محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ جادوئی موبائل :۔
اس نے سراٹھا کر دیکھاتو آس پاس کاماحول بدلا بدلا نظر آیا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر نیچے گرپڑا۔ ضعیفی کے باعث جھک کر اس موبائل کو اٹھانہ سکا۔ اچانک چیخ نکل گئی۔ اس چیخ پر ایک لڑکا تیزی سے آیا اور آکر اس نے موبائل اٹھاکر ضعیف شخص کے حوالے کیا۔
ضعیف شخص سمجھ نہیں سکاکہ یہ لڑکا کون ہے ؟لڑکے سے پوچھنے پر بتایاکہ’’ میں آپ کا پوتاہوں‘‘۔ ضعیف شخص نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا’’اچھا تم میرے پوتے ہو؟‘‘وہ بڑے تعجب سے لڑکے کو دیکھتے ہوئے سوچ رہاتھاکہ ’’وقت کس تیزی سے آگے نکل گیا، مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ موبائل بھی جادوگر ہے جادوگر ‘‘ وہ بڑا بڑا نے لگا۔
۲۔ خاندانی تعارف :۔
ایجنڈے میں ’’خاندانی تعارف‘‘ کااضافہ اچانک کردیاگیاتھا۔جس کے تحت ضلع بھر سے آئے تنظیمی کیڈر نے اپناتعارف کروانا شروع کیا۔’’ میرانام ولی حسینی ولد امجد اللہ حسینی ہے۔ والد ہائی اسکول کے صدر مدرس ہیں۔ داداکانام شمس الحق حسینی مرحوم ہے، انھیں آج بھی لینڈ لارڈ کہاجاتاہے ۔ اسی شہر کی میری پیدائش ہے۔ یہاں کے مشائخ زادوں میں شمار ہوتے ہیں ہم لوگ ۔ ہم پانچ بھائی نبی حسینی ، علی حسینی ، نقی حسینی ، ولی حسینی اورصبیح حسینی ہیں۔ بھائیوں میں میرانمبر چوتھاہے۔ نبی حسینی بڑے بھائی انجینئر ہیں، جن کے تین بچے ہیں۔علی حسینی بھی انجینئر ہیں۔ بچے نہیں ہیں۔ نقی حسینی خاندانی جائیداد دیکھنے پر مامور ہیں۔ ایک لڑکا اورایک لڑکی ہیں، لڑکی پولیو کاشکار ہے۔ صبیح حسینی چھوٹے بھائی ہیں۔ میونسپلٹی میں ملازم ہیں۔ تین لڑکے ہیں ‘‘
اتنا کہہ کر ولی حسینی بیٹھ گئے تو کہا گیا ’’اپنی بہنوںا وربہنوئیوں سے بھی واقف کرائیں ‘‘ وہ اٹھے اور انھوں نے بتایاکہ’’میری تین بہنیں ہیں ۔ بڑی بہن کے شوہراقرار سبحانی لیکچرر ہیں۔ ان کو تین لڑکے ہیں۔دوسری بہن کے شوہر منظر احمدبے روزگار ہیں ، پانچ بچے ہیں ۔ تیسری بہن کے شوہر عنایت اللہ کی کرانہ کی دوکا ن ہے۔ انہیں ایک لڑکی ہے‘‘
اسی انداز میں سبھی کو اپناخاندانی تعارف کروانا تھا۔اس تعارف میں پورا ایک دن لگ گیا۔ بڑا بور پروگرام تھا۔ صاف نظر آرہاتھاکہ شرکاء کو اپنے خاندان کاتعارف کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دوسرے دن اس پروگرام سے متعلق تقریر کرتے ہوئے خصوصی مہمان بن کرآئے تنظیم کے ریاستی صدر نے کہا’’ کل کا پروگرام بور رہا۔ کتنے افراد یہ مانتے ہیں کہ کل کاپروگرام خالص بورنگ تھا، ہاتھ اٹھائیں ‘‘ آدھاسے زیادہ افراد نے ہاتھ اٹھادیا۔
