محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔ موبائل :9141815923
۱۔ شعور کی موت
شعور کی موت واقع ہوچکی تھی۔ اس پر رونے والا لوگ نہیں تھے البتہ کبھی کسی کے رونے کی آواز آجاتی تھی۔بھیانک سناٹاتھااور تاریکی بڑھ رہی تھی۔ بموں اور میزائل کے گرائے جانے کی تیاریاں کہیں دور کے ملکوں میں ہورہی ہیں۔جس کی آہٹ سننے والا کوئی نہ تھا۔
۲۔ ملاقات
ہم پھرملائے گئے ۔ ہم نے ایک دوسرے کودیکھا۔ 100افراد کے اس گروپ میں آدھے سے زیادہ پوری طرح بدل چکے تھے۔ ایک دوافرادکی تنقیدی بصیرت میں اضافہ ہواتھا۔ پانسات افراد قائدانہ اندازفکر رکھنے لگے تھے۔ 10افراد کی سوچ میں تفکر کا عنصر غالب تھا۔ نیاکچھ کرنا چاہتے تھے۔ تقریباً9افراد کی صالحیت میں اضافہ ہوچکاتھا۔ دویاپھر تین ایسے تھے جو سوشیل میڈیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے تھے اور اس کے استعمال کے ذریعہ نظریہ کو غالب کرنے کی فکر سے لیس تھے۔غیریکسو اور بے چین روحیں بھی نظر آتی تھیں۔
باقی افراد سے متعلق راوی نے چین ہی لکھاہواہے۔
۳۔ وہ اک سجدہ
کافی وقت خالی پڑاتھا۔ عجیب سالگا۔اکیسویں صدی کی مصروف ترین زندگی کو خالی وقت کامیسر آنا ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔ جب کہ اس خالی وقت کے درمیان سکون بھی میسرہو۔اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا، اس نے اپنے آپ کو سجدہ میں ڈال دِیا۔
۴۔پرائشچت
پکی روشنائی سے لکھتے لکھتے اوب گئے تو آوازکااستعما ل کیا۔ پھر اس کے بعد متحرک تصویروں کے طوفانِ بدتمیزی نے معاشرتی پلیٹ فارم کوپوری طرح غارت کرکے رکھ دیا۔ اس کو محسوس کرنے اور اس طوفانِ بدتمیزی پر لگام کسنے کے لئے کوئی تیارنہیں ہے بلکہ یہ طوفانِ بدتمیزی بہتی گنگا بنتا جارہاہے جس میں ہرایرا غیرا نتھوخیراڈبکی لگاکر اپنے جانے کون سے پاپوں کاپرائشچت کررہاہے
۵۔ میدانِ عمل
میں نے شکویٰ کیا’’ہم عمل کے میدان میں بہت پیچھے ہیں ‘‘
امیرصاحب مسکرائے اور کہا’’نبی کریم ﷺ کے پیچھے رہنے کی سعادت ایک عظیم سعادت ہے ، اس کو محسوس کریں ، باقی رہ گئی بات عمل سے پیچھے رہ جانے کی ،تو عرض یہ ہے کہ کسی چیزکا ہونایا نہ ناہونا، رب ِ کریم کے ہاتھ ہے، جواس کاالٰہی منصوبہ ہے۔ ایسے میں ملال کس لئے ؟‘‘
مجھے کچھ کہتے بن نہ سکا۔
۶۔ ظالم کی مار
صبح کی واک کے بعد چائے کیلئے ہوٹل پہنچاتو تین سال بعد مولوی نعیم احمد کو دیکھا۔اپنے دودوستوں کے ساتھ چائے نوش فرمارہے تھے ۔ مجھے دیکھ کرکہا’’آئیے، آئیے، چائے پیتے ہیں، عرصہ ہواملاقات ہوا‘‘ میں ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ باتیں چل نکلیں تو مولوی نعیم احمد بولے ’’سناہے کہ تحریک ، تحریک کہتے رہتے ہو۔کچھ تحریکیت بھی ہے یاایسے ہی ڈھول بجارہے ہوتاکہ شور مچا رہے‘‘
میں نے کہا’’ خیال کے دینے والے رب نے تحریک کاخیال دیاتو تحریک تحریک کہہ دیاورنہ پھر دنیاداری میں مگن ہوگئے ‘‘
مولوی نعیم احمد نے پورے جوش سے اٹھ کرمجھے اپنے گلے سے لگالیا اور کہا’’راست گوئی جیسی نعمت سے تمہیں نوازاگیاہے ۔ اس کی قدر کرتے رہو،آج صبح ہی صبح تم نے میرا دل جیت لیا‘‘
میں نے کہا’’مجھے خیال دینے والے نے تمہارے ذہن میں مجھ سے متعلق مثبت خیال ڈال دیا۔ ورنہ اس میں میراکوئی رول وول نہیں ہے ‘‘مولوی نعیم احمد نے ران پر ہاتھ مارکرچیختے ہوئے کہا’’ظالم ، آج تو تونے نعیم احمد کومارہی ڈالا‘‘میں نعیم احمد کے جوش وولولہ کو سمجھنے سے قاصر تھا۔
۷۔ NRIسفیر
’’واپس گلف جارہے ہونا؟‘‘ میں نے پوچھا تو خان مظہر نے کہا’’کل جارہاہوں ‘‘ میں نے انھیں سفر کی کامیابی کے لئے دعا دیتے ہوئے ان سے استدعا کی کہ براہ کرم !اسلام کی دعوت اور تبلیغ سے متعلق جو کچھ یہاں دیکھاہے اس کو وہاں جاکر پازیٹو وے میں پیش کریں ‘‘
خان مظہر نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا’’جو کچھ دیکھاہے ، وہ بتادوں گا۔ نہ کم نہ زیادہ ‘‘مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا’’ہرسال وطن آکرٖغریب الوطنی کیلئے دوبارہ لوٹ جانے والے آپ جیسے NRIسفیرپانسات دن میں کس طرح جان سکتے ہو کہ یہاں اسلام کی دعوت و تبلیغ کس طرح ہورہی ہے ؟جو کچھ دیکھا بیان کرنے کے ساتھ ساتھ جو نہیں دیکھ سکے ہیں اس پر بھی وہاں اپنی رائے پیش کرنا چاہیے۔ آپ نے ہمیں تو دیکھاہے لیکن ہم پر ہونے والے مظالم اور ہمارے حوصلوں کواندر ہی اندرتوڑکر رکھ دینے والے خطرناک منصوبے نہیں دیکھے ہوں گے، سناتوہوگا ۔آخر ان مظالم اورخطرناک منصوبوں کو کب پیش کروگے ؟نہ کم نہ زیادہ ؟‘‘ آخری جملہ پر میرالہجہ سخت ہوگیاتھا۔
خان مظہر کچھ نہ بولے۔ مجھ سے ہاتھ ملاکررخصت ہوگئے۔شاید سفر کی تیاری باقی تھی۔
