میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
مرے دِل میں خیال اچھا نہیں آتا
علاج ِ دِل بھی تو سستا نہیں آتا
کبھی تم بھی ذرادیکھویہاں پیارے
نصیبوں میں کوئی دہلا نہیں آتا
بدلتی پیاس کاشکویٰ بھلا کیاہو؟
ہے پانی بھی مگر کوا نہیں آتا
وہی تو چیرپرسن تھادلِ معصوم
اُسے کرنے کو اب سجدانہیں آتا
عظیم انسان ہوتے ہیں وہی ،جن کے
سفر میں بھوک کے تلوا نہیںآتا
غریبوں کو مگر مرنا ہی ہوتا ہے
بچانے آج بھی پیسہ نہیں آتا
یہ سوشیل میڈیا حاضر ہے روزوشب
دِکھانے میرؔکو جلوہ نہیں آتا

