پونے کے معروف عالم دین مولانا نظام الدین فخرالدین کاسفر جاری ہے
پونے (14مارچ): ماہِ رمضان المبارک برکتوں، عبادتوں اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں جہاں مسلمان قرآنِ کریم کی تلاوت اور عبادات میں مصروف رہتے ہیں، وہیں علمائے کرام بھی امت کی رہنمائی اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے خصوصی بیانات اور دروس کا اہتمام کرتے ہیں۔ مہاراشٹر کے علمی و دینی حلقوں میں ایک ایسا ہی معتبر نام مولانا نظام الدین فخرالدین کا ہے، جو گزشتہ پینتیس برس سے رمضان المبارک میں تراویح کے بعد پونے شہر کی مختلف مساجد میں قرآنِ کریم کی تفسیر اور اصلاحِ معاشرہ کے موضوعات پر خطاب کر رہے ہیں۔
مولانا نظام الدین فخرالدین آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن، سیرت کمیٹی پونے کے نائب صدر اور مدرسہ دارالعلوم نظامیہ صوفیہ کے بانی و مہتم ہیں۔ دینی خدمات کے طویل سفر میں انہوں نے نہ صرف تعلیم و تربیت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ معاشرے سے بدعات و خرافات کے خاتمے کے لیے بھی مسلسل جدوجہد کی ہے۔ ان کی شخصیت علمی وقار، دعوتی جذبے اور اصلاحی فکر کا حسین امتزاج ہے۔
دینی تعلیم اور ابتدائی سفر
مولانا نظام الدین فخرالدین اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے 1969 میں مدرسہ بیت العلوم مردگان سے فراغت حاصل کی۔ دینی علوم کی تکمیل کے بعد ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ دین کی خدمت کے لیے کسی ایسے شہر میں جائیں جہاں لوگوں کو دینی رہنمائی کی ضرورت ہو۔
وہ کہتے ہیں:
“فراغت کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ دین کی خدمت صرف درس و تدریس تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ معاشرے کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ میں پونے آیا۔”
پونے آمد اور امامت کا آغاز
مولانا نظام الدین فخرالدین کی پونے آمد 1970 میں ہوئی۔ شہر میں آنے کے بعد انہیں مرکز چاند تارہ مسجد میں امام و خطیب مقرر کیا گیا۔ اس منصب نے انہیں عوام کے قریب آنے اور ان کی دینی رہنمائی کا موقع فراہم کیا۔
چند برس بعد انہوں نے مسجد کاغذی پورہ اور مکہ مسجد مومن پورہ میں بھی امامت کے فرائض انجام دیے۔ ان کا کہنا ہے کہ امامت کے یہ پچیس سال ان کی زندگی کا نہایت اہم دور تھا، کیونکہ اسی زمانے میں انہوں نے اصلاحی کاموں کو باقاعدہ شکل دی۔
وہ یاد کرتے ہیں:
“اس زمانے میں مذہبی اجتماعات اور جلسوں کا سلسلہ بہت عام تھا۔ ربیع الاول اور دیگر مواقع پر بڑے بڑے جلسے ہوتے تھے، مگر ان کے ساتھ بعض بدعات اور خرافات بھی شامل ہو گئی تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ ان چیزوں کے خاتمے کے لیے علمی اور حکیمانہ انداز میں لوگوں کو سمجھانا ضروری ہے۔”
بدعات و خرافات کے خلاف جدوجہد
مولانا نظام الدین فخرالدین بتاتے ہیں کہ مومن پورہ کے علاقے میں بعض ایسی رسومات رائج تھیں جو دین کی اصل تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے تعاون سے اصلاحی مہم شروع کی۔
ان کے مطابق:
“مومن پورہ میں تقریباً ڈیڑھ سو برس سے کچھ ایسی رسومات جاری تھیں جنہیں لوگ مذہبی سمجھتے تھے۔ ہم نے مسلسل دس دن تک کھلے میدان میں بیانات کیے۔ نوجوانوں نے بڑی دلچسپی سے شرکت کی اور اللہ کے فضل سے لوگوں نے ان خرافات سے توبہ کی۔”