ریاستی صدر ڈاکٹر احمد اللہ نے بتایاکہ تنظیم کے نزدیک سب سے اہم پروگرام یہی ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ ہماری تنظیم میں ایک دوسرے کے خاندان کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔جس کی وجہ سے آپس میں وہ سماجی تعلق پید اہونہیں پارہاہے جو تنظیم اور اسلام کو مطلوب ہے۔ حیرت ہمیں یہ بھی ہے کہ ایک محلہ میں رہنے والے ہماری تنظیم کے افراد ایک دوسرے کے خاندان سے ناواقف ہیں۔ انٹرنیٹ کی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں اور وہاں کے افراد سے شناسائی اوردوستی ہورہی ہے لیکن اپنے ہی تنظیمی ساتھیوں کے بھائی بہنوں یعنی ان کے رشتہ داروںسے ہم ناواقف ہیں، یہ بتانے کے لئے ہاتھ اٹھائیں کہ کتنی شاخوں کے مقامی افراد ایک دوسرے کے خاندان سے پوری طرح واقف ہیں ؟‘‘800افراد کے مجمع سے پچیس افراد نے ہاتھ اٹھائے ۔
ریاستی صدر نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کردی کہ ’’ مجھے اتنی کم تعداد پر کوئی حیرت نہیں ہے ۔ بہرحال ابتداء میں بہت کچھ چیزیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں، آگے چل کر اس پروگرام کی اہمیت سے سبھی واقف ہوجائیں گے، جب کبھی ضلع سطح ہی نہیں تعلقہ سطح اور شہری ودیہی سطح کے پروگرام ہوں گے ، خاندانی تعارف ہمارے پروگرام کاجز ہوگاان شاء اللہ‘‘ضلع سطح کا یہ سہ روزہ پروگرام ختم ہواتو مجھے احساس ہواکہ میں بہت سارے افراد کے خاندان سے واقف ہی نہیں تھا۔ وقفہ کے دوران جب دوتین افراد سے پتہ چلاکہ فلاں اور فلاں ان کے بھائی اور بہنوئی ہیں تو مجھے مسرت ہوئی ۔ میرے خیال میں یہ ایک اچھا پروگرام تھا۔ ایک دوسرے کو جاننے اور ایک دوسرے کے خاندان کوسمجھنے کا۔آپ کیا کہتے ہیں ضرور بتائیں ۔ ورنہ ہماری تنظیم میں اب تک صرف اپنا ہی تعارف کرانے کارواج تھا۔ یہاں تک کہ والد کاتعارف بھی نہیں کرایاجاتاتھا۔
۳۔قتلِ دیانت
’’اس میں کیابڑی بات ہے ، میں لکھ دیتاہوں‘‘ ابھرتے ہوئے صحافی نشاح صمدانی نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے ان کے کتاب کامسودہ لینا چاہاتو پروفیسر علی نے اپناہاتھ کھینچ لیا اور کہا’’نہیں ، آپ نہیں ، ویسے میں دیکھ رہاہوں ایک ماہ کے اندر آپ نے دس گیارہ طویل طویل مضامین لکھے ہیں، لیکن مجھے طوالت پسند نہیں ہے ‘‘
میں حیران ہوااور خاموش بھی رہا۔ نشاح صمدانی کے جانے کے بعد میں نے پروفیسر علی سے پوچھ لیاکہ کیابات ہے پروفیسر صاحب ، اپنامسودہ صمدانی کے حوالے کرنے سے ہاتھ کھینچ لیاآپ نے ‘‘
پروفیسر علی کے چہرے پر فکرمندی تھی ۔ انھوں نے کہا’’یہ شخص آرٹی فیشنل انٹلی جنس کے ذریعہ مضامین لکھتاہے اوراپنانام استعمال کرتاہے۔ اس سے لکھوانا دراصل ادبی دیانت داری کے قتل میں خود بھی شامل ہونا ہے ‘‘پروفیسر علی میرے پاس سے اٹھے اورچل دئے ۔طبیعت شاید مکدر ہوگئی تھی ان کی۔
