(حافظ) افتخاراحمد قادری
عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو گرد و غبار اٹھ رہا ہے اس نے پوری دنیا کے معاشی اور سیاسی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران و امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے ہر گوشے میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ جدید دنیا میں توانائی وہ رگِ جاں ہے جس پر صنعت، تجارت، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کا پورا نظام قائم ہے۔ جب اس رگِ جاں میں خلل پیدا ہوتا ہے تو اس کی بازگشت ہر ملک کے بازاروں، گھروں اور ایوانوں تک سنائی دینے لگتی ہے۔ ہندوستان بھی اس عالمی بحران سے الگ نہیں ہے۔ اگرچہ سرکاری حلقوں کی جانب سے بار بار یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات یا گیس کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے لیکن زمینی حقیقتیں اس سرکاری دعوے کی تردید کرتی نظر آتی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے ملک کے مختلف شہروں میں گھریلو گیس سلنڈر کے حصول کے لئے طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ گیس ایجنسیوں کے باہر گھنٹوں بلکہ بعض مقامات پر دنوں تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ منظر کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی ویڈیوز اور رپورٹس اس امر کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ مسئلہ معمولی نہیں بلکہ بتدریج سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ توانائی کے میدان میں ہندوستان کی انحصاری پالیسی کوئی نئی بات نہیں۔ ملک کی ضرورت کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد ہونے والے خام تیل اور گیس پر منحصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی سطح پر کسی بھی خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات ہندوستانی معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ایران سے خام تیل کی خریداری پہلے ہی امریکی پابندیوں کے سبب محدود ہو چکی تھی۔ اب جب خطے میں جنگی فضا گہری ہوتی جا رہی ہے تو توانائی کی عالمی منڈی میں بے یقینی اور اضطراب کا ماحول پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ایسے حساس موقع پر حکومت ہند کی پالیسیوں اور حکمت عملی پر سوالات اٹھنا بھی ناگزیر ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ مودی حکومت نے خارجہ پالیسی اور توانائی کے معاملے میں خود مختاری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بڑی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا۔ جب امریکہ نے ایران سے تیل کی خریداری پر پابندی عائد کی تو ہندوستان نے بغیر کسی مؤثر سفارتی مزاحمت کے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔ بعد ازاں جب روس سے تیل خریدنے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس پر بھی امریکی ناراضی کے سائے منڈلانے لگے اور حکومت نے محتاط رویہ اختیار کر لیا۔ اس پس منظر میں اپوزیشن یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا ہندوستان جیسی بڑی معیشت کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی واشنگٹن کی اجازت درکار ہوگی؟ پارلیمنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایوان میں اپوزیشن کے ارکان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت توانائی کی موجودہ صورتحال پر واضح اور دو ٹوک موقف پیش کرے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی اس مسئلے کو شدت کے ساتھ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں واقعی گیس یا پٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے تو پھر عوام کو قطاروں میں کھڑے ہونے پر کیوں مجبور ہونا پڑ رہا ہے؟ اگر سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو سوشل میڈیا اور زمینی رپورٹس میں سامنے آنے والے یہ مناظر کس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ضروری اشیاء کی فراہمی میں معمولی سا خلل بھی پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر بازاروں میں محسوس ہونے لگتے ہیں۔ طلب و رسد کے توازن میں ذرا سی بے قاعدگی بھی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے دروازے کھول دیتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ بعض عناصر اس بحران کو اپنے مالی مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ گیس سلنڈروں کی دستیابی میں تاخیر یا کمی کی خبریں آتے ہی غیر قانونی طریقوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے واقعات بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔ اس طرح عام شہری دوہری مار کا شکار ہو جاتا ہے: ایک طرف قلت اور دوسری طرف مہنگائی۔ ملک کے مختلف شہروں سے آنے والی ویڈیوز میں عام لوگ اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ کئی دنوں سے سلنڈر دستیاب نہیں، کوئی شکوہ کر رہا ہے کہ ایجنسی والے ہر بار نئی تاریخ دے دیتے ہیں۔ بعض افراد یہ بھی بتا رہے ہیں کہ گھروں میں کھانا پکانا مشکل ہو گیا ہے اور انہیں متبادل ذرائع کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ یہ تمام مناظر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ عوامی سطح پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔
جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کو عوامی مسائل کے حل کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ فورم ہے جہاں حکومت کو اپنی پالیسیوں کا دفاع کرنا ہوتا ہے اور اپوزیشن کو سوال اٹھانے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں اپوزیشن یہ الزام لگا رہی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس اہم بحث کے دوران ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ملک توانائی کے ممکنہ بحران کے خدشات سے دوچار ہو اور عوام بنیادی ضرورت کے لئے پریشان ہوں تو وزیر اعظم کی غیر موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اسی پس منظر میں سوشل میڈیا پر ایک جملہ تیزی سے گردش کر رہا ہے ”بازار سے سلنڈر غائب ہے اور ایوان سے نریندر بھی غائب ہے“ یہ جملہ محض طنز نہیں بلکہ اس بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت ہے جو عوام کے ذہنوں میں پیدا ہو رہی ہے۔ جمہوری حکومتوں کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہوتی ہے اور یہ اعتماد شفافیت، جواب دہی اور بروقت اقدامات کے ذریعے ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت خاموشی اختیار کرے یا صرف تسلی بخش بیانات پر اکتفا کرے تو اس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نہ صرف پارلیمنٹ میں تفصیلی وضاحت پیش کرے بلکہ ملک کے سامنے توانائی کے شعبے سے متعلق اپنی طویل المدت حکمت عملی بھی واضح کرے۔ ہندوستان جیسے بڑے اور تیزی سے ترقی کرنے والے ملک کے لئے توانائی کی پائیدار فراہمی ایک بنیادی قومی ضرورت ہے۔ اس کے لئے متنوع ذرائع، مستحکم سفارتی تعلقات اور مضبوط داخلی انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر واقعی کہیں سپلائی چین میں رکاوٹیں ہیں تو انہیں فوری طور پر دور کیا جانا چاہئے۔ اگر ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری ہو رہی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ اور اگر عالمی حالات کے سبب وقتی مشکلات پیدا ہوئی ہیں تو حکومت کو صاف گوئی کے ساتھ عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ عوام کو محض تسلی کے الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں۔ کیونکہ جب چولہے ٹھنڈے ہونے لگیں اور ضروری اشیاء کے لئے قطاریں لمبی ہونے لگیں تو سیاسی بیانات سے زیادہ اہمیت ٹھوس فیصلوں کو حاصل ہو جاتی ہے۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومت صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرے، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے اور عوام کے سامنے حقیقت اور حکمت عملی دونوں کو واضح کرے۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ سوال مزید شدت اختیار کرتا جائے گا کہ جب بازار میں سلنڈر نایاب ہو رہے تھے تو ایوان میں حکومت کی آواز کیوں سنائی نہیں دے رہی تھی۔
ایسے حالات میں اصل سوال صرف حکومت یا اپوزیشن کی سیاست تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا تعلق براہِ راست عوامی زندگی کے اُس بنیادی حق سے جا ملتا ہے جسے معاشی استحکام اور روزمرہ سہولتوں کی فراہمی کہا جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں مہنگائی کی رفتار بے قابو ہونے لگے، ضروری اشیاء کی دستیابی غیر یقینی بن جائے اور عام آدمی کو اپنے ہی ملک کے بازاروں میں بنیادی ضروریات کے لئے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ سماجی اضطراب اور عوامی بے چینی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ آج ہندوستان کے مختلف شہروں میں گیس سلنڈر کے لئے قطاروں میں کھڑے لوگ دراصل صرف ایک ایندھن کے حصول کے لئے نہیں بلکہ اپنے روزمرہ وقار اور معاشی تحفظ کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور نچلے طبقے پر پڑتا ہے۔ وہ طبقہ جو محدود آمدنی کے ساتھ اپنے گھر کا نظام چلاتا ہے، جب پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو اس کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ، روزمرہ استعمال کی اشیاء حتیٰ کہ تعلیم اور علاج تک ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ اس طرح مہنگائی ایک ایسا سلسلہ بن جاتی ہے جو معاشرے کے کمزور طبقات کو بتدریج معاشی دباؤ کے ایسے دائرے میں قید کر دیتا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔ ایسے میں عوام کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کریں لیکن اس آواز کو شعور، نظم اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رکھیں۔ جمہوری معاشروں میں عوام کی بیداری ہی وہ اصل قوت ہوتی ہے جو حکمرانوں کو جواب دہ بناتی ہے۔ جب شہری اپنے مسائل کو اجتماعی طور پر سمجھتے ہیں، پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں سے جواب طلب کرتے ہیں اور پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں تو یہی عمل ایک صحت مند جمہوری روایت کو جنم دیتا ہے۔ ضروری ہے کہ عوام جذباتی ردِعمل کے بجائے باشعور طرزِ فکر کو اپنائیں۔ اپنے نمائندوں سے سوال کریں کہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے طویل المدت حکمت عملی کیا ہے، مہنگائی کے طوفان کو روکنے کے لئے کون سی معاشی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے اور ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے انتظامی سطح پر کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن یہی ہے کہ شہری اپنے ووٹ اور اپنی آواز کے ذریعے حکومت کو جواب دہ بنا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی معاشرے کے مختلف طبقات میں باہمی ہمدردی اور اجتماعی شعور کو فروغ دیا جائے۔ ایسے بحرانوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عناصر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے ذریعے عوامی مشکلات کو اپنے فائدے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر معاشرہ اجتماعی طور پر اس ذہنیت کو مسترد کر دے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کریں تو ایسے غیر اخلاقی رجحانات کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ایسے میں میڈیا اور باشعور قلم کاروں کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ صحافت کا بنیادی فریضہ یہی ہے کہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان ایک ذمہ دار پل کا کردار ادا کرے۔ مسائل کی نشاندہی کرے، سوالات اٹھائے اور حقائق کو عوام کے سامنے اس انداز میں پیش کرے کہ معاشرے میں فکری بیداری پیدا ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ایک صحت مند جمہوری مکالمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی قوم صرف حکومت کے فیصلوں سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی شعور اور قومی کردار سے آگے بڑھتی ہے۔ اگر عوام باشعور ہوں، اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنائیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی دیرپا نہیں رہتا۔ مگر اگر خاموشی اور بے حسی غالب آ جائے تو مسائل وقت کے ساتھ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ عوام حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیں، جذبات کے بجائے شعور کی روشنی میں اپنی رائے قائم کریں اور جمہوری طریقوں کے ذریعے حکومت سے جواب طلب کریں۔ کیونکہ جب مہنگائی کا بوجھ روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنے لگے اور بنیادی ضروریات کے لئے قطاریں لمبی ہونے لگیں تو خاموشی مسئلے کا حل نہیں بنتی۔ ایسے میں باشعور سوال، اجتماعی بیداری اور جمہوری احتساب ہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو بحران سے نکال کر استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
