تحریر: ابو احمد مہراج گنج

بھارت کی سب سے قدیم اور معتبر مسلم تنظیم، جمعیت علمائے ہند، اپنی سو سالہ تاریخ میں کئی نشیب و فراز سے گزری ہے۔ جنگِ آزادی میں اس کے جرات مندانہ کردار اور ‘متحدہ قومیت’ کے نظریے نے اسے ایک منفرد پہچان دی، لیکن پچھلی پانچ دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ تنظیم اپنے ہی شاندار ماضی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ایک خاص قسم کے سیاسی و سماجی جمود کا شکار نظر آتی ہے۔

آج جب بھارتی مسلمان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں، جمعیت کی پالیسیوں اور اس کے تنظیمی ڈھانچے پر سنجیدہ سوالات اٹھنا فطری ہیں۔

میرے خیال میں جمعیت کا سب سے بڑا المیہ اس کا دہائیوں پر محیط "کانگریسی خول” ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد سے جمعیت نے مسلمانوں کی آزاد سیاسی قیادت پروان چڑھانے کے بجائے انہیں ایک مخصوص سیکولر جماعت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اس مصلحت پسندانہ پالیسی نے بھارتی مسلمانوں کو محض ایک ‘ووٹ بینک’ تک محدود کر دیا، جس میں سیاسی سودے بازی کی قوت (Bargaining Power) نہیں رہی۔ پچھلی پانچ دہائیوں میں جب ملک کا سیاسی منظرنامہ بدل رہا تھا، جمعیت نے متبادل سیاسی وژن دینے کے بجائے ‘خوف کی سیاست’ کے تحت مسلمانوں کو ایک ہی مرکز سے جوڑے رکھا، جس کا نتیجہ سیاسی تنہائی اور بے وزنی کی صورت میں برآمد ہوا۔

جمعیت کا نیٹ ورک ہزاروں مدارس پر مشتمل ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان مدارس کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے۔ نصاب میں عصری علوم (سائنس، ٹیکنالوجی اور معاشیات) کی شمولیت کو ‘دینی تشخص’ کے نام پر نظر انداز کیا گیا، جس سے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گیاہے۔ سچر کمیٹی جیسی رپورٹوں نے ثابت کیا کہ مذہبی قیادت مسلمانوں کی سماجی اور معاشی حالت سدھارنے کے بجائے صرف جذباتی اور دفاعی مسائل (مثلاً پرسنل لا یا مساجد کے تنازعات اور UAPA میں گرفتار نوجوانوں کے مقدمات) تک محدود رہی۔

کسی بھی تنظیم کی زندگی اس کے جمہوری ڈھانچے اور نئے خون کی شمولیت میں ہوتی ہے۔ تاہم، جمعیت علمائے ہند ایک ‘خاندانی اجارہ داری’ کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ قیادت کا ایک ہی خاندان کے گرد گھومنا اور نچلی سطح کے کارکنان کا اعلیٰ قیادت کے سامنے کلمۂ حق کہنے سے کترانا وہ عوامل ہیں جنہوں نے تنظیم کے اندر اصلاح کی گنجائش بالکل ختم کر دی ہے۔ ضلع اور بلاک لیول پر تنظیم کی فعالیت محض رسمی ہے، جہاں مقامی مسائل کے حل کے بجائے صرف مرکزی احکامات کی پیروی کی جاتی ہے۔ ثانوی درجے کی قیادت میں اتنی جرات نظر نہیں آتی کہ وہ موروثی نظام کو چیلنج کر سکیں یا جدید دور کے مطابق نئی حکمتِ عملی تجویز پیش کر سکیں۔

موجودہ سیاسی تناظر میں جمعیت کی حیثیت مزید کمزور ہوئی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی ختم ہونے کے بعد تنظیم اب صرف ‘لیگل ایڈ سوسائٹی’ بن کر رہ گئی ہے جو عدالتوں میں مقدمات تو لڑ رہی ہے لیکن سڑکوں پر یا سماج میں مسلمانوں کا حوصلہ بڑھانے میں ناکام ہے۔ حالیہ برسوں میں مصلحت پسندی اور ‘نرم رویے’ کی پالیسی نے عام مسلمان اور نوجوان نسل کے اندر بے چینی اور عدمِ اعتماد پیدا کیا ہے، جو اب روایتی قیادت کے بجائے نئے اور بے باک متبادل کی تلاش میں ہیں۔

اب راستہ کیا ہے؟

جمعیت اگر واقعی اپنا وجود بچانا چاہتی ہے اور ملت کو بحران سے نکالنا چاہتی ہے، تو میرے خیال سے اسے درج ذیل انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے

 1- موروثیت کا خاتمہ: قیادت کو خاندانی حصار سے نکال کر میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر منتقل کرنا ہوگا۔

 2- بلاک لیول پر فعالیت: تنظیم کو صرف مولوی اور مدارس تک محدود رکھنے کے بجائے بلاک اور ضلع کی سطح پر سماجی خدمت، تعلیمی رہنمائی اور معاشی بیداری کا مرکز بنانا ہوگا۔

 3- سیاسی خود مختاری: کسی ایک پارٹی کی غلامی کے بجائے مسلمانوں کے اپنے ‘قومی ایجنڈے’ پر کام کرنا ہوگا اور دیگر مظلوم طبقات کے ساتھ مل کر نئے سماجی اتحاد بنانے ہوں گے۔

 وقت کا پہیہ بہت تیزی سے گھوم رہا ہے۔ اگر جمعیت نے اپنی ‘مقدس خاموشی’ اور ‘منجمد کردار’ کو تبدیل نہ کیا، تو نئی نسل اسے تاریخ کے کوڑے دان میں ڈالنے میں دیر نہیں لگائے گی۔ اب وقت ‘شخصیت پرستی’ سے نکل کر ‘قوم پرستی’ اور عملی جدوجہد کا ہے۔ بقول فنا نظامی کانپوری ۔

زندگی نام ہے اک جہد مسلسل کا فناؔ

راہرو اور بھی تھک جاتا ہے آرام کے بعد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے