(حافظ)افتخار احمد قادری
جمہوری ریاستوں کی بنیاد اس اصول پر استوار ہوتی ہے کہ وہاں آئین سب سے بالا دست اور قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہوتے ہیں۔ آئین صرت ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک باوقار معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت ہر فرد کو مساوی حقوق اور آزادیوں کی ضمانت دی جاتی ہے۔ لیکن جب عملی سیاست میں اس آئینی وعدے کی روح کمزور پڑنے لگے اور قانون کے نفاذ میں امتیاز کا تاثر پیدا ہونے لگے تو یہ صورتِ حال نہ صرف جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن جاتی ہے بلکہ ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی متزلزل کر دیتی ہے۔ آج کے سیاسی منظرنامے میں یہی سوال شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ اگر ایک ملک میں ایک ہی آئین نافذ العمل ہے تو پھر قانون کا رویہ بعض مواقع پر دوہرا کیوں محسوس ہوتا ہے؟
دورِ حاضر کی سیاست کا ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید پہلو یہ بھی ہے کہ اقتدار کی کشمکش میں مذہبی جذبات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جانے لگا ہے۔ جدید جمہوری ریاستوں میں سیاست کو عوامی خدمت، معاشی استحکام اور سماجی ترقی کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے مگر جب سیاسی قوتیں اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے معاشرتی تقسیم کو ہوا دینے لگیں تو پورا سیاسی ماحول ہی تعصب اور اشتعال کی فضا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایسے معاملات بھی تنازع کا عنوان بن جاتے ہیں جو دراصل انتظامی سطح پر نہایت آسانی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ عید مسلمانوں کے لیے ایک تہوار نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی مسرت کا دن ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کے ایک مہینے کی مسلسل عبادت، صبر اور ریاضت کے بعد یہ دن شکر گزاری، اخوت اور اجتماعیت کی علامت بن کر آتا ہے۔ عید کی نماز مسلمانوں کے مذہبی تشخص کا ایک اہم مظہر ہے جسے اجتماعی طور پر ادا کرنا اس عبادت کا بنیادی تقاضا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہاں مساجد میں گنجائش کم پڑ جانے کی صورت میں عید گاہوں، میدانوں یا کھلی جگہوں پر عارضی انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ سکون اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنی عبادت ادا کر سکیں۔ یہ عمل نہ صرف ایک مذہبی ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے بلکہ سماجی نظم و نسق کے اعتبار سے بھی ایک عملی حل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب اسی طرح کی صورتحال میں محض چند منٹ کی متبادل سہولت کو بھی تنازع کا عنوان بنا دیا جائے اور اسے قانون و انتظام کے نام پر روکنے کی کوشش کی جائے تو فطری طور پر ذہنوں میں سوالات جنم لینے لگتے ہیں۔ اگر کسی مسجد میں جگہ کم پڑ جائے اور لوگ عید کے دن صرف پندرہ منٹ کے لیے کسی متبادل جگہ پر نماز ادا کرنا چاہیں تو اس میں کون سا ایسا خطرہ پوشیدہ ہے جو ریاستی نظم کو درہم برہم کر سکتا ہے؟ یہ سوال مذہبی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ آئینی مساوات کے اصول سے جڑا ہوا ایک سنجیدہ سوال ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں بعض حلقے ایسے ہیں جو معاشرتی ہم آہنگی کے بجائے تقسیم کی سیاست کو فروغ دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ جب معاشرہ مذہبی اور ثقافتی خطوط پر منقسم ہو جائے تو سیاسی طاقت حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی مذہبی جلوس کو مسئلہ بنایا جاتا ہے، کبھی کسی عبادت گاہ کو تنازع کا مرکز بنا دیا جاتا ہے اور کبھی کسی معمولی انتظامی معاملے کو بھی نظریاتی جنگ کی صورت دے دی جاتی ہے۔ اس طرزِ سیاست میں اصل مسائل، جیسے معاشی ناہمواری، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور سماجی ترقی، پس منظر میں چلے جاتے ہیں جبکہ عوام کی توجہ جذباتی اور متنازع موضوعات کی طرف مبذول کر دی جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب معاشرے میں ایک خاص ذہنیت کی حامل بھیڑ تیار ہو جائے جو ہر معاملے کو نفرت اور تعصب کے زاویے سے دیکھنے لگے تو سیاست دانوں کے لیے اس بھیڑ کی خوشنودی حاصل کرنا ایک سیاسی حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ریاستی فیصلے بھی بعض اوقات اسی دباؤ کے زیر اثر دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً قانون کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں اور یہ تاثر پیدا ہونے لگتا ہے کہ ریاستی پالیسیوں کا جھکاؤ ایک خاص طبقے کے جذبات کو مطمئن کرنے کی طرف ہے۔ جمہوریت کی اصل روح اس کے برعکس ہوتی ہے۔ ایک مضبوط اور باوقار جمہوری نظام وہی ہوتا ہے جہاں حکومتیں وقتی دباؤ اور جذباتی نعروں سے بالا تر ہو کر آئین کی روشنی میں فیصلے کرتی ہیں۔ آئین تمام شہریوں کے مذہبی حقوق اور آزادیوں کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر کسی بھی طبقے کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں تو یہ احساس ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کر دیتا ہے۔ برصغیر کی تہذیبی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سب نے اس سرزمین کی مشترکہ تہذیب کو تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس تنوع اور باہمی احترام ہی نے اس معاشرے کو ایک مضبوط سماجی ڈھانچہ عطا کیا ہے۔ اگر اس ہم آہنگی کو سیاسی مفادات کی خاطر مجروح کیا جائے تو اس کا نقصان کسی ایک مذہب یا طبقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں ضروری ہے کہ ایسے حساس معاملات کو سنجیدگی اور تدبر کے ساتھ دیکھا جائے۔ اگر کسی مسئلے کا حل محض چند لمحوں کی انتظامی سہولت فراہم کرنے سے نکل سکتا ہے تو اسے نظریاتی تنازع میں تبدیل کرنا دانشمندی نہیں بلکہ معاشرتی بے چینی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ ریاست کا فرض یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے مذہبی حقوق کا یکساں احترام کرے اور کسی بھی صورت میں قانون کے دوہرے معیار کا تاثر پیدا نہ ہونے دے۔ آج جب سیاست کے افق پر نظریاتی کشمکش اور سماجی تناؤ کے بادل منڈلا رہے ہیں ایسے میں آئین کی بالادستی اور قانون کی غیر جانبداری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف جمہوریت کو مستحکم کرتا ہے بلکہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان اعتماد اور احترام کی فضا کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ اگر واقعی ایک مضبوط اور متحد معاشرہ تشکیل دینا مقصود ہے تو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئین کی روح محض کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی سیاست اور ریاستی پالیسیوں میں بھی پوری قوت کے ساتھ نمایاں ہو۔ جب تک یہ اصول عملی صورت اختیار نہیں کرے گا تب تک یہ سوال بار بار اٹھتا رہے گا کہ ایک ہی آئین کے ہوتے ہوئے بھی قانون کا معیار مختلف کیوں محسوس ہوتا ہے۔ جبکہ جمہوری ریاست کی بنیاد اس اصول پر قائم ہوتی ہے کہ آئین تمام شہریوں کو یکساں حقوق عطا کرتا ہے اور قانون کی نگاہ میں ہر فرد برابر ہوتا ہے۔ ریاستی نظام کا وقار اسی وقت برقرار رہتا ہے جب اس کے قوانین اور پالیسیوں میں غیر جانب داری، انصاف اور توازن کا عنصر نمایاں ہو۔ لیکن جب عملی حالات میں یہ تاثر پیدا ہونے لگے کہ ایک ہی ملک میں بعض معاملات کے لیے نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور بعض کے لیے سخت پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو پھر یہ سوال شدت اختیار کر لیتا ہے کہ آیا واقعی قانون سب کے لیے یکساں ہے یا نہیں؟
ہندوستان جیسے کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی معاشرے میں مذہبی آزادی کو ہمیشہ ایک بنیادی قدر کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے عقائد اور رسوم کے ساتھ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ یہی تنوع اس ملک کی تہذیبی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی فضا میں بعض واقعات ایسے سامنے آتے ہیں جو اس توازن اور ہم آہنگی کے تصور کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر سال کاوڑ یاترا ایک بڑے مذہبی اجتماع کی صورت میں منعقد ہوتی ہے۔ اس یاترا کے دوران ہزاروں بلکہ لاکھوں عقیدت مند طویل مسافتیں طے کرتے ہیں، شاہراہوں پر جلوس نکلتے ہیں، بازاروں اور شہروں کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور کئی دنوں تک پورے انتظامی ڈھانچے کو اسی کے مطابق ڈھال دیا جاتا ہے۔ ریاستی ادارے اس یاترا کے لیے خصوصی انتظامات کرتے ہیں، راستوں کی تبدیلی سے لے کر سیکورٹی کے خصوصی اقدامات تک ہر سطح پر سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ یاتری اپنی مذہبی روایت کو آزادی اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔ یہ دراصل مذہبی آزادی کے اسی اصول کا مظہر ہے جسے آئین نے ہر شہری کا حق قرار دیا ہے۔ لیکن اسی پس منظر میں جب یہ خبر سامنے آتی ہے کہ کسی مقام پر مسلمانوں کو عید کے دن صرف چند منٹ کے لیے نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا یا متبادل جگہ پر نماز کی اجازت دینے میں پس و پیش سے کام لیا گیا تو یہ معاملہ محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک بڑے سوال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اگر ایک مذہبی روایت کے لیے پورے مہینے تک وسیع پیمانے پر انتظامات کیے جا سکتے ہیں تو کیا دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو پندرہ منٹ کی عبادت کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنا واقعی اتنا مشکل کام ہے؟ یہ سوال کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے توازن سے متعلق ہے۔ کسی بھی معاشرے میں مذہبی آزادی اسی وقت حقیقی معنوں میں قائم رہ سکتی ہے جب ریاست تمام مذاہب کے ساتھ یکساں احترام اور غیر جانب داری کا رویہ اختیار کرے۔ اگر ایک طبقے کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کے مذہبی فرائض کی ادائیگی کو غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہے تو یہ احساس رفتہ رفتہ معاشرتی بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ دورِ حاضر کی سیاست میں ایک افسوسناک رجحان یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بعض حلقے مذہبی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عوامی جذبات کو مذہب کے نام پر بآسانی بھڑکایا جا سکتا ہے، اس لیے وہ چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی بڑے تنازعات میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور معاشرہ مذہبی کشیدگی کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب ایک مخصوص ذہنیت کی حامل بھیڑ کسی فیصلے سے خوش ہوتی ہے تو بعض سیاسی قوتیں اسی خوشی کو برقرار رکھنے کے لیے اسی سمت میں قدم بڑھاتی رہتی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل ہو سکتا ہے لیکن طویل مدت میں یہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ریاست کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا جذباتی فضا سے بالاتر ہو کر آئین کی روشنی میں فیصلے کرے۔ ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع اور مشترکہ تہذیب میں مضمر ہے۔ یہاں کی گلیوں اور بازاروں میں مختلف مذاہب کی روایات ایک دوسرے کے ساتھ چلتی رہی ہیں۔ اگر اس روایت کو برقرار رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ قانون کا اطلاق واقعی یکساں ہو اور کسی بھی شہری کو یہ محسوس نہ ہو کہ اس کے مذہبی حقوق کو کمتر سمجھا جا رہا ہے۔ ایک مہینے کی کاوڑ یاترا اور پندرہ منٹ کی نماز کا تقابل دراصل اسی احساس کی علامت ہے۔ یہ کسی کے عقیدے کی مخالفت نہیں بلکہ آئینی مساوات کی یاد دہانی ہے۔ اگر ایک جمہوری معاشرہ واقعی اپنے اصولوں پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اسے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مذہبی آزادی صرف ایک نعرہ نہ رہے بلکہ ہر شہری کے لیے عملی حقیقت بن کر سامنے آئے۔ جب قانون واقعی سب کے لیے برابر نظر آئے گا تب ہی معاشرتی اعتماد مضبوط ہوگا اور وہ عناصر کمزور پڑ جائیں گے جو نفرت اور تقسیم کی سیاست سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
