جاوید جمال الدین 

مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تقریباً 92.90 فیصد ووٹنگ کا ریکارڈ قائم ہونا بظاہر جمہوری جوش و خروش کی ایک غیر معمولی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں کئی ایسے عوامل کارفرما ہیں جن کا سنجیدہ، تحقیقی اور تنقیدی جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ یہ شرح نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ ہندوستانی انتخابی تاریخ میں بھی ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ آیا یہ محض عوامی بیداری کا مظہر ہے یا اس کے پیچھے انتخابی فہرستوں میں تبدیلی، سیاسی حکمتِ عملی اور سماجی بے چینی جیسے عناصر بھی کارفرما ہیں؟
اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو مغربی بنگال ہمیشہ سے زیادہ ووٹنگ کی شرح رکھنے والی ریاستوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ 2016 کے اسمبلی انتخابات میں تقریباً 82 فیصد جبکہ 2021 میں کووِڈ-19 کے باوجود تقریباً 81 تا 82 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔ شمال مشرقی ریاستوں جیسے تریپورہ اور ناگالینڈ میں بھی عموماً 80 سے 85 فیصد کے درمیان ووٹنگ ہوتی رہی ہے۔ ایسے میں 92 فیصد سے زائد ووٹنگ ایک غیر معمولی اضافہ ہے، جسے صرف عوامی بیداری سے جوڑ دینا ایک سادہ لوحی ہوگی۔
اس غیر معمولی اضافے کی ایک اہم وجہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی ’’خصوصی جامع نظر ثانی‘‘ (Special Intensive Revision – SIR) کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر تقریباً 91 لاکھ ووٹرس کے نام انتخابی فہرست سے حذف کیے گئے۔ اگر اس اعداد و شمار کو درست مان لیا جائے تو یہ ریاست کے کل ووٹرس کا تقریباً 11 سے 12 فیصد بنتا ہے، جو ایک بہت بڑا تناسب ہے۔ اس حذف شدگی نے نہ صرف ووٹرس کی مجموعی تعداد کو کم کیا بلکہ ووٹنگ فیصد کو بظاہر بڑھا ہوا دکھانے میں بھی کردار ادا کیا۔ یعنی اگر ووٹر لسٹ مختصر ہو جائے تو نسبتاً کم تعداد میں ڈالے گئے ووٹ بھی زیادہ فیصد کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی اور حساس سوال پیدا ہوتا ہے،آیا یہ حذف شدگی مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور قانونی تھی؟ انتخابی فہرست سے بڑے پیمانے پر ناموں کا حذف ہونا جمہوری عمل کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اس کا اثر کسی مخصوص طبقے یا علاقے پر زیادہ پڑا ہو۔ مختلف رپورٹس اور سیاسی بیانات میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس عمل سے اقلیتی اور کمزور طبقات زیادہ متاثر ہوئے، حالانکہ اس کی آزادانہ تصدیق ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئی۔
اسی تناظر میں ’’احتجاجی ووٹنگ‘‘ کا تصور بھی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ جن ووٹرس کے نام فہرست میں باقی رہ گئے، انہوں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کو اپنی ذمہ داری سمجھا تاکہ وہ اس ممکنہ ناانصافی کے خلاف ایک علامتی احتجاج درج کرا سکیں۔ یہ رجحان جمہوری شعور کی ایک مثبت علامت ضرور ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت کی کامیابی صرف ووٹنگ کی بلند شرح سے نہیں بلکہ اس عمل پر عوام کے اعتماد سے جڑی ہوتی ہے۔
سیاسی اعتبار سے یہ انتخابات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے قومی سطح پر اپنی گرفت مضبوط کر چکی ہے اور اب بنگال جیسے اہم ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہاں ہے، جبکہ دوسری طرف ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) ہے جو ریاست میں اپنی سیاسی بقا اور تسلسل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس سخت مقابلے نے دونوں جماعتوں کو اپنی پوری قوت جھونکنے پر مجبور کیا، جس کا نتیجہ ووٹنگ کی بلند شرح کی صورت میں سامنے آیا۔
انتخابی مہم کے دوران استعمال ہونے والا بیانیہ بھی اس رجحان کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے ’’دراندازوں‘‘ کا مسئلہ، سرحدی سلامتی، اور یکساں سول کوڈ (یوسی سی) جیسے موضوعات کو شدت سے اٹھایا گیا، جبکہ ٹی ایم سی نے خود کو بنگالی شناخت، سیکولر اقدار اور علاقائی خودمختاری کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔ اس نظریاتی اور سیاسی کشمکش نے ووٹرس کو غیر معمولی حد تک متحرک کیا۔
