(حکومت کی جانب سے یہ وضاحت پیش کی جا رہی ہے کہ کسی بھی ریاست کی نشستیں کم نہیں ہوں گی لیکن مسئلہ نشستوں کی تعداد کا نہیں بلکہ طاقت کے توازن کا ہے)

 ✍️(حافظ)افتخاراحمدقادری 

ملک میں جو کچھ اس وقت حدبندی اور خواتین ریزرویشن کے نام پر آگے بڑھایا جا رہا ہے وہ دراصل آنے والے برسوں میں سیاسی قوت کے مراکز کو از سر نو متعین کرنے کی ایک سنجیدہ اور گہری کوشش معلوم ہوتی ہے۔ ایسے مراحل تاریخ میں کم ہی آتے ہیں جب بظاہر آئینی عمل درحقیقت سیاسی تقدیر کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے عمل کو قانونی یا انتظامی نقطہ نظر سے دیکھنا حقیقت کا ادھورا مطالعہ ہوگا۔ پارلیمنٹ اور اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی کا عمل بنیادی طور پر اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کس خطے کی آواز کتنی بلند ہوگی اور کون سا طبقہ قانون سازی کے ایوانوں میں کس حد تک اثر انداز ہو سکے گا۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں جمہوریت کے دعوے اور طاقت کی حقیقت ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں جب یہ عمل مردم شماری کی تکمیل سے قبل تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے تو اس سے شکوک و شبہات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔
   جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کی بے چینی کو فقط سیاسی اختلاف کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان ریاستوں نے آبادی کے کنٹرول، تعلیم اور صحت کے میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی آبادی کی رفتار نسبتاً کم رہی۔ اب اگر حد بندی کا پیمانہ صرف آبادی کو بنایا جاتا ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ جن ریاستوں میں آبادی زیادہ بڑھی وہ زیادہ نمائندگی حاصل کریں گی۔ یوں ترقی اور منصوبہ بندی کی کامیابی ایک طرح سے سیاسی نقصان میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے جو انصاف کے اصولوں سے متصادم معلوم ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ وضاحت ضرور پیش کی جا رہی ہے کہ کسی بھی ریاست کی نشستیں کم نہیں ہوں گی لیکن مسئلہ نشستوں کی تعداد کا نہیں بلکہ طاقت کے توازن کا ہے۔ اگر شمالی ہند کی بڑی ریاستوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو پارلیمنٹ میں فیصلہ سازی کا جھکاؤ لازماً اسی طرف ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قومی پالیسیوں کی تشکیل میں ایک مخصوص خطے کی بالادستی قائم ہو سکتی ہے جبکہ دیگر خطے بتدریج کمزور پوزیشن میں چلے جائیں گے۔ یہ صورتحال ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتی ہے۔ وفاقیت کا حسن ہی اس بات میں ہے کہ تمام ریاستوں کو مناسب نمائندگی اور برابری کا احساس حاصل ہو۔ اگر کسی ایک حصے کی سیاسی قوت اس حد تک بڑھ جائے کہ دوسرے حصے خود کو غیر مؤثر محسوس کرنے لگیں تو اس سے نہ صرف سیاسی عدم توازن پیدا ہوگا بلکہ قومی یکجہتی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی تناظر میں خواتین ریزرویشن کا مسئلہ بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مناسب نمائندگی دینا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں کہ یہ جمہوری انصاف کا ایک بنیادی تقاضا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس اہم معاملے کو کس طرح نافذ کیا جا رہا ہے اور اسے حدبندی کے عمل کے ساتھ کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ اگر خواتین کے لیے نشستوں کی تقسیم پرانی مردم شماری یعنی 2011 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف نمائندگی کا اصول متاثر ہوگا بلکہ خواتین کو ان کے ممکنہ حق سے کم حصہ ملے گا۔ اس کے برعکس اگر نئی مردم شماری کے نتائج کے بعد یہ عمل انجام دیا جائے تو خواتین کو زیادہ بہتر اور متناسب نمائندگی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر اپوزیشن جماعتیں زور دے رہی ہیں اور جسے نظر انداز کرنا کسی طور مناسب نہیں ہوگا۔ یہ تاثر بھی تقویت پکڑ رہا ہے کہ خواتین ریزرویشن کو حد بندی کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا سیاسی ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جس میں مخالفت کرنا آسان نہ رہے۔ خواتین کے حقوق کا سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے لیکن اگر اسے سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنا دیا جائے تو اس کی سنجیدگی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو خالصتاً انصاف شفافیت اور برابری کے اصولوں پر حل کیا جائے نہ کہ سیاسی فائدے کے تناظر میں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن نہ تو مکمل طور پر متحد نظر آتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی واضح اور مربوط حکمت عملی دکھائی دیتی ہے۔ فقط بیانات اور وقتی ردعمل سے اس نوعیت کے بڑے فیصلوں کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی مشترکہ لائحہ عمل اور مستقل جد وجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر فوری طور پر مشترکہ اجلاس منعقد کرے، ماہرین قانون اور سماجی علوم سے مشاورت حاصل کرے اور ایک ایسا فارمولا تیار کرے جو تمام ریاستوں اور طبقات کے لیے قابل قبول ہو۔ حدبندی کے اصولوں کو شفاف بنایا جائے، خواتین ریزرویشن کو نئی مردم شماری سے جوڑا جائے اور وفاقی توازن کو ہر صورت برقرار رکھنے کی ضمانت دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی اس مسئلے کو اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔ جب تک عام شہری کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ یہ معاملہ اس کی اپنی نمائندگی اور اس کے ووٹ کی طاقت سے جڑا ہوا ہے تب تک اس موضوع پر سنجیدہ عوامی دباؤ پیدا نہیں ہو سکے گا۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو عوامی تحریک کی شکل دے تاکہ حکومت کو یک طرفہ فیصلوں سے روکا جاسکے۔ حکومت کی موجودہ پالیسی میں جو ابہام و پیچیدگی نظر آتی ہے وہ اس پورے عمل کو مزید مشکوک بنا رہی ہے۔ واضح روڈ میپ کے بجائے مختلف معاملات کو آپس میں الجھا کر پیش کیا جا رہا ہے جس سے اصل سوالات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حدبندی اور خواتین ریزرویشن کو یکجا کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لہٰذا! ملک کے موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ایسے حساس معاملات میں جلد بازی کے بجائے سنجیدگی شفافیت اور وسیع تر مشاورت کو ترجیح دی جائے۔ اگر اس مرحلے پر غلط فیصلے کیے گئے تو اس کے اثرات نہ صرف سیاسی نظام بلکہ سماجی توازن اور علاقائی ہم آہنگی پر بھی مرتب ہوں گے۔ اگر اپوزیشن اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے متحد ہو جائے اور ایک مضبوط و مؤثر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آئے تو وہ اس پورے عمل کو ایک مثبت اور متوازن سمت دے سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ خطرہ موجود ہے کہ حدبندی اور خواتین ریزرویشن کا یہ مرحلہ ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لے گا جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ جمہوریت کی اصل روح اسی میں ہے کہ فیصلے سب کو ساتھ لے کر شفافیت کے ساتھ اور انصاف کے اصولوں پر کیے جائیں نہ کہ یک طرفہ طاقت کے زور پر۔ کیوں کہ حد بندی اور خواتین ریزرویشن جیسے معاملات اپنی اہمیت کے اعتبار سے یقیناً بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان کی پیش کش، وقت اور ان پر عمل درآمد کا طریقہ کار ہی دراصل اصل سوال بن چکا ہے۔ اگر ان فیصلوں کے پیچھے نیت خالص اصلاح اور توازن کی ہو تو وہ نہ صرف قابل قبول بنتے ہیں بلکہ قوم کے لیے باعثِ اطمینان بھی ہوتے ہیں لیکن جب یہی اقدامات عجلت و ابہام اور یک طرفہ پن کے ساتھ سامنے آئیں تو ان پر سوال اٹھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو آج پورے سیاسی منظرنامے پر طاری دکھائی دیتی ہے۔ یہ عیاں ہے کہ ملک کی جمہوری طاقت صرف انتخابات یا نشستوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس احساسِ شراکت سے قائم رہتی ہے جو ہر خطے، طبقے اور ہر فرد کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے اور اس کی نمائندگی مؤثر ہے۔ اگر حدبندی کا عمل اس احساس کو کمزور کرتا ہے، اگر اس کے نتیجے میں کسی خطے کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کا کردار ثانوی ہوتا جا رہا ہے تو پھر یہ ایک آئینی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک گہرا سیاسی اور نفسیاتی بحران بن جاتا ہے۔ یہی خدشہ جنوبی ریاستوں میں ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو معمولی سمجھنا یا اسے وقتی سیاست کا حصہ قرار دینا ایک سنگین غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خواتین ریزرویشن کا سوال بھی اپنی اصل روح میں نہایت سنجیدہ اور اہم ہے۔ یہ صرف نشستوں کی تقسیم کا معاملہ نہیں بلکہ نصف آبادی کو با اختیار بنانے، انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں برابر کا شریک بنانے اور جمہوریت کو حقیقی معنوں میں ہمہ گیر بنانے کی ایک کوشش ہے۔ لیکن اگر اس مقصد کو بھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنا دیا جائے، اسے ایسے وقت اور ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ اس کے پیچھے دیگر مقاصد کا سایہ دکھائی دے تو اس کی افادیت متاثر ہوتی ہے۔ خواتین کے حقوق کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں صرف ایک علامتی یا وقتی رعایت نہ دی جائے بلکہ ایک مضبوط منصفانہ اور پائیدار بنیاد پر ان کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ یقین جانیے اگر اپوزیشن اپنی ذمہ داری کا صحیح ادراک کرے، وقتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ موقف اختیار کرے اور اس مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ عوام کے سامنے رکھے تو وہ اس پورے عمل کو ایک متوازن رخ دے سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ منتشر رہی، اس کی آواز کمزور اور غیر مربوط رہی تو پھر یک طرفہ فیصلوں کا راستہ مزید ہموار ہو جائے گا۔ یاد رکھیں کہ جمہوریت میں توازن صرف آئینی دفعات سے نہیں بلکہ سیاسی قوتوں کے باہمی توازن سے بھی قائم رہتا ہے اور یہی توازن آج سب سے زیادہ خطرے میں محسوس ہوتا ہے۔ یہاں عام آدمی کے ذہن میں جو سوال گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا واقعی یہی وہ مسائل ہیں جن پر اس وقت سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہیے؟ کیا وہ چیلنجز جو براہِ راست عوام کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں ان کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟ ملک کا نوجوان روزگار کی تلاش میں در بدر ہے، مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے، کسان اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہے، تعلیم و صحت جیسے بنیادی شعبے اب بھی مضبوطی کے منتظر ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو کسی بھی ذمہ دار حکومت کی اولین ترجیح ہونے چاہئیں۔ اگر حکومت اپنی توانائیاں ایسے معاملات پر صرف کرتی ہے جن کا تعلق زیادہ تر سیاسی ترتیب اور طاقت کے توازن سے ہے اور وہ ان بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیتی ہے جو عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں تو پھر یہ عدم توازن خود بخود ایک بڑے سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ عوام یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کے حقیقی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ان کی جگہ ایسے موضوعات کو اہمیت دی جا رہی ہے جن کا فوری فائدہ انہیں حاصل نہیں ہوتا۔ کیوں کہ قیادت وہی کامیاب ہوتی ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل مدتی قومی مفاد کو ترجیح دے، جو فیصلوں میں شفافیت اور مشاورت کو اہمیت دے اور جو عوامی مسائل کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنائے۔ حدبندی اور خواتین ریزرویشن جیسے معاملات یقیناً اہم ہیں لیکن ان کی اہمیت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک انہیں درست وقت، درست بنیاد اور درست نیت کے ساتھ نافذ نہ کیا جائے۔ آخرکار یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملک کو اس وقت توازن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسا توازن جو سیاست اور عوامی فلاح کے درمیان قائم ہو، آئینی تقاضوں اور عملی ضروریات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے اور مختلف خطوں اور طبقات کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنائے۔ اگر اس توازن کو نظر انداز کیا گیا تو فیصلے چاہے کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، ان کے اثرات کمزور اور متنازع رہیں گے۔ لہٰذا! وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات پر از سر نو غور کرے، اپوزیشن اپنی ذمہ داری کو پوری سنجیدگی سے ادا کرے اور تمام فریق مل کر ایک ایسے راستے کا انتخاب کریں جو نہ صرف جمہوری اصولوں کے مطابق ہو بلکہ عوام کی حقیقی ضروریات کا بھی احاطہ کرتا ہو۔ بصورت دیگر یہ خطرہ برقرار رہے گا کہ ہم ایک ایسے راستے پر گامزن ہو جائیں جہاں سیاسی فیصلے تو ہوتے رہیں مگر عوامی مسائل اپنی جگہ جوں کے توں باقی رہیں اور یہی کسی بھی جمہوریت کے لیے سب سے بڑا المیہ ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش 
  (مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے