منیر احمد ندوی
مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر یوپی
کائناتِ ارض و سما میں قرآن کریم سے زیادہ مقدس اور عظمت و رفعت والی کوئی چیز نہیں ہے۔
قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس کے نزول نے رمضان کے مہینے کو تمام مہینوں کا سردار بنا دیا، قرآن کریم کی برکت سے یہ مہینہ رحمت و برکت سے بھر گیا، بے شک اس کا ہر ہر لمحہ سعادت اور ہر گھڑی عظمت والی ہے، کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے جس میں رحمتِ خداوندی کا نزول نہ ہوتا ہو، قرآن کریم نے اس مہینے کی ایک رات کو لیلۃ القدر سے تعبیر کیا اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر اور افضل بنا دیا، لیلۃ القدر کے معنی شرف و عظمت والی رات کے ہیں۔
اور قدر کے ایک معنی تقدیر کے بھی ہیں، حقیقت میں یہ وہ رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا اور اس نے دنیا کی تقدیر بدل دی
اگر قرآن حکیم کا نزول نہ ہوا ہوتا تو کائنات میں تاریکی اور اندھیرا ہی رہتا اور تلاش کرنے پر بھی رشد و ہدایت کا کوئی چراغ نہ ملتا، رہنمائی اور راہ یابی کا کوئی سراغ نہ ملتا، فرمان الہی ملاحظہ فرمائیں: ہم نے ہی اس قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟
شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے، فرشتے اور روح یعنی (جبرائیل علیہ السلام)اس رات میں اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔
وہ رات یعنی شب قدر سراسر امن و سلامتی ہے طلوع فجر تک.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ پورا قرآن لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر رمضان کی اسی رات (لیلۃ القدر) میں بیت العزت میں نازل کر دیا گیا ،
پھر وہاں سے حالات کے مطابق تیئس سال تک بتدریج نازل ہوتا رہا،
نزول قرآن کا آغاز غار حراء میں سورہ اقراء کی ابتدائی پانچ آیتوں سے ہوا اور وہ رمضان المبارک ہی کی کوئی رات تھی جس کو شب قدر کہا جاتا ہے، ہزار مہینوں سے افضل رمضان المبارک کی کون سی رات ہے اس کے متعلق بہت سے اقوال ہیں لیکن علماء امت کی اکثریت کا خیال ہے کہ رمضان المبارک کے آخری دس راتوں میں کوئی بھی طاق رات شب قدر ہو سکتی ہے،
اور زیادہ امکان ہے کہ وہ رمضان المبارک کی ستائیسویں رات ہو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان المبارک کی آخری دس طاق راتوں میں تلاش کرو، حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر رمضان المبارک کی آخری دس راتوں میں اعتکاف کیا ہے،
اس رات کی عظمت ورفعت اور فضیلت و برکت کے لیے یہی کافی ہے
کہ اللہ نے خود اس رات کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے اور اس رات میں جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتھ اپنے رب کے حکم سے زمین پر اترتے ہیں اور ان تمام بندگان خدا کے لیے جو کھڑے یا بیٹھے اللہ کو یاد کرتے ہیں ان کے لیے مغفرت وبخشش اور نزول رحمت کی دعا کرتے ہیں،
اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والوں کا اللہ کی طرف سے یہ اکرام واعجاز کیا جاتا ہے کہ نزول قرآن کریم والی رات میں حضرت جبرائیل اور بہت سے فرشتوں کو زمین پر بھیج دیا جاتا ہے اور وہ فرشتے ہر خیر و برکت والی چیز کو لیکر اترتے ہیں،
اللہ تعالیٰ کیسے کیسے تحفے اس رات میں اپنے وفادار بندوں کے لیے بھیجتے ہیں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اور یہ لیلۃ القدر کی رات دراصل امن و سلامتی کی ضامن ہے،
یہ مبارک رات کسی خاص حصے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
بلکہ شروع رات سے طلوع فجر تک انوار الہی سے معمور رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کیسی کیسی عظیم نعمتوں سے ہم کو نوازا ہے،
اگر ہم چاہیں تو تھوڑی سی محنت کر کے اپنے دامن کو ان نعمتوں سے بھر سکتے ہیں،
لیکن ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے بے شمار برکتوں سے محروم ہو جاتے ہیں،
شب قدر جیسی عظیم نعمت کی تعیین سے صرف معمولی جھگڑے کی وجہ سے ہم محروم ہو گئے، حقیقت یہ ہے کہ آج امت مسلمہ اپنے اختلافات کی وجہ سے نصرت خداوندی سے محروم ہو گئی ہے۔
حدیث میں ہے کہ لیلۃ القدر کی تعین کا علم صرف اس لیے اٹھا لیا گیا کہ مدینے میں دو مسلمان آپس میں ایک قرض کے بارے میں لڑ گئے تھے۔
ہم کو چاہیے کہ اس مبارک مہینے میں اور اس کی مبارک راتوں میں ذکر و تلاوت، عبادت و ریاضت، دعاء و مناجات سے رضاء الہی کے حصول کی کوشش کریں، اپنے آپ کو اللہ کا محبوب اور پسندیدہ بندہ بنا لیں، لڑائی جھگڑوں سے دور بھاگیں، کینہ، بغض اور نفرت سے اپنے سینوں کو پاک کریں، اور امت محمدیہ کی بلند اقبالی، سرفرازی اور کامیابی کی دعاؤں کے ساتھ اس کے اتحاد و اتفاق کی بھی دعا کریں. اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس عظیم رات کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے.
