✍️ ابوالحسنات قاسمی
فراقِ استاد کا کرب اور شعورِ تعلق:
عشق را نازم کہ از بیتابئ روزِ فراق
جانِ ما را بست با دردِ تو پیوندے دگر
اہلِ دل پر یہ حقیقت ہمیشہ منکشف رہی ہے کہ فراقِ اکابر و اساتذہ کا صدمہ محض جدائی کا احساس نہیں ہوتا، بلکہ وہ دل و جاں کے رشتوں کو ایک نئے درد سے آشنا کر دیتا ہے۔ یہی درد، تعلق کی گہرائی اور محبت کی صداقت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ راقم کے نہایت محترم استاد، جناب قمر عثمانی صاحب کے ارتحال کی خبر نے قلب و نظر کو گہرے حزن میں ڈبو دیا اور گوشۂ دل میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس کا پُر ہونا دشوار دکھائی دیتا ہے (إنّا للّٰه و إنّا إليه راجعون)۔ ان کی رحلت صرف ایک عظیم معلم کے فقدان کا نوحہ نہیں، بلکہ علم، شفقت اور اخلاص کے ایک روشن باب کے اختتام کا اعلان بھی ہے، جس کی بازگشت دیر تک اہلِ علم کے دلوں میں سنائی دیتی رہے گی۔
چراغِ علم: آج علم و فضل کا ایک روشن چراغ گل ہوگیا، اور امت ایک ایسے مردِ درویش، صاحبِ کردار عالم سے محروم ہوگئی جن کی حیاتِ طیبہ سراپا اخلاص، خدمت اور للّٰہیت کا مرقع تھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ علم و عمل کا ایک درخشاں باب بند ہوگیا، اور ایک تابندہ روایت اپنے ایک امین سے خالی ہوگئی۔
حقیقتِ موت: موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے کسی کو مفر نہیں، تاہم بعض شخصیات کی جدائی دلوں پر ایسے گہرے نقوش ثبت کر جاتی ہے جو مدتوں مٹائے نہیں مٹتے۔ حضرت مولانا قمر عثمانی صاحبؒ بھی انہی باکمال ہستیوں میں سے تھے جن کی رحلت نے اہلِ علم و دل کو سوگوار کر دیا۔ ؎
آں فقیرانے کہ ایں جا میروند
ہر یکے صاحب قرانے دیگرست
شخصیت کا پیکر: حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب کا اسمِ گرامی گوش گزار ہوتے ہی ذہن کے افق پر ایک نہایت دلنشیں اور باوقار پیکر ابھرتا ہے، ایک ایسی پاکیزہ طینت ہستی، جو اخلاص، صدق و صفا کا مجسم نمونہ تھی۔ تواضع و انکسار آپ کا شیوہ، اور سادگی و وقار آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ ظاہر و باطن کی کامل ہم آہنگی آپ کی شخصیت کی پہچان تھی، اور آپ اپنی سیرت و کردار کے اعتبار سے عہدِ رفتہ کی ایک جیتی جاگتی یادگار معلوم ہوتے تھے۔
خاندانی پس منظر اور علمی نسبت:
آپ کا تعلق دیوبند کے معزز اور علمی خانوادے، (شیخ زادگان) عثمانی خاندان سے تھا۔ آپ دار العلوم وقف دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے آخری شاگرد تھے۔
تعلیم و تدریس کا روشن سفر: ما شاء اللّٰہ! آپ نے نو دہائیوں سے متجاوز (تقریباً 92 برس) عمر پائی۔ سنہ 1935ء میں دیوبند کے محلہ ابو البرکات میں تولد ہوا۔ ابتدائی تعلیم کاندھلہ میں حاصل کی، جہاں آپ کے والد ماجد، جناب ماسٹر محمد کامل عثمانیؒ، سرکاری ملازمت سے وابستہ تھے۔ بعد ازاں دارالعلوم دیوبند سے 1952ء میں سندِ فضیلت حاصل کی، اور پھر عمر بھر تدریس و تعلیم کے مقدس فریضے سے وابستہ رہے۔
دارالعلوم وقف دیوبند سے آپ کا تعلق ابتداء ہی سے استوار رہا۔ مختلف درجات میں متعدد کتب کی تدریس فرمائی، اور دورۂ حدیث شریف میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ کی درسگاہ علم کا گہوارہ اور طلبہ کے لئے فیض رسانی کا مرکز تھی۔
سعادتِ تلمذ: راقم السطور کو بھی آپ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔ سن 1987ء میں جب راقم دارالعلوم وقف میں عربی پنجم کا طالب علم تھا، اس وقت "مقاماتِ حریری” آپ کے زیرِ درس تھی۔ اس زمانے میں تعلیمی سلسلہ جامع مسجد دیوبند میں جاری تھا، اور آپ کا درس نہایت دلنشیں، مؤثر اور علم و ادب کا حسین امتزاج ہوا کرتا تھا۔
ذوقِ شعر و ادب: آپ کو شعر و ادب سے فطری مناسبت تھی۔ آپ ایک ایسے برجستہ گو، قادر الکلام بلکہ فی البدیہہ شاعر تھے، جنہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، تاہم نعت گوئی سے آپ کو خاص شغف تھا۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ "نور و نکہت” اربابِ ذوق میں مقبول ہوا، اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی آپ کے کلام کی گونج سنائی دیتی رہی۔
شفقت و تربیت کا انداز: آپ کا مزاج نہایت نرم اور شفقت سے لبریز تھا۔ طلبہ کے ساتھ آپ کا برتاؤ مشفقانہ اور پدرانہ ہوتا۔ کبھی طلبہ ازراہِ محبت عرض کرتے کہ "آج درس کے بجائے کوئی تازہ کلام سنایا جائے”، تو آپ مسکرا کر چند اشعار سنا دیتے اور محفل کو معطر کر دیتے۔
مشتے نمونہ از خروارے: ؎
حبیبِ کبریا تم ہو، محمد مصطفیٰ تم ہو
ہمیں تو ناز ہے اس پر، ہمارے رہنما تم ہو
؎
روضۂ پاک پہ پڑھتا رہوں ہر وقت سلام
اور دنیا کی ہر اک شے سے کنارہ کرلوں
نظم نگاری اور حالاتِ زمانہ کا اثر:
دارالعلوم دیوبند کے ایک نازک دور (قضیۂ نا مرضیہ) سے متاثر ہوکر آپ نے ایک طویل نظم بھی کہی، جس کا ابتدائی مصرع یوں ہے: ؎
لفظ لفظ بولے گا، داستان سنائے گا
چپ رہیں زباں والے، بے زباں سنائے گا
وصال_ ایک عہد کا اختتام: بالآخر، طویل علالت کے بعد، مورخہ 23 اپریل 2026ء بروز جمعرات علی الصباح یہ اندوہناک خبر موصول ہوئی کہ استاذُ الاساتذہ حضرت مولانا قمر عثمانی شبِ جمعرات کے آخری حصے میں دارِ فانی سے دارِ جاودانی کی طرف کوچ فرما گئے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
دعائے مغفرت: اللّٰہ تعالیٰ حضرت والا کی مغفرتِ تامہ فرمائے، ان کی خدماتِ جلیلہ کو شرفِ قبولیت بخشے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور تمام پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
✍️ ابوالحسنات قاسمی
25 اپریل 2026ء بروز ہفتہ
