ڈاکٹرسراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی۔بجنور
فروری 2026 میں ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی شدید کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک بار پھر اس نکتے پر لا کھڑا کیا جہاں طاقت، مفادات اور اصولوں کے درمیان کشمکش کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کو محض چند ہفتوں کے واقعات کا نتیجہ سمجھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس کے پسِ منظر میں دہائیوں پر محیط ایک تاریخی تنازع کارفرما ہے جس کی جڑیں انقلاب ایران کے بعد پیدا ہونے والی نظریاتی اور سیاسی خلیج میں پیوست ہیں۔
انقلاب کے بعد ایران نے اپنی خود مختار شناخت کو مستحکم کرنے اور بیرونی اثر و رسوخ سے آزادی کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا، جبکہ امریکہ نے اسے خطے میں اپنے مفادات کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا۔ یہی اختلاف وقت کے ساتھ اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی کشمکش کی صورت میں ظاہر ہوتا رہا۔ خاص طور پر Iran Nuclear Deal (JCPOA) سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد ایران پر عائد پابندیوں نے اس کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ بین الاقوامی مبصرین اور اقتصادی جائزوں کے مطابق ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا، تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں اور عوامی سطح پر مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ ایران کے نقطۂ نظر سے یہ اقدامات ایک منظم اقتصادی دباؤ تھے جن کا مقصد اسے عالمی سطح پر کمزور کرنا تھا۔اس کے نتیجہ ایرانی عوام کے دلوں میں بھی امریکی حکمرانوں کے خلاف غم و غصہ پیدا ہوگیا۔
اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری علاقائی کشمکش نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اسرائیل نے اپنے قیام سے ہی عربوں پر ظلم ڈھانے شروع کردیے ،اس کے توسیع پسندانہ نظریات 1967کی عرب اسرائیل جنگ کا پیش خیمہ بنے۔ایران اس راہ میں سد راہ ثابت ہوا اوراسرائیل و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت، اور مختلف علاقوں میں ایک دوسرے کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوششوں نے حالات کو مسلسل کشیدہ رکھا۔ متعدد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور تجزیہ کاروں کے مطابق شام، عراق اور دیگر خطوں میں ہونے والی کارروائیوں نے دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست تصادم کے امکانات کو بڑھایا۔
معاشی پابندیوں اور بیانات کی یہ جنگ ایک سے زائد بار ہتھیاروں ،بموں اور گولہ بارود کی جنگ میں تبدیل ہوگئی ۔ماہ جون 2025میں بھی اسرائیل نے ایران پر حملہ کیااور خطہ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا ۔حالانکہ اس جنگ میں اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی ۔لیکن وہ اپنی حرکتون سے باز نہ آیا۔لبنان اور غزہ میں اس کی جنگی کارروائیاں اس کی گواہ ہیں۔ فروری 2026 میں جب کشیدگی نے شدت اختیار کی تو مختلف واقعات نے اسے ایک کھلی جنگی صورت کے قریب پہنچا دیا۔ اگرچہ اس مرحلے کے تمام جزئیات پر عالمی سطح پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا، تاہم یہ بات واضح ہے کہ محدود فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور سخت بیانات کے تبادلے نے حالات کو نہایت نازک بنا دیا۔ اس صورتِ حال میں یہ تاثر نمایاں ہوا کہ تنازع کی شدت میں اضافہ دو طرفہ عمل نہیں بلکہ امریکہ او ر اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایک ایسے سلسلے کا نتیجہ تھا جس میں طاقت کے استعمال اور دباؤ کی حکمتِ عملی نے اہم کردار ادا کیا۔ انجام کار چالیس روز تک ہولناک جنگ جاری رہی ۔دورانِ جنگ سب سے زیادہ اثرات انسانی اور معاشی سطح پر محسوس کیے گئے۔ بین الاقوامی تجزیوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھا، توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ ایران، جو پہلے ہی اقتصادی دباؤ کا شکار تھا، اس صورتِ حال سے مزید متاثر ہوا۔ دوسری طرف امریکہ کو بھی عالمی سطح پر سفارتی دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر ان حلقوں کی جانب سے جو خطے میں طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس کشیدہ صورتِ حال میں عالمی برادری نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں کیں۔ United Nations نے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی، جبکہ بڑی عالمی طاقتوں نے پس پردہ اور اعلانیہ دونوں سطحوں پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ اس جنگ کا خاص پہلو یہ رہا کہ امریکہ عالمی سطح پر تنہا ہوگیا ۔اس کا ساتھ نہ تو نیٹو ممالک نے دیا نہ کسی دوسر ے ملک سے اس کو مدد ملی ،خود امریکہ میں عوام کی اکثریت اور حزب اختلاف کی جماعتیں اس جنگ میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ہوگئیں ۔رپورٹس کے مطابق کچھ فوجی اہلکاروں نے بھی جنگ کی مخالفت کی اور استعفے تک دے دیے ۔اس صورت حال میں امریکہ کو مذاکرات کے لیے مجبور ہونا پڑا ۔ان مذاکرات کے نتیجہ میں پندرہ روزہ جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔جنگ بندی کے نتیجے میں کشیدگی میں کسی حد تک کمی ضرور آئی اور ایک غیر رسمی نوعیت کی جنگ بندی کی فضا پیدا ہوئی، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ صورتِ حال مستقل امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان، علاقائی مفادات کی کشمکش اور ماضی کے تجربات ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی وقت حالات کو دوبارہ بگاڑ سکتے ہیں۔
مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تو صورتِ حال دو انتہاؤں کے درمیان جھولتی نظر آتی ہے۔ ایک طرف یہ امید موجود ہے کہ عالمی دباؤ اور سفارتی کوششیں کشیدگی کو قابو میں رکھیں گی، جبکہ دوسری طرف یہ خدشہ بھی برقرار ہے کہ کوئی بھی غیر متوقع واقعہ اس تنازع کو دوبارہ شدت اختیار کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود رہیں گے بلکہ پورا خطہ اور عالمی معیشت اس سے متاثر ہوگی۔
ایک انصاف پسند شخص کی نظر سے جب اس تنازع کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ایران کو ایک ایسے فریق کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو طویل عرصے
سے اقتصادی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ موقف سامنے آتا ہے کہ اس پر عائد پابندیاں اور اس کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں اسے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرتی رہی ہیں۔ تاہم ایک سنجیدہ صحافتی تجزیہ یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس مسئلے کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے اور اس کی پیچیدگی کو مدنظر رکھا جائے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اس جنگ نے عالمی سیاسی منظر نامہ کو بدل دیا ہے۔امریکہ کی بالادستی ختم ہوگئی ہے ۔ٹرمپ کے متضاد بیانات اور مختلف کارروائیوں نے خود اس کی اور امریکہ کی ساکھ کو کمزور کردیا ہے ،جب کہ ایران تمام پابندیوں کے باوجود ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔اس کی جرأت مندانہ سیاست نے کمزور و مظلوم طبقات کو بھی حوصلہ دیا اور مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کو بھی اپنی پالیسی پر ازسر نو غور وفکر کرنے پر مجبور کیا ہے ۔
اب صدر ٹرمپ نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے ۔زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اب کوئی بڑی جنگ نہ ہوکیوں کہ دونوں ممالک جنگ کی تباہ کاریوں کو بھگت چکے ہیںاور اگر جنگ ازسر نوشروع ہوئی تو یہ بہت ہولناک ہوگی اور تیسری عالمی جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے ۔ہماری دونوں ممالک سے گزارش ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیںاور عوام کو کسی مشکل میں نہ ڈالیں۔یہی خدا سے ہماری دعا ہے۔
آخرکار یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے کہ جنگ اور کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسائل کا حل عارضی ہوتا ہے، جبکہ دیرپا امن کے لیے انصاف، توازن اور باہمی احترام ناگزیر ہیں۔ یہ کشیدگی اس عالمی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے کہ اگر بنیادی مسائل کو حل نہ کیا جائے تو تنازعات مختلف شکلوں میں دوبارہ سر اٹھاتے رہتے ہیں۔
