مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی مدنی ـؒ کا سانحہ ارتحال
محی الدین حسام الدین
حضرت مولانا احمد کمال عبدالرحمان صاحب ندویؒ اس زمانہ کے مجدد، جید عالم دین، عالم ربانی، پیکر صدق و صفا، صبر و شکر کا گنجینہ، اخلاق و ایثار کا نمونہ، خطیب و مقرر، داعی و مصلح، دارالعلوم ندوۃ العلماء کا فاضل، مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے نائب صدر، مہتمم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سعیدالرحمان صاحب اعظمی ندوی کے خلیفہ مجاز، پیار ومحبت کے خوگر، تواضع و خاکساری کی اعلیٰ مثال، علماء و مشائخ کے قدردان، اپنے معاصرین میں علم و فضل پر فائق، مرجع خلائق اورنوجوان نسل کیلئے ایک شفیق سائبان کی طرح تھے جو ہمیشہ انکی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
یہ درخشاں ستارہ ذوالقعدہ ۶ تاریخ ۱۴۴۷ھ بمطابق ۲۴ اپریل ۲۰۲۶ ء بروز جمعہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا اور خلق خدا کو سوگوار چھوڑ کر رب حقیقی سے جا ملاـ ــ ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے سارے دینی و ملی و اصلاحی خدمات کو ذخیرئہ آخرت فرمائے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس کی نگہبانی کرے
حضرت مولانا احمد کمال ندویؒ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے فارغ التحصیل تھے، دوران تعلیم ہی وہ ایک ممتاز طالب علم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے دوران مولانا کے تعلقات اساتذہ کے ساتھ کافی قریبی اور مشفقانہ رہے خاص طور پر حضرت مولانا سعید الرحمان اعظمی ندوی (مہتمم دارالعلوم ) کے ساتھ انکا تعلق طالب علم اور استاذ سے کہیں زیادہ برادرانہ رہا جو انکی زندگی کے آخری وقت تک نہ صرف قائم رہابلکہ زمانہ کے ساتھ اور گہرا اور مضبوط ہوتا گیا۔
حضرت مولانا احمد کمال ندویؒ نہ صرف دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مایہ نازطالب تھے بلکہ وہ دوران تعلیم جامعۃ الاصلاح ـ’’ اسٹوڈنٹ یونین‘‘ کے صدر بھی رہے، ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد حضرت مولاناؒ نے اعلیٰ تعلیم کیلئے سعودی عربیہ کا رخت سفر باندھا اور وہ آٹھ سالوں تک مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ میں تعلیمی حصول کیلئے مقیم رہے، وہ کشی نگر کی پہلی ہستی تھے جنہیں ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کیطرف سے مبعوث کیا گیا تھا، مولاناؒ نے اپنی پوری زندگی کشی نگر کے مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کیلئے وقف کردیا اور پوری زندگی اسی محنت اور فکر میں گزار دی۔
حضرت مولانا احمد کمال ندویؒ کے کردار کی عظمت ان کی شفقت اور محبت تھی، جب بھی ان سے ملاقات یا موبائل پر بات ہوتی وہ ہمیشہ شفقت وہ محبت سے پیش آتے اور سب سے پہلے حال و احوال پوچھتے اور نصیحت فرماتے، اللہ تعالیٰ نے مولانا مرحوم کو دور اندیشی اور دور رس نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت سے بخوبی نوازا تھا جسکا نتیجہ تھا کہ مولانا مرحوم جتنا زور اسلامی تعلیمات کے حصول پر دیتے اتنا ہی وہ ماڈرن ایجوکیشن کے حامی تھے وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے کہ ’’ آج مسلمانوں کو ضرورت ہے کہ وہ مدارس کے ساتھ ساتھ اسکول ، کالج اور یونیورسیٹی قائم کریں اور اپنے بچوں کو جدید تعلیمات سے روشناش کرائیں، وہ ہمیشہ مسلم تنظیموں کے ذریعہ سرکاری نوکریوں کیلئے مفت چلائے جا رہے ’’کوچنگ‘‘ کیطرف رہنمائی فرماتے، مولانا مرحوم اس بات پر زور دیتے تھے کہ مسلمانوں کی نمائندگی ملک کے سرکاری اداروں اور سیاسی و سماجی میدان میں زیادہ ہونی چاہئے۔
عملی خدمات:
حضرتؒ نے جس وقت عملی میدان میں قدم رکھا اس وقت کشی نگرمیں مسلمانوں کی اسلامی کیفیت دیگر گوں تھیں ، علماء کی تعداد نہیں کے برابر تھی چند مدارس قائم تھے جن کا باضابطہ الحاق نہیں تھا، حضرتؒ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ قصبہ کسیا میں ’’جامعہ عمرفاروق ‘‘ کا قیام تھا جسکا باضابطہ الحاق ’’دارالعلوم ندوۃالعلماء‘‘ سے آج بھی قائم ہے، اس جامعہ کی سب سے بڑی خصوصیت حضرتؒ کے ذریعہ منخب نصاب تعلیم تھا جس کے ابتدائی درجات میں اردو، عربی، فارسی کے ساتھ ساتھ سائنس ، ریاضی (میتھمیٹکس) اور انگریزی مضمون ندوۃالعلماء کے آخری سال تک پڑھایا جاتاہے، جامعہ میں ہی مولانا نے اسکول کا بھی قیام کیا تھا جسکا نصاب جدید ہونے کے ساتھ اسلامی تعلیمات سے بھی مزین تھا، جس سے ہزاروں اسکولی بچوں میں بھی اسلامی شعور پیدا ہوا، مولاناؒ اس جامعہ سے سال ۲۰۰۰ ء تک بطور ناظم وابستہ رہے اس اثناء میں مدرسہ نے انکے زیر نگرانی بہت ساری کامیابیاں حاصل کیں جسمیںسب سے اہم،بلامبالغہ سیکڑوں بچوں نے جامعہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ندوۃالعملماء سے فراغت حاصل کی اور آج ملک اور بیرون ملک مختلف شعبوں میں اہم فرائض انجام دے رہے ہیں ، ۲۰۰۱ء میں مولاناؒ نے اپنے پیدائشی گائوں سیمرا ہردو ، کشی نگر میں اپنے والد محترم کے نام پر’’ جامعہ رحمانیہ اسلامیہ ‘‘ کی بنیاد ڈالی اور آج یہ مدرسہ بھی قائم و دائم ہے اور اہم دینی،ملی اور علمی خدمات انجام دے رہاہے، مولانا مرحوم کی عبقری شخصیت اور انتھک کوششوں سے کشی نگر کے ہزاروں مسلمانوں میں اسلامی، دینی اور دنیاوی شعور پیدا ہوا اور ہزاروں بچوں نے دینی اور دنیاوی علم حاصل کیا۔
مولاناؒ نے تاعمر اپنے علاقہ میں اسلامی تعلیمات کو زندہ رکھا، اور ملک کے اندر قومی یکجہتی کا پیغام دیتے رہے، علماء نے ان کی سرگرمیوں اور کوششوں کو کافی سراہا ہے، حضرتؒ کے جنازہ میں کثیر تعداد میں علماء کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے،اللہ تعالی ان کے سارے دینی و ملی کاموں کو قبول فرمائے اور ان کے پسمندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطافرمائے۔
قاصر میرا قلم ہے تو عاجز میری زباں
ممکن کہاں کہ وصف تیرا کر سکوں بیاں