یہ مہم اتنی مؤثر ثابت ہوئی کہ علاقے میں بہت سی غیر اسلامی رسومات ختم ہو گئیں۔ اسی وجہ سے مومن پورہ کے نوجوانوں نے انہیں محبت سے “شیرِ مہاراشٹر” کا خطاب دیا۔
مہاراشٹر بھر میں اصلاحی بیانات
پونے تک محدود رہنے کے بجائے مولانا نظام الدین فخرالدین نے مہاراشٹر کے مختلف شہروں اور قصبوں میں بھی دعوتی و اصلاحی بیانات کا سلسلہ جاری رکھا۔ احمد نگر، نیوازہ، اوپر گاؤں، سڑھ رامپور اور دیگر علاقوں میں ان کے خطابات ہوئے۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس دور میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ان کے بیانات سے متاثر ہوئی۔
“اس زمانے میں ہم بھی نوجوان تھے اور نوجوانوں کے ساتھ ہمارا خاص تعلق تھا۔ جہاں کہیں بدعات یا خرافات نظر آتیں، ہم وہاں جا کر لوگوں کو سمجھاتے۔ کئی مقامات پر لوگوں نے خود ان رسومات کو ختم کر دیا۔”
دعوت و تبلیغ کے اکابر سے تعلق
مولانا نظام الدین فخرالدین کو دعوت و تبلیغ کے اکابر کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ خصوصاً حضرت مولانا حسین احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر احترام کے ساتھ کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
“دعوت و تبلیغ کے بزرگوں کے ساتھ رہنے سے ہمیں یہ سبق ملا کہ دین کی دعوت میں اخلاص، صبر اور حکمت بہت ضروری ہے۔ لوگوں کو محبت سے سمجھانا چاہیے، سختی سے نہیں۔”
مدرسہ دارالعلوم نظامیہ صوفیہ کا قیام
1992 میں مولانا نظام الدین فخرالدین نے مسجد کاغذی پورہ پونے میں دارالعلوم نظامیہ صوفیہ کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا مقصد دینی تعلیم کا فروغ اور نئی نسل کو قرآن و سنت سے جوڑنا تھا۔
وہ کہتے ہیں:
“ہم نے دیکھا کہ اگر دینی مدارس مضبوط ہوں گے تو معاشرہ خود بخود سنور جائے گا۔ اسی خیال کے تحت دارالعلوم نظامیہ صوفیہ قائم کیا گیا تاکہ بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ اچھے اخلاق کی تربیت بھی مل سکے۔”
آج یہ مدرسہ پونے کے اہم دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ مختلف مقامات پر دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
رمضان میں تفسیرِ قرآن کا سلسلہ
مولانا نظام الدین فخرالدین کا سب سے نمایاں کام رمضان المبارک میں تراویح کے بعد ہونے والی تفسیرِ قرآن کی مجالس ہیں۔ گزشتہ پینتیس برس سے وہ پونے شہر کی مختلف مساجد میں اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں:
“رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔ اس لیے ہم نے کوشش کی کہ لوگوں کو صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ قرآن کا پیغام بھی سمجھایا جائے۔ اسی مقصد سے تراویح کے بعد تفسیر کا سلسلہ شروع کیا گیا جو الحمدللہ آج تک جاری ہے۔”
ان مجالس میں قرآن کی آیات کی تشریح کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل پر بھی گفتگو ہوتی ہے۔ مولانا نوجوانوں کو خاص طور پر دین کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نوجوانوں کی اصلاح پر خصوصی توجہ
مولانا نظام الدین فخرالدین کے خطابات میں نوجوانوں کی اصلاح ایک اہم موضوع ہوتا ہے۔ وہ اپنے بیانات کے دوران نوجوانوں سے عہد لیتے ہیں کہ وہ بری عادتوں سے بچیں گے اور اچھے اخلاق اختیار کریں گے۔
وہ کہتے ہیں:
“میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ گالی گلوچ سے بچیں، والدین کی خدمت کریں، بزرگوں کی عزت کریں اور جہیز کا مطالبہ نہ کریں۔ جب نوجوان صحیح راستہ اختیار کرتے ہیں تو پورا معاشرہ بہتر ہو جاتا ہے۔”