خصوصاً اقلیتی ووٹرس کا کردار اس انتخاب میں نہایت اہم رہا۔ مغربی بنگال میں مسلمان تقریباً 30 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، جبکہ بعض اضلاع میں ان کی تعداد 50 سے 60 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس بار انتخابی ماحول میں پائی جانے والی بے چینی، خاص طور پر ’’درانداز‘‘ کے بیانیے اور ممکنہ پالیسی تبدیلیوں کے خدشات نے اقلیتی ووٹرس کو زیادہ منظم اور متحرک انداز میں ووٹنگ کے لیے آمادہ کیا۔ یہ ووٹنگ محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ اپنے حقوق، شناخت اور مستقبل کے تحفظ کی ایک شعوری کوشش کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
تحقیقی مطالعات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جب کسی طبقے کو اپنے حقوق یا وجود کے بارے میں خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اس کی سیاسی شرکت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی رجحان بنگال کے اس انتخاب میں بھی نظر آتا ہے، جہاں اقلیتی ووٹرس نے بڑی تعداد میں نکل کر اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا۔
دوسری جانب، بی جے پی اس بلند ووٹنگ فیصد کو اپنے حق میں تعبیر کر رہی ہے اور یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ زیادہ ووٹنگ عموماً اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ تاہم، انتخابی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ اصول ہر جگہ نافذنہیں ہوتا، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں علاقائی جماعتیں مضبوط جڑیں رکھتی ہیں۔ بنگال میں بھی مقامی شناخت، زبان اور ثقافت کا عنصر انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو سیکورٹی فورسیز کی غیر معمولی تعیناتی ہے۔ مرکزی فورسیز کی بڑی تعداد میں موجودگی نے بظاہر انتخابی عمل کو پرامن بنانے میں مدد دی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایک نفسیاتی ماحول بھی پیدا کیا جسے بعض مبصرین ’’سنگینوں کے سائے میں الیکشن‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں ووٹرس کی شرکت کو صرف رضاکارانہ جوش و خروش کا نتیجہ قرار دینا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
اعداد و شمار کے تجزیے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ووٹنگ فیصد میں اضافے کا ایک بڑا حصہ تکنیکی عوامل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام حذف ہو جائیں تو فیصدی اعتبار سے ووٹنگ بڑھنا ایک فطری نتیجہ ہے۔ اس لیے محض فیصد کے اعداد کو دیکھ کر کسی سیاسی رجحان کا حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
آئندہ دوسرا مرحلہ، جو 29 اپریل کو منعقد ہوگا، اس پورے انتخابی عمل کے نتائج اور رجحانات کو مزید واضح کرے گا۔ اس مرحلے میں ووٹنگ کی شرح، مختلف علاقوں میں ٹرن آؤٹ کا موازنہ، اور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی یہ طے کرے گی کہ آیا پہلے مرحلے کی بلند ووٹنگ کسی خاص سیاسی رجحان کی عکاس تھی یا محض مخصوص حالات کا نتیجہ۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مغربی بنگال کے اس انتخابی مرحلے نے ہندوستانی جمہوریت کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ ایک طرف یہ عوامی بیداری، سیاسی شعور اور جمہوری شرکت کی ایک مثبت مثال ہے، تو دوسری طرف یہ انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹ کی درستگی اور ریاستی اداروں کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس کی بنیاد شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ اگر ان بنیادوں میں کمزوری آ جائے تو بلند شرحِ ووٹنگ بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ مغربی بنگال کا یہ انتخاب ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک مضبوط اور شفاف جمہوری نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ہمیں ابھی بھی بہت سے بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے