامع التجا ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے قرب کے دروازے تک پہنچا دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شب قدر کی فضیلت سے محروم رہ جانا بہت بڑی محرومی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کا مہینہ تم پر آیا ہے جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس کی خیر سے محروم رہ گیا وہ درحقیقت ہر خیر سے محروم رہ گیا۔ اس لیے ہر صاحبِ ایمان کو چاہیے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت، تلاوت، ذکر و دعا اور درود شریف کی کثرت کے ذریعے اس رات کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔ یہی وہ مبارک لمحہ ہے جس میں بندے کی تقدیر بدل سکتی ہے، گناہوں کے اندھیرے مٹ سکتے ہیں اور رحمتِ خداوندی کی بارش اس کے قلب و روح کو منور کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شب قدر کی قدر پہچاننے، اس میں اخلاص و خشوع کے ساتھ عبادت کرنے اور اس کی بے شمار برکتوں سے مالامال ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