ان کے مطابق بہت سے نوجوان ان کے بیانات سے متاثر ہو کر شراب نوشی اور دیگر بری عادتوں سے توبہ کر چکے ہیں۔
رمضان کی روحانیت اور سامعین کا جذبہ
تراویح کی نماز کے بعد عموماً لوگ تھک جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود مولانا نظام الدین فخرالدین کے دروسِ تفسیر میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں:
“یہ اللہ کا فضل ہے کہ لوگ اتنی دیر تک بیٹھ کر سنتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔ اس سے ہمیں بھی حوصلہ ملتا ہے کہ ہم اپنا کام جاری رکھیں۔”
عیدگاہ کے خطیب کی حیثیت
مولانا نظام الدین فخرالدین پونے کی عیدگاہ کے خطیب بھی ہیں۔ عیدین کے اجتماعات میں ہزاروں افراد ان کے خطبات سنتے ہیں۔
وہ اس ذمہ داری کو بڑی امانت سمجھتے ہیں۔
“عیدگاہ کا خطبہ صرف ایک رسمی خطاب نہیں ہوتا بلکہ یہ امت کے لیے پیغام ہوتا ہے۔ اس لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ ایسے موضوعات پر بات کریں جو لوگوں کی عملی زندگی سے متعلق ہوں۔”
علمی خدمات اور تصنیفی کام
دعوت و تبلیغ اور اصلاحی بیانات کے ساتھ ساتھ مولانا نظام الدین فخرالدین نے علمی میدان میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور اسلامی تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
ان کے شاگردوں اور چاہنے والوں کے مطابق مولانا کی گفتگو میں تاریخی حوالوں اور علمی نکات کا خوبصورت امتزاج ہوتا ہے جس سے سامعین کو نہ صرف دینی رہنمائی ملتی ہے بلکہ علمی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
بزرگوں کی دعا اور نوجوانوں کی محبت
مولانا نظام الدین فخرالدین کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بزرگوں کے نزدیک بھی قابلِ احترام ہیں اور نوجوانوں میں بھی مقبول ہیں۔ ان کے شاگرد انہیں نہایت محبت اور عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔
ان کے ایک شاگرد کا کہنا ہے:
“مولانا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر ایک سے محبت سے پیش آتے ہیں۔ ان کی بات دل میں اتر جاتی ہے کیونکہ وہ خود بھی اسی پر عمل کرتے ہیں۔”
مستقبل کے لیے پیغام
گفتگو کے اختتام پر مولانا نظام الدین فخرالدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو تعلیم اور اخلاق دونوں پر توجہ دینی چاہیے۔
وہ کہتے ہیں:
“دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ اگر ہم قرآن اور سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں تو ہمارے معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔”
وہ خصوصاً نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ علم حاصل کریں، دین سے جڑے رہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔
ایک روشن دینی روایت
پونے شہر میں مولانا نظام الدین فخرالدین کی پینتیس سالہ تفسیرِ قرآن کی روایت دراصل ایک روشن دینی روایت کی علامت ہے۔ یہ سلسلہ نہ صرف لوگوں کو قرآن کے پیغام سے جوڑ رہا ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
رمضان المبارک کی روحانی فضا میں جب تراویح کے بعد مساجد میں قرآن کی تفسیر کی صدائیں گونجتی ہیں تو یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ علم، دعوت اور اصلاح کا یہ سفر ابھی جاری ہے — اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا ذریعہ بنتا رہے گا۔
