اچھوں کی صحبت کے عنوان پر مولانا شاکر علی نوری مُمبئی کا فکر انگیز خطاب
بنگلور (25 مئی 2026): شہر بنگلور کے معروف تجارتی مرکز کے آر مارکیٹ میں واقع برصغیر کی عظیم شخصیت حضرت پیر بہادر شاہ المعروف سید پاچھا شہید رحمت اللہ علیہ کا سالانہ عرس مبارک و صندل شریف کی تقریب عقیدت و احترام اور روایتی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ نورانی درگاہ کیمپس، ایس پی روڈ پر منعقد ہوئی۔ عرس پاک کی یہ مبارک تقریب ہمدرد قوم و ملت عالی جناب افسر بیگ صاحب کی نظامت اور عالی جناب سید معید الرحمن صاحب کی صدارت و سرپرستی میں منعقد کی گئی۔ عرس کی یہ تقاریب تین دن تک جاری رہیں، جن میں 22 مئی بروز جمعہ، 23 مئی بروز ہفتہ، اور 24 مئی بروز اتوار زائرین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد مسلسل درگاہ عالیہ پر حاضر ہوتی رہی اور عرس کی برکات حاصل کرتی رہی۔عرس پاک کی آخری اور مرکزی الوداعی محفل بتاریخ 24 مئی 2026 بروز اتوار بعد نمازِ عشاء شروع ہوئی، جس میں دور دراز سے عقیدت مندوں کے جمِ غفیر نے شرکت کی۔تقریب کا باقاعدہ آغاز سنی دعوتِ اسلامی کے ممتاز رہنما عالی جناب قاری عظمت اللہ رضوی صاحب اور ان کے رفقاء نے قرآنِ پاک کی تلاوت سے کیا۔ بعد ازاں، بارگاہِ رسالت مآب ﷺ اور بارگاہِ اولیاء میں ہدیہ نعت و منقبت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ملک کے شہرت یافتہ ثنا خواں محترم معین الدین قادری (بنگلور) نے اپنے مخصوص اور مسحور کن انداز میں مختلف نعتیں اور منقبتیں پیش کر کہ موجود سامعین پر رقت طاری کر دی اور ماحول کو روحانیت سے سرشار کر دیا۔خصوصی مہمان خطیب کے طور پر ممبئی سے تشریف لائے امیرِ سنی دعوتِ اسلامی، داعیِ کبیر حضرت علامہ مولانا حافظ و قاری شاکر علی نوری قبلہ نے ،اچھوں کی صحبت،کے کلیدی اور اہم موضوع پر ایک جامع، مدلل اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔اپنے ولولہ انگیز خطاب میں علامہ شاکر علی نوری صاحب نے انسانی زندگی پر اچھے اور برے ماحول کے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں درج ذیل اہم نکات پر خصوصی زور دیا:صحبت کا اثر: انسان اچھے انسان کے پاس بیٹھ کر اچھائی سیکھتا ہے اور بری صحبت سے برائی کی طرف راغب ہوتا ہے۔ انسان جیسا بیٹھتا ہے، ویسا ہی بن جاتا ہے۔ اسی لیے موجودہ پرفتن دور میں اچھوں کی اور اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنا بے حد ضروری ہو چکا ہے۔
ماضی اور حال کا موازنہ: آج سے 100 سال پہلے معاشرے میں یہ رواج تھا کہ وقت کے بادشاہ، وزراء، مالدار، امیر اور غریب سبھی لوگ اللہ والوں کے قرب کو تلاش کرتے تھے۔ وہ اولیائے کرام کی مجالس میں حاضر ہوتے، ان سے دعائیں کرواتے اور ان کی بتائی ہوئی نصیحتوں پر دل و جان سے عمل کرتے تھے۔موجودہ دور کا المیہ: آج کے جدید دور میں مساجد، مدارس، اسلامی کتابیں اور دینی لٹریچر ہر جگہ عام اور آسانی سے دستیاب ہے، لیکن اس کے باوجود سوسائٹی میں وہ اصلاح اور فائدہ نظر نہیں آ رہا جو سو سال پہلے نظر آتا تھا۔ اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم آج اچھے لوگوں اور اللہ والوں کی حقیقی صحبت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔اولیاء کی کرامت کو ہم بیان کرتے ہیںلیکن یہ اولیائے کرام کی اصل زندگی مجاہدہ زہدوتقویٰ پر زیادہ زور دینا ہے ۔ اپنے خطاب کے آخری حصے میں امیرِ سنی دعوتِ اسلامی نے اولیاء اللہ کی زندگی کے ایک انتہائی اہم پہلو کی طرف عوام کی توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ:کرامتوں کا ظہور اولیاء کرام سے برحق ہے، یہ ماضی میں بھی ہوا اور صبحِ قیامت تک ہوتا رہے گا، لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم صرف کرامت ہی کو بیان کرتے ہیں۔ ہمیں کرامت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا ہوگا کہ وہ ہستیاں کرامت دکھانے کے قابل کیسے بنیں؟ انہوں نے زور دیا کہ آج امتِ مسلمہ کو اولیائے اللہ کی عبادات، ان کی ریاضات، راتوں کو جاگ کر رونا اور ان کی مجاہدانہ زندگی کے پوشیدہ گوشوں کو بتانے کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی خاطر جو عظیم قربانیاں پیش کیں، ان کا ذکر عام کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو کہ کڑی محنت، تقویٰ اور اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے کے صلے میں ہی خدا نے انہیں ولایت کے اس عظیم مرتبے پر فائز کیا۔کلماتِ تشکر اور اختتامِ مجلس خطاب کے بعد درگاہ کمیٹی اور انتظامیہ کی نگرانی میں محفل کے اختتامی مراحل طے پائے۔ ہمدردقوم وملت عالی جناب افسر بیگ صاحب (سیکریٹری، جلوسِ محمدی کمیٹی، بنگلور) نے محفل میں تشریف لائے تمام جید علمائے کرام، عمادینِ شہر، معزز مہمانوں اور دور دراز سے آئے ہوئے تمام عقیدت مندوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی شرکت سے اس عرس پاک کی تین روزہ تقاریب کو کامیاب بنایا۔ آخر میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں انتہائی رقت آمیز انداز می صلوٰۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا، جس پر پوری مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ ملک و ملت کی امن و سلامتی، امتِ مسلمہ کی اصلاح اور درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی دعا کی گئی اور تمام حاضرین میں لنگرِ پاک تقسیم کیا گیا۔عرس پاک کی اس پروقار محفل میں شہر کی جید علمی، سماجی اور ملی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مہمانانِ گرامی اور خصوصی شرکاء میں درج ذیل نام نمایاں ہیں: اس پروقار محفل میں شہر کی جید علمی، سماجی اور ملی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مہمانانِ گرامی اور خصوصی شرکاء میں درج ذیل نام نمایاں ہیں:علماء کرام:حضرت حافظ و قاری مولانا قاری ذوالفقار رضا نوری صاحب خادم مرکزاہل سنت جامع حضرت بلال حضرت حافظ و قاری مولانا محمد توحید رضا علیمی صاحب خطیب مسجد رحیمیہ میسور روڈ بنگلور حضرت مولانا سید ربانی ثقافی صاحب حضرت مولانا حافظ و قاری حسین اشرفی مصباحی صاحب حضرت مولانا مفتی ماہِ زماں صاحب نوری قاری عظمت اللہ صاحب رضوی عمائدین شہر ملی و سماجی شخصیات میں :عالی جناب افسر بیگ صاحب (سیکریٹری، جلوسِ محمدی کمیٹی، بنگلور)عالی جناب سید معید الرحمن صاحب (صدر درگاہ سید پاچھا شہید کمیٹی)عالی جناب اللہ بخش صاحب عالی جناب ذبیح اللہ صاحب عالی جناب سید سجادہ احمد آمری صاحب (صدر، نوری فاؤنڈیشن) نعیم صاحب حسنین رحمن جواد صاحب سید ادنان عبدالرحیم شاہ بابا حاجی فیاض صاحب رحمن شریف عرف بابو صاحب ذاکر حسین خازن درگاہ کمیٹی
