اعداد :محمد وسيم راعين 

انسان کو زندگی گذارنے کے لیے ذریعے معاش کی ضرورت ہے – شریعت حلال کمانے، حلال وپاک روزی کھانے کی ترغیب دلاتی ہے اور حرام و مشتبہ کمائی سے منع کرتی ہے اور اس کے نقصانات بھی بتلاتی ہے۔

کاروبار و تجارت، حلال کمائی کا ایک اہم ذریعے ہے – جس قدر یہ بہتر اور عمدہ ذریعہ معاش میں سے ہے اسی قدر اس میں اتنی ہی کوتاہیاں ہوتی ہیں – اسی لیے کاروبار میں صدق و امانت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے – کاروبار میں صدق کی ترغیب دلانے کے لیے شریعت نے کاروبار میں سچائی اور امانت داری برتنے والے تاجروں کی بڑی فضیلت بتائی ہے –

اسلاف نے زندگی کے ہر معاملے میں شرعی احکام کی پاسداری کرتے ہوئے صدق، امانت داری و پرہیزگاری کے اعلی سے اعلی نمونے چھوڑے ہیں جو بعد میں آنے والے کے لئے مشعل راہ ہیں –

تاریخِ اسلام میں تجارت کے باب میں بہترین نمونوں میں سے ایک عظیم مثال و نمونہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے، جو نہ صرف ایک بڑے فقیہ تھے بلکہ ایک کامیاب اور دیانت دار تاجر بھی تھے۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے، ان کا کاروبار ایک شہر سے دوسرے شہر تک پھیلا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ ان کے پاس کپڑے کا ایک مال آیا جس میں کچھ عیب تھا۔ انہوں نے اپنے نمائندے کو لکھ کر ہدایت دی کہ جب یہ کپڑا بیچنا تو خریدار کو اس کے عیب کے بارے میں ضرور بتا دینا –  نمائندہ نے کپڑا تو فروخت کر دیا لیکن خریدار کو اس کے عیب کے بارے میں بتانا بھول گیا۔ جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا تم نے خریدار کو عیب کے بارے میں بتایا تھا؟”نمائندہ نے جواب نفی میں دیا۔

یہ سن کر انہوں نے اس کپڑے کی ساری قیمت اپنے مال سے نکال کر اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا تاکہ کسی مشتبہ یا ناجائز کمائی کا اثر ان کے مال میں باقی نہ رہے۔ (تاریخ بغداد)

قارئین کرام!

ایک چیز تقوی ہوتی ہے جس کا سیدھا سادہ معنی و مفہوم اللہ کے احکامات کو بجا لانا اور حرام و ناجائز کو چھوڑ دینا ہے ۔ تقوی سے اوپر کی چیز ورع ہے جو تقویٰ سے آگے کا درجہ ہے- اس میں انسان صرف حرام سے نہیں بچتا ہے بلکہ حرام سے آگے جس چیز میں شک و شبہ ہو جائے اس سے بھی بچ جاتا ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو نصیحت فرمائی: ” دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ” "جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو، اور وہ اختیار کرو جس میں شک نہ ہو” -(ترمذی:2518،نسائی :5711)

سیرت و تاريخ ورع و پرہیزگاری کے واقعات سے بھری پڑی ہیں – صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی بہت سی مثالیں منقول ہیں – جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ایک بار اپنے غلام کا لایا ہوا دودھ پی لیا، پھر آپ نے پوچھا کہ دودھ کہاں سے لاۓ؟  تو اس نے بتایا کہ زمانے جاہلیت میں وہ کہانت کرتا تھا جس کی اجرت اسے اب ملی ہے اسی پیسے سے وہ دودھ لایا تھا – تو آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً قے کر کے وہ دودھ نکال دیا اور فرمایا کہ حرام چیز جسم میں رہنے نہیں دوں گا۔ کیونکہ شریعت میں کہانت حرام ہے۔

ایمان والی زندگی میں ورع بہت ضروری ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: ان کے والد اسماعیل بن ابراہیم رحمہ اللہ نے وفات کے وقت فرمایا:میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایک حرام درہم بھی اپنے گھر میں داخل نہیں ہونے دیا ، حرام تو دور کی بات بلکہ جس درہم میں بھی حلال و حرام کے بارے میں شک ہوا اسے بھی نہیں لایا۔

واقعہ سے حاصل ہونے والے اسباق:

(1) عظیم شخصیت کا پہلو:

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی عظمت صرف علم میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔

(2) پرہیزگاری کا اعلیٰ درجہ:

صرف حلال و حرام کا خیال رکھنا کافی نہیں، بلکہ شبہ والی چیزوں سے بھی بچنا ضروری ہے، یہ ایمان کا بہت اہم درجہ ہے – اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور تقویٰ سے آگے بڑھ کر تقویٰ کے کمال کو پہنچنا یہ درجہ آدمی کے اندر آنا چاہیے۔ آدمی جب شک و شبہ والی چیز سے بچ جاتا ہے تو حرام سے بچنا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ لہذا ہمیں پہننے، اوڑھنے، کھانے، پینے میں صرف حرام سے بچنے کی فکر ہی نہیں بلکہ جس میں شک و شبہ ہو اس سے بھی بچنے کی فکر کرنا چاہیے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ” إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ…” :’’ بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی… ۔‘‘

 آج کے دور میں حرام کئی راستوں سے داخل ہوتا ہے، اس لیے انسان کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

(3) یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی میں حلال و حرام کی تمیز چاہتے ہیں تو ہمیں صرف حرام سے بچنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ شبہ والی چیزوں سے بھی دور رہنا چاہیے۔ یہی حقیقی تقویٰ اور کامیابی کا راستہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے